?️
سچ خبریں:برطانوی اخبار گارڈین نے اپنے تجزیے میں ایران کے خلاف امریکی جنگ کو ویتنام جنگ سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس تنازع نے امریکہ کی عسکری، سفارتی اور تزویراتی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ جنگ عالمی نظام، توانائی کی منڈیوں اور خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین نے اپنے سفارتی امور کے سربراہ Patrick Wintour کے تحریر کردہ ایک تجزیاتی کالم میں ایران کے خلاف امریکی جنگ کے جغرافیائی سیاسی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے اسے ویتنام جنگ سے تشبیہ دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ جنگ امریکہ کی عالمی حیثیت، اس کی تزویراتی سوچ اور جدید دنیا کے بارے میں اس کے تصورات کے لیے ایک اہم آزمائش ثابت ہوئی۔
مختصر جنگ، مگر ویتنام سے بھی بڑے اثرات
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ایران کے خلاف جنگ فوجی حجم اور جانی نقصانات کے اعتبار سے ویتنام جنگ کے برابر نہیں تھی، لیکن اس کے تزویراتی نتائج امریکہ کی عالمی طاقت کے زوال کے حوالے سے ایک زیادہ اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔
امریکہ کی مطلق طاقت کا تصور چکنا چور
گارڈین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیش رو صدور کی طرح عسکری برتری اور ناقابل شکست ہونے کے تصور پر انحصار کرتے ہوئے جنگ کا آغاز کیا، لیکن انہیں ایک ایسے ملک کا سامنا کرنا پڑا جس نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس جنگ کے مقاصد ابتدا ہی سے غیر واضح تھے جبکہ اس کی منصوبہ بندی اور بنیادی مفروضے بھی کمزور ثابت ہوئے۔
ایران میں نظام کی تبدیلی کی صیہونی حکمت عملی ناکام
تجزیے کے مطابق 2026 کی جنگ نے ایران میں نظام کی تبدیلی کے لیے اسرائیل کی دو دہائیوں پر محیط حکمت عملی کو عملاً ناکام بنا دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کی حکومت نہ صرف برقرار رہی بلکہ ابتدائی حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں کے بعد اپنے ریاستی ڈھانچے کی بحالی اور دفاعی بازدارندگی کو دوبارہ مضبوط بنانے میں کامیاب رہی۔
آبنائے ہرمز کی جغرافیائی سیاسی اہمیت ثابت ہو گئی
گارڈین نے لکھا کہ جنگ کے دوران ایران نے محسوس کیا کہ اس کی جغرافیائی حیثیت اور عالمی معیشت کا باہمی انحصار اسے ایک طاقتور تزویراتی ہتھیار فراہم کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے امکان نے عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی معیشت کو تہران کے اقدامات کے مقابلے میں حساس بنا دیا۔
ٹرمپ کی دھمکیوں پر مبنی سفارت کاری ناکام
رپورٹ میں ٹرمپ کا موازنہ سابق امریکی صدر Richard Nixon سے کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کا خیال تھا کہ مسلسل دھمکیوں اور غیر متوقع رویے کے ذریعے ایران کو پسپائی پر مجبور کیا جا سکتا ہے، لیکن ویتنام کی طرح یہ حکمت عملی ایران کے مزاحمتی رویے کے سامنے مؤثر ثابت نہ ہو سکی۔
امریکہ اور مغربی نظام کی عالمی حیثیت متاثر
تجزیے کے مطابق ایران کے خلاف جنگ نے امریکہ کی قیادت میں قائم بین الاقوامی نظام کو دھچکا پہنچایا ہے اور واشنگٹن کے اتحادیوں کو اپنے علاقائی اور سکیورٹی تعلقات پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ خلیج فارس کے عرب ممالک اب پہلے کے مقابلے میں ایران کے ساتھ زیادہ آزادانہ تعاون پر غور کر رہے ہیں۔
ڈرونز نے روایتی عسکری برتری کو چیلنج کر دیا
گارڈین کے مطابق اس جنگ نے واضح کر دیا کہ ڈرون جدید جنگوں میں توازن پیدا کرنے والی ایک اہم قوت بن چکے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران نے اس حقیقت کو امریکی محکمہ دفاع سے بہتر انداز میں سمجھا اور نسبتاً کم لاگت کے ذریعے امریکی میزائل ذخائر اور مالی وسائل پر دباؤ ڈالنے میں کامیابی حاصل کی۔
یورپ جنگ کے معاشی اثرات سے پریشان
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والا معاشی دباؤ یورپ کی اعتدال پسند حکومتوں کے لیے سیاسی اور انتخابی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ تجزیے کے مطابق فرانس، جرمنی اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک میں داخلی سیاسی استحکام متاثر ہو سکتا ہے اور یورپی اتحاد کو بھی نئے چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ کی مخمصے کی صورتحال
گارڈین نے لکھا کہ ٹرمپ اس وقت ایک ایسی صورتحال سے دوچار ہیں جو کسی حد تک ویتنام جنگ کے دوران امریکی صدر Lyndon B. Johnson کی کیفیت سے مشابہ ہے۔ ایک طرف جنگ کا تسلسل مہنگا اور فرسایشی ہے جبکہ دوسری طرف پسپائی کو کھلی ناکامی تصور کیا جا سکتا ہے۔
نتیجہ
گارڈین کے تجزیے کے مطابق ایران کے خلاف جنگ صرف ایک عسکری کارروائی کی ناکامی نہیں بلکہ جدید دنیا کے بارے میں امریکی فہم کے بحران کی علامت بھی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں صرف فوجی طاقت، دباؤ اور پابندیاں کسی ملک کی مرضی مسلط کرنے کے لیے کافی نہیں رہیں، جبکہ ایران جیسے ممالک جغرافیائی محل وقوع، عالمی معیشت اور سیاسی عزم کے ذریعے طاقت کے روایتی توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
اسکاٹ لینڈ-اسرائیل میچ میں تنازع، وجہ؟
?️ 2 جون 2024سچ خبریں: یورو ۲۰۲۵ کے انتخابی میچ کے دوران، فلسطین کے حامی
جون
کیا نیتن یاہو یمنیوں کے سامنے ہتھیار ڈالیں گے ؟
?️ 25 جولائی 2024سچ خبریں: صہیونی اخبار Ha’aretz نے اپنی ایک رپورٹ میں یمن اور
جولائی
اسرائیلی وزیر: ترکی میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے
?️ 14 ستمبر 2025سچ خبریں: سخت گیر صہیونی وزیر نے ترکی میں حماس کے رہنماؤں
ستمبر
عامر خان نے میرے ٹی وی پروگرام سے متاثر ہوکر شو شروع کیا، حنا خواجہ بیات
?️ 13 جنوری 2025کراچی: (سچ خبریں) معروف اداکارہ و ٹی وی میزبان حنا خواجہ بیات
جنوری
ٹیکسٹائل، زراعت پر ٹیکس چھوٹ کو ختم کیا جائے، آئی ایم ایف کا مطالبہ
?️ 14 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی مالیاتی ادارے نے مطالبہ کیا ہے کہ
اکتوبر
امریکہ نے چین،جاپان اور بھارت سے تیل کے ذخائر چھوڑنے کا مطالبہ کیا
?️ 18 نومبر 2021سچ خبریں: رائٹرز نے بائیڈن کی درخواست کو غیر معمولی قرار دیتے
نومبر
امریکہ نے بے نتیجہ وعدوں کے مطابق فلسطین کے خلاف کارروائی کا مظاہرہ کیا
?️ 10 جون 2022سچ خبریں: ایک غیر موثر اور ڈرامائی اقدام میں امریکی محکمہ خارجہ
جون
اسرائیلی فوج کا افسانوی خاتمہ؛ اسرائیلی فوج اندر سے کیسے ٹوٹ رہی ہے؟
?️ 10 دسمبر 2025سچ خبریں: ایک زمانے میں خود کو خطے کی طاقتور ترین فوج
دسمبر