?️
سچ خبریں:علاقائی جنگ کے بعد اسرائیل کے موسومہ اسرائیل کبیر منصوبے پر بحث تیز ہوگئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ منصوبہ صرف توسیع پسندانہ نہیں بلکہ عرب ممالک کی کمزوری اور تقسیم کے ذریعے علاقائی بالادستی کا خاکہ ہے۔
عربوں کی مسلسل بے عملی کے درمیان صہیونی حلقے بدستور موسومہ اسرائیل کبیر منصوبے پر بحث جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حالیہ علاقائی جنگ کے بعد کی پیش رفت کے سائے میں اور ایسے وقت میں جب صیہونی حکومت عرب ممالک کی روایتی خاموشی اور امریکہ کی حمایت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل کبیر کے منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں اور بالخصوص صہیونی انتہا پسند دائیں بازو کے اہداف پر متعدد تجزیات سامنے آ رہے ہیں۔
اسی تناظر میں تاریخی اور سماجی امور کے معروف عرب محقق مازن النجار نے المیادین چینل کے لیے اپنے ایک تجزیہ میں اس منصوبے کے خطے اور دنیا پر ممکنہ اثرات اور خطرات کا جائزہ پیش کیا ہے۔
جب صیہونی دائیں بازو اسرائیل کبیر کی اصطلاح استعمال کرتا ہے تو اسے عموماً اس سرزمین کی توسیع کے تصور کے طور پر سمجھا جاتا ہے جس پر اسرائیل دعویٰ ملکیت رکھتا ہے۔
جعلی صیہونی حکومت کے قیام کے بعد سے یہ حکومت توسیع پسند اور قابض کردار کی حامل رہی ہے جس کا ہدف فلسطینیوں کو بے دخل کرنا رہا ہے اور یہ عمل اب تیز تر ہو چکا ہے۔
صہیونی عناصر کی جانب سے اسرائیل کبیر منصوبے کے نفاذ کی کوششیں عرب سرزمینوں پر بتدریج قبضے کے ساتھ جاری ہیں۔
لیکن اسرائیل کبیر سے مراد دراصل کیا ہے؟ نیتن یاہو اور صیہونی دائیں بازو اس اصطلاح سے کیا مراد لیتے ہیں اور اس کے علاقائی و عالمی اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟
یہ منصوبہ محض سرزمین کی توسیع اور بستیوں کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع جغرافیائی سیاسی منصوبے کی صورت اختیار کر چکا ہے جس کا مقصد علاقائی بالادستی حاصل کرنا اور خطے کو علاقائی طاقتوں کے ساتھ خونی تنازعات کے میدان میں تبدیل کرنا ہے، جس کے نتیجے میں تاریخی تباہی جنم لے سکتی ہے۔
اس کے لیے امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ میں گھسیٹنا اور خلیجی ممالک کو کمزور کرنے کی منظم کوشش شامل ہے، جس کی کامیابی پر خاص طور پر حالیہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کے اہداف کی ناکامی کے بعد شدید شکوک پائے جاتے ہیں۔
گزشتہ تیس ماہ کے دوران صیہونی حکومت نے غزہ کی پٹی کو تقریباً تباہ کر کے دوبارہ اس پر قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد جاں بحق یا زخمی ہوئے، شہری بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا اور آبادی اپنے صرف 12 فیصد علاقے تک محدود ہو گئی۔
مغربی کنارے میں بھی صیہونی حکومت نے 1967 کی جنگ کے بعد سے بے مثال کارروائیوں کے ذریعے تباہی، بے دخلی اور بستیوں کے پھیلاؤ کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
شام میں بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے بعد اسرائیل نے مقبوضہ جولان کے علاوہ بھی شامی علاقوں پر قبضہ کیا اور جنوبی لبنان میں دوبارہ پیش قدمی کی۔
انتہا پسند دائیں بازو کی اتحادی حکومت کے وزرا اور کنیسٹ کے ارکان فلسطینی علاقوں، غزہ اور جنوبی لبنان میں بستیوں کی توسیع اور قبضے کی کھلے عام حمایت کرتے ہیں۔ فاشسٹ وزیر خزانہ بزالل اسموٹریچ نے اسرائیل کو دمشق تک توسیع دینے کا مطالبہ کیا جبکہ نیتن یاہو نے بھی اس علاقائی تصور سے قربت کا اظہار کیا۔
صیہونی حکومت کے سابق مذاکرات کار ڈینیئل لیوی نے برطانوی اخبار گارڈین میں لکھا کہ اسرائیل کبیر صرف ایک علاقائی تصور نہیں بلکہ جغرافیائی سیاسی اور اسٹریٹجک منصوبہ ہے، تاہم نیتن یاہو کا ہدف محض زمین پر قبضہ نہیں بلکہ نئی اتحادی صف بندیوں اور عسکری طاقت کے ذریعے علاقائی بالادستی قائم کرنا ہے۔
طوفان الاقصیٰ کے واقعات اور غزہ میں شدید تباہی کے بعد عرب اور عالمی رائے عامہ میں ردعمل بڑھا، جس کے نتیجے میں اسرائیل کی علاقائی انضمام اور عرب حکومتوں کے ساتھ تعلقات کی معمول پر واپسی کی کوششوں کو دھچکا لگا۔
نیتن یاہو کے سامنے دو راستے تھے؛ یا تو فلسطینیوں کے ساتھ سمجھوتے کے ذریعے علاقائی معمول سازی کو بحال کیا جائے یا فلسطینی مستقبل کو مسترد کرتے ہوئے صفر جمع کے موقف پر قائم رہا جائے۔ انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا جس کے لیے ایران کو علاقائی توازن سے باہر کرنا ضروری تھا اور اس مقصد کے لیے امریکہ کی براہ راست عسکری مداخلت درکار تھی۔
لیوی کے مطابق بعض سابق صیہونی سکیورٹی حکام نے لکھا کہ خطے کے اہم عرب ممالک سمجھتے ہیں کہ ایران کی حکومت کا خاتمہ یا شدید کمزوری اسرائیل کو علاقائی برتری فراہم کرے گی۔ اس ہدف کے لیے نہ صرف ایران بلکہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک کو بھی کمزور کرنا ہوگا تاکہ وہ سلامتی اور توانائی برآمدات کے لیے اسرائیل پر انحصار کریں۔
اسی تناظر میں جنگ کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیجی ممالک کی عالمی منڈیوں تک رسائی متاثر ہوئی اور توانائی کے ڈھانچے پر حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
نیتن یاہو نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کے متبادل راستوں اور جزیرہ نمائے عرب سے اسرائیل اور بحیرہ روم کی بندرگاہوں تک تیل و گیس پائپ لائنوں کی توسیع کی بات کی۔
انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کے دوران ایک چھ فریقی اتحاد کا تصور پیش کیا جس میں بھارت، عرب ممالک، افریقی ممالک، یونان و قبرص سمیت بحیرہ روم کے ممالک اور بعض ایشیائی ریاستیں شامل ہوں اور اسرائیل اس اتحاد کا مرکزی محور ہو۔
ایک عبرانی تجزیہ میں، جو صیہونی فوج کے اسٹریٹجک ادارے کے دو سینئر افراد نے تحریر کیا، کہا گیا کہ صیہونی فوج نہ صرف علاقوں پر حملہ کرے گی بلکہ اسرائیل سے دور علاقوں میں بھی عملی کنٹرول حاصل کرے گی تاکہ اسے جنگل کے بادشاہ کی حیثیت حاصل ہو اور علاقائی نظم تشکیل دیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے حالیہ تقاریر میں اسرائیل کو نہ صرف علاقائی بلکہ کبھی کبھار عالمی طاقت کے طور پر بھی پیش کیا اور اسے ایک پائیدار علاقائی اتحاد کے مرکز میں رکھنے کی بات کی۔
امریکی محقق جان ہوفمین کے مطابق یہ تصور اس گمان پر مبنی ہے کہ واشنگٹن طاقت کے ذریعے خطے کو نئی شکل دے سکتا ہے، حالانکہ ماضی کی طرح یہ کوشش بھی سنگین اخراجات اور عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے۔ ان کے بقول امریکہ کی مسلسل حمایت خطے میں دائمی کشیدگی کو یقینی بناتی ہے اور امریکی مفادات کو نقصان پہنچاتی ہے۔
برطانوی مورخ اینڈی ورتھنگٹن نے خبردار کیا کہ اگر یہ روش جاری رہی تو غزہ کا ماڈل دیگر علاقوں میں بھی دہرایا جا سکتا ہے اور عالمی سطح پر توانائی اور معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
امریکی مصنف جاش بازیل کا کہنا ہے کہ اسرائیل کبیر محض نظریہ نہیں بلکہ ایک جاری منصوبہ ہے جو مرحلہ وار آگے بڑھ رہا ہے اور اگر اسے روکا نہ گیا تو یہ ہمارے عہد کی بڑی تباہیوں میں سے ایک ثابت ہو سکتا ہے۔
اس پس منظر میں بہت سے مبصرین کو 1982 میں صہیونی سفارت کار عودید ینون کے اس تجزیہ کی یاد آتی ہے جس میں انہوں نے اسرائیل کی برتری کے لیے عرب ممالک کی تقسیم کو ضروری قرار دیا تھا۔ ینون کے مطابق عرب ریاستوں کو نسلی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر چھوٹے چھوٹے وحدتوں میں تقسیم کرنا اسرائیل کے لیے طویل مدتی اسٹریٹجک فائدہ فراہم کر سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کی پالیسیاں اور ان کی کابینہ کے اقدامات اس تصور کی بازگشت معلوم ہوتے ہیں، خصوصاً اردن ویلی کے الحاق اور بستیوں کی توسیع کے وعدوں کے تناظر میں۔
دوسری جانب بعض صیہونی وزرا نے غزہ کے مکینوں کو مصر یا دیگر ممالک منتقل کرنے کی بات کی ہے، جسے ناقدین خطے میں مزید عدم استحکام کا پیش خیمہ قرار دیتے ہیں۔
تجزیہ کے اختتام پر اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ عرب حکومتوں کی بے عملی ایسے منصوبوں کے لیے راستہ ہموار کر سکتی ہے اور اگر علاقائی سطح پر مؤثر ردعمل نہ آیا تو خطہ مزید تقسیم اور کشیدگی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
اسرائیل کبیر,عودید ینون منصوبہ,عرب ممالک کی تقسیم,نیتن یاہو پالیسی,غزہ جنگ,خلیجی ممالک,علاقائی بالادستی,صہیونی دائیں بازو,مشرق وسطیٰ کشیدگی,امریکی حمایت


مشہور خبریں۔
افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو اہم پیشکش کردی
?️ 29 اپریل 2021کابل (سچ خبریں) افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو اہم پیشکش
اپریل
یوکرین کے توپ خانے پر روسی فوج کا حملہ
?️ 18 ستمبر 2022سچ خبریں: اتوار کو روسی وزارت دفاع کے ترجمان نے ایک پریس
ستمبر
کیا غزہ میں جنگ بندی سے بحیرہ احمر میں فوجی محاذ آرائی ختم ہوجائے گی؟
?️ 29 فروری 2024سچ خبریں:مغربی ایشیا کے علاقے کے ایک ماہر نے بحیرہ احمر میں
فروری
امریکی کانگریس کی قرارداد کے بارے میں چیئرمین پاکستان علماء کونسل کا بیان
?️ 30 جون 2024سچ خبریں: چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے بیان
جون
ہم جنگ میں ملوث ممالک کو ہتھیار برآمد نہیں کریں گے: چین
?️ 10 جولائی 2025سچ خبریں: چین کے اسرائیل میں واقع سفارت خانے نے "مڈل ایسٹ
جولائی
امریکی اور اسرائیل کی جنگ بندی کی مشقوں پر حزب اللہ کا ردعمل
?️ 2 نومبر 2024سچ خبریں: گزشتہ چند دنوں سے امریکی اور صیہونی میڈیا نے لبنان
نومبر
بنیامین نیتن یاہو کو کنارے کرنے کے لیے بینٹ اور لاپید متحد ہو گئے
?️ 27 اپریل 2026سچ خبریں: سابق وزیراعظم نفتالی بینٹ اور حزب اختلاف کے رہنما یائیر
اپریل
امریکہ میں پاک بحریہ کے سربراہ کی اعلیٰ عسکری و دفاعی حکام سے ملاقاتیں، بحری سلامتی پر تبادلہ خیال
?️ 18 اکتوبر 2025امریکہ میں پاک بحریہ کے سربراہ کی اعلیٰ عسکری و دفاعی حکام
اکتوبر