?️
سچ خبریں:شام میں جاری بدامنی محض داخلی بحران نہیں بلکہ اسرائیل اور امریکہ کی خفیہ سازش کا حصہ ہے، جس کا مقصد پورے مشرقِ وسطیٰ کو فرقہ وارانہ تقسیم کی آگ میں جھونکنا ہے، یہ فتنہ دیگر عرب ممالک تک بھی پھیلنے کا خطرہ رکھتا ہے۔
شام کے حالیہ پُرتشویش حالات، بین الاقوامی ماہرین کے مطابق، نہ صرف اندرونی تقسیم کا شاخسانہ ہیں بلکہ خطے میں امریکی-اسرائیلی منصوبہ بندی کا ایک اہم ٹکڑا بھی ہیں، جس کا مقصد شام کو تین چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر دینا ہےاور یہ منصوبہ دیگر عرب ریاستوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شام میں موجودہ پیش رفت تباہ کن امریکی اسرائیلی منظر نامے کا ایک چھوٹا سا مجسمہ ہے / اگلے ممالک کون سے ہیں؟
روزنامہ القدس العربی نے اپنی رپورٹ میں اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ تل ابیب شام کے جنوبی علاقے، خاص طور پر دروزی و بدوی قبائل کے درمیان تنازعات کو ہوا دے کر ابو محمد جولانی کی حکومت کی مداخلت کے بہانے، اپنی مداخلت کو جائز بنا رہا ہے۔
اسرائیلی اہداف: دروزی تحفظ یا اسٹریٹیجک کنٹرول؟
صہیونی ریاست نے بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دو بڑے مقاصد طے کیے:
1. خطے کے تمام دروزیوں (شام، لبنان، وادی گولان) کو قائل کرنا کہ اسرائیل ہی ان کا محافظ ہے۔
2. شام میں گہرائی تک اثر رسوخ بڑھا کر جبل الشیخ جیسے اسٹریٹیجک علاقوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا۔
فرانسیسی روزنامہ لیمونتی کے مطابق، اسرائیل کا شام پر حملہ ایسے وقت میں ہوا جب دمشق اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کی طرف بڑھ رہا تھا، جولانی کی حکومت نے صہیونی قبضے کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں کیا تھا، اور امریکہ نے تحریر الشام کو دہشت گرد فہرست سے نکال دیا تھا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ صہیونی جارحیت کا اصل مقصد استحکام روکنا اور خطے کو تفرقہ میں دھکیلنا ہے۔
عبدالباری عطوان کا انتباہ؛یہ شام تک محدود نہیں رہے گا
معروف تجزیہ کار عبدالباری عطوان کا کہنا ہے کہ شام میں جاری نسلی و فرقہ وارانہ انتشار امریکہ و اسرائیل کے مشترکہ منصوبے کا ایک چھوٹا منظر ہے، جو جلد ہی دیگر عرب ریاستوں جیسے مصر، سعودی عرب، الجزائر، ترکی، لبنان، اور عراق تک پھیل سکتا ہے۔
ان کے مطابق جولانی نے صہیونی خواہشات پر عمل کیا؛ مگر اسرائیل نے اسے بھی ذلیل کیا۔
بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد، صرف چند گھنٹوں میں اسرائیل نے 500 سے زائد فضائی حملے کیے تاکہ فوجی تنصیبات، بندرگاہیں اور گودام تباہ کیے جا سکیں،اس کا مقصد محض حکومت کا خاتمہ نہیں بلکہ ملت، تہذیب اور تاریخِ شام کو مٹانا ہے۔
شام کا مستقبل، عرب دنیا کا منظرنامہ
عطوان مزید لکھتے ہیں کہ شام کے شمال اور مشرق میں بھی فرقہ وارانہ فتنہ بھڑکانے کا منصوبہ بن چکا ہے، تاکہ ایک نئی مشرقِ وسطیٰ کی تقسیم سامنے لائی جائے جس پر اسرائیلی بالادستی ہو۔
اس فتنہ کے پھیلاؤ کی صورت میں امریکہ سے اتحاد، اسرائیل سے عادی سازی، اور کھربوں ڈالر کی امداد بھی عرب حکمرانوں کو استحکام کی ضمانت نہیں دے سکے گی۔ تل ابیب کا منصوبہ ان ریاستوں کے قومی وجود کو مٹانا ہے، صرف ان کی حکومتوں کو نہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
اگر ضرورت پڑی تو روس کی داخلی سرحدوں کو نشانہ بنائیں گے: یوکرائن
?️ 14 ستمبر 2022سچ خبریں: یوکرین کے ایک اہلکار نے بدھ کو اعلان کیا کہ
ستمبر
امریکہ کی برجام میں واپسی پابندیاں اٹھانا ہے، بائیڈن کے دستخط کی کوئی اہمیت نہیں
?️ 19 نومبر 2021سچ خبریں: وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے اقوام متحدہ کی
نومبر
اعتماد کھونے کے بعد دوبارہ اعتماد کا ووٹ لینا ڈرامہ ہے،مولانا فضل الرحمان
?️ 5 مارچ 2021اسلام آباد {سچ خبریں} اپوزیشن کی وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کے
مارچ
ایران بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے لیے ایک مثالی ملک: چینی اخبار
?️ 16 فروری 2023سچ خبریں:آیت اللہ رئیسی جو مقامی وقت کے مطابق بیجنگ کے ہوائی
فروری
بھارت فوجی طاقت سے کشمیریوں کو فتح کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا: جی اے گلزار
?️ 12 مارچ 2023سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں
مارچ
حیفا پر حزب اللہ کے حملوں کے بارے میں صیہونی اخبار کا اظہار خیال
?️ 23 ستمبر 2024سچ خبریں: صہیونی ذرائع کے مطابق، اسلامی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے
ستمبر
شام میں خواتین کی خرید و فروخت کا بازار گرم
?️ 10 مئی 2025 سچ خبریں:شام میں الجولانی دہشتگرد گروہ کی پشت پناہی سے خواتین
مئی
غزہ میں نسل کشی اور ویسٹ بینک میں استعمار
?️ 16 نومبر 2025سچ خبریں: یورپی پارلیمنٹ کے بائیں بازو کے رہنما نے غزہ میں جنگی
نومبر