?️
(سچ خبریں) امریکہ چین کے خلاف ایک بہت بڑی سرد جنگ میں مصروف ہے لیکن چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکہ کو اس جنگ میں کامیابی ملتی ہوئی نظر نہیں آتی اسی لیئے وہ پوری کوشش کررہا ہے کہ اس جنگ میں مسلم ممالک کو اپنی طرف کرلے تاکہ چین کا مقابلہ کیا جا سکے۔
یہ تو واضح ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان نئی سرد جنگ جاری ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سابق سوویت یونین کی طرح اس بار بھی کامیابی امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو نصیب ہو گی؟ یا امریکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا بہانہ بنا کر چین کے خلاف فوجی اقدام کرے گا اور عرب ممالک ایک بار پھر اس جنگ کے تمام تر اخراجات ادا کرنے پر تیار ہو جائیں گے؟
ان سوالات کا جواب پانے کیلئے ہمیں کچھ حالات کا تجزیہ کرنا پڑے گا، موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن نے دنیا پر امریکی اثر و رسوخ کو چین کی سیاسی، اقتصادی اور فوجی طاقت سے درپیش خطرات کے تناظر میں اس ملک کے خلاف سرد جنگ کا آغاز کر دیا ہے جو امریکہ کا سب سے بڑا اسٹریٹجک حریف سمجھا جاتا ہے۔
امریکہ کی نئی حکمت عملی چند اقدامات پر مشتمل ہے جن میں سے بعض ماضی میں پہلی سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کے مقابلے میں انجام پانے والے امریکی اقدامات سے مشابہت رکھتے ہیں، یہ اقدامات درج ذیل ہیں:
1۔ امریکہ کی سربراہی میں "جمہوریتوں کا نیا اتحاد” تشکیل پانا اور یورپی ممالک کے تعاون سے دنیا میں ایسے ممالک کے خلاف مہم کا آغاز جن کی طاقت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، ایسے ممالک میں خاص طور پر چین اور اس کے بعد روس شامل ہے، یہ اقدام متضاد آئیڈیالوجیز کی بنیاد پر دنیا کی تقسیم کا باعث بنے گا۔
2۔ امریکہ کے ایوان بالا، سینیٹ میں ایک نیا قانونی مسودہ منظوری کیلئے پیش کیا جا رہا ہے جسے اسٹریٹجک مقابلوں کا قانون کا نام دیا گیا ہے، اس قانون کے ذریعے امریکی حکومت کو چین کی جانب سے پیش کردہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی اجازت دی جائے گی، اس قانون کی روشنی میں امریکی حکومت چین کی جانب سے کاپی رائٹس کی چوری کے مسئلے پر زور دینے اور تائیوان سے تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش کرے گی۔
یاد رہے امریکہ چین پر کاپی رائٹس کی چوری کا الزام عائد کرتا آیا ہے جسے بیجنگ نے مسترد کیا ہے اور اسے چین کی اقتصادی ترقی روکنے کا بہانہ قرار دیا ہے۔ دونوں ممالک میں تجارتی تعلقات میں کشیدگی بھ عروج پر ہے۔
3۔ چین کی جانب سے ہانگ کانگ اور اویغور قبیلے سے تعلق رکھنے والے مسلم اکثریتی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ایشو اٹھانا۔
مذکورہ بالا تین اقدامات کے علاوہ تائیوان کو جدید اسلحے کی بڑی کھیپ فراہم کرنا اور تائیوان اور چین کے درمیان واقع خلیج میں امریکی جنگی کشتیوں اور طیارہ بردار جنگی جہازوں کی جنگی مشقیں انجام دینا بھی امریکی حکمت عملی میں شامل ہیں۔
امریکہ کا یہ اقدام شدید اشتعال آمیز تھا اور اس کے ردعمل میں چین نے اپنی جنگی کشتیاں علاقے میں بھیج دی تھیں۔ اسی طرح امریکہ نے چین کی سات آئی ٹی کمپنیوں پر پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔ ان کمپنیوں کی مصنوعات چین کی دفاع صلاحیتوں میں بے پناہ اضافے کا باعث بنی ہیں۔ جو بائیڈن کی سربراہی میں امریکی حکومت ان اقدامات کے ذریعے زمانے کو پیچھے کی جانب پلٹانا چاہتی ہے اور نصف صدی پہلے سابق سوویت یونین کے خلاف شدید سرد جنگ والی صورتحال دوبارہ پیدا کرنے کے درپے ہے۔
امریکی حکومت کا خیال ہے کہ وہ حکمت عملی جو ماضی میں سابق سوویت یونین کی شکست اور زوال کا سبب بنی تھی، آج چین کی شکست اور زوال کا بھی سبب بن سکتی ہے، لیکن یہ امریکہ کی بہت بڑی غلطی ہے، امریکہ نے گذشتہ بیس برس کے دوران ٹیکنالوجی اور فوجی شعبے میں چین کی ترقی سے غفلت برتی ہے۔
دوسری طرف امریکہ نے سابق سوویت یونین کے خلاف پرانی حکمت عملی کی پیروی کرتے ہوئے خلیجی ریاستوں کو اپنے ساتھ ملا رکھا ہے، لیکن آج حقیقت ماضی سے بہت زیادہ مختلف ہے۔ جو بائیڈن نے عرب ممالک کو اپنے جمہوری اتحاد میں شامل کیا ہے جبکہ خود عرب ممالک میں جمہوریت کا نام و نشان تک نہیں پایا جاتا، یہ ایسا اقدام ہے جو جمہوریت کے نام پر تشکیل پانے والے امریکی اتحاد کیلئے شدید نقصان دہ ثابت ہو گا۔
چین کے خلاف امریکی حکمت عملی کی ایک اور بڑی کمزوری چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو بنیاد بنا کر اسلامی دنیا کو چین کے خلاف اپنے ساتھ ملانے کی کوشش ہے۔
امریکہ جو عراق پر حملہ ور ہو کر اسے نابود کر چکا ہے اور کروڑوں افراد کی موت کا سبب بنا ہے یا امریکہ جس نے شام اور لیبیا میں فوجی مداخلت کر کے وہاں بدامنی پھیلائی ہے، کس طرح انسانی حقوق کی بات کر سکتا ہے؟ اور اس بنیاد پر مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملا سکتا ہے؟ آج کے حالات پچاس برس پہلے کے حالات سے بہت مختلف ہیں، چین تیزی سے اقتصادی اور فوجی میدان میں ترقی کر رہا ہے۔
دوسری طرف امریکہ کے اتحادی عرب ممالک ایک عرصے سے شدید اقتصادی مشکلات کا شکار ہیں اور روز بروز ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ان تمام باتوں سے اس بات کا واضح اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ کی یہ نئی حکمت عملی امریکہ کے لیئے زیادہ مفید ثابت نہیں ہوپائے گی اور امریکہ کو اس جنگ میں شدید ذلت اور ناکامی کا سامنا کرنا پرے گا۔


مشہور خبریں۔
اسرائیل میں امریکی سفیر: یمن معاہدے کے لیے امریکا کو اسرائیل سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے
?️ 10 مئی 2025سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کے یمن پر حملے بند کرنے
مئی
اسرائیل اور سید حسن نصراللہ نامی ایک ڈراؤنا خواب!
?️ 29 مئی 2023سچ خبریں:صہیونی جنرل نے ماریو اخبار کے ایک نوٹ میں تاکید کی
مئی
پل میں تولا، پل میں ماشہ؛ انوکھی امریکی سیاست
?️ 21 جون 2023سچ خبریں:امریکی وزیر خارجہ کے دورہ بیجنگ کے ایک روز بعد ایک
جون
ایرانی صدر کا دورۂ لاطینی امریکہ اور عالمی میڈیا
?️ 22 جون 2023سچ خبریں:ایرانی صدر کے لاطینی امریکہ کے دورے سے متعلق کیے جانے
جون
پاکستان کے مفاد میں جو نہیں ہوگا وہ نہیں کریں گے: معید یوسف
?️ 27 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی
جون
ترکی اور پاکستان کے مابین گن شپ ہیلی کاپٹرز معاہدہ، امریکا نے رکاوٹ ڈال دی
?️ 10 مارچ 2021انقرہ (سچ خبریں) ترکی اور پاکستان کے مابین گن شپ ہیلی کاپٹرز
مارچ
قطر سے ہونے والے معاہدے میں ملک کو ہر سال 30 کروڑ ڈالر کا فائدہ ہوگا:عمران خان
?️ 26 فروری 2021لاہور(سچ خبریں) لاہور میں گرین بزنس ڈسٹرکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی
فروری
امریکیوں نے ممالک کے حکام سے لاوروف کے ساتھ تصاویر نہ لینے کی التجا کی
?️ 24 جولائی 2022روسی سفارتی سروس کی ترجمان ماریا زاخارووا کے مطابق، مختلف ممالک میں
جولائی