?️
سچ خبریں:ایران کی مسلح افواج نے امریکی حملوں کے جواب میں متعدد فوجی کارروائیاں کرتے ہوئے کویت، بحرین، اردن اور خلیج فارس میں امریکی فوجی اڈوں، دفاعی نظام، لاجسٹک مراکز اور بحری اہداف کو میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں سے نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔
امریکہ کی مسلسل جارحیت کے جواب میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے متعدد علیحدہ کارروائیوں کے دوران امریکی فوج کے کمانڈ مراکز، فضائی اڈوں، دفاعی نظام، لاجسٹک تنصیبات اور بحری اہداف کو میزائل، ڈرون اور بحری حملوں سے نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
ایران کی مسلح افواج کی جانب سے خطے میں امریکی فوج کے ٹھکانوں اور مفادات کے خلاف جاری کارروائیوں کے تسلسل میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے مختلف آپریشنز کے دوران دشمن کے فوجی، لاجسٹک اور امدادی اہداف کو نشانہ بنایا۔
کویت میں امریکی اہم مراکز پر فوج کا ڈرون حملہ
پہلی کارروائی میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے خودکش ڈرونز کے ذریعے کویت میں امریکی فوج کے مواصلاتی نظام، ایندھن کے ذخائر، پیٹریاٹ دفاعی نظام، کنٹرول ٹاور اور اسلحہ گودام کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔
بیان کے مطابق یہ اہداف کویت میں امریکی افواج کے ایک اہم لاجسٹک اور آپریشنل مرکز میں واقع تھے، جہاں سے شمالی خلیج فارس میں امریکی فوجی پروازوں کی نگرانی، لاجسٹک معاونت، ایندھن کی فراہمی اور دفاعی نظام کی تنصیب کا انتظام کیا جاتا ہے اور اسے علاقائی فوجی کارروائیوں کی معاونت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اسی دوران اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ نے بھی امریکہ کے میزائل حملوں کے جواب میں کروز میزائل داغ کر ایک امریکی جنگی بحری جہاز کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا، بیان کے مطابق یہ جہاز خطے میں امریکی بحری یونٹوں کی معاونت اور سمندری سلامتی کے مشن پر تعینات تھا۔
آبنائے ہرمز میں امریکی ناکامی اور دو سپر آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ان کارروائیوں کے تسلسل میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اعلان کیا کہ امریکی فوج نے سابقہ ناکامیوں سے سبق نہ سیکھتے ہوئے بعض جہازوں کو غیر قانونی راستے سے گزرنے پر اکسایا۔
بیان کے مطابق دو سپر آئل ٹینکر، جنہوں نے اپنے نیوی گیشن نظام بند کر دیے تھے اور آبنائے ہرمز کے سکیورٹی کنٹرول مرکز کی متعدد وارننگز کو نظر انداز کرتے ہوئے بارودی سرنگوں والے راستے کا انتخاب کیا، سمندری سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے بعد نشانہ بنائے گئے اور ناکارہ ہو گئے۔
اس کے بعد امریکی فوج نے جنوبی ایران کے ساحلی اسٹیشنوں اور دیگر فوجی مراکز پر فضائی حملے کیے۔
آپریشن نصر 2 کی دوسری لہر، بحرین کے الجفیر فوجی اڈے پر حملہ
اس کارروائی کے جواب میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے آپریشن نصر 2 کی دوسری لہر کے پہلے مرحلے میں "یا لثارات الحسین علیہ السلام” کے رمز کے ساتھ بحرین کے الجفیر فوجی اڈے پر متعدد اسلحہ گوداموں، سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز اور امریکی فوجیوں کی رہائشی عمارتوں کو میزائلوں اور جنگی ڈرونز سے نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا اعلان کیا۔
الجفیر اڈہ بحرین میں امریکی بحری افواج کا سب سے بڑا مرکز اور امریکی پانچویں بحری بیڑے کی اہم لاجسٹک تنصیبات میں شمار کیا جاتا ہے۔ امریکی بحری کارروائیوں کی کمان، مواصلات، فوجیوں کی رہائش اور خلیج فارس میں بحری آپریشنز کی معاونت کا بڑا حصہ اسی اڈے سے انجام دیا جاتا ہے۔
امریکی پانچویں بحری بیڑے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
آپریشن نصر 2 کی دوسری لہر کے دوسرے مرحلے میں سپاہ کی بحری اور فضائیہ کے دستوں نے بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے پر میزائل اور ڈرون حملہ کرتے ہوئے اس کے ایندھن کے ذخائر کو آگ لگا دی، جبکہ پیٹریاٹ ریڈار، فضائی کنٹرول ریڈار اور سی رام ابتدائی انتباہی ریڈار نظام کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا اعلان کیا۔
امریکی پانچواں بحری بیڑہ خلیج فارس، بحیرہ عمان، بحیرہ احمر اور بحر ہند کے بعض حصوں میں امریکی بحری کارروائیوں کی نگرانی کا ذمہ دار ہے اور مغربی ایشیا میں امریکہ کے اہم فوجی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ پیٹریاٹ اور سی رام نظام اس اڈے کے بنیادی فضائی دفاعی نظام کا حصہ ہیں، جو میزائلوں، راکٹوں اور ڈرونز کے مقابلے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
سپاہ کے مطابق اس مرحلے میں بغیر پائلٹ بحری کشتیوں کے کنٹرول اور نگرانی کے مرکز کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، جہاں سے جاسوسی اور بحری کارروائیوں میں استعمال ہونے والی بغیر پائلٹ کشتیوں کی رہنمائی کی جاتی تھی۔
آپریشن نصر 2 کی دوسری لہر کا تیسرا مرحلہ، اردن میں امریکی فضائی اڈے پر میزائل حملہ
آج علی الصبح آپریشن نصر 2 کی دوسری لہر کے تیسرے مرحلے میں یا لثارات الحسین کی رمز کے ساتھ اردن میں امریکی فوج کے زیر استعمال ایک فضائی اڈے پر تعینات امریکی افواج اور اہم تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا۔
بیان کے مطابق یہ فضائی اڈہ خطے میں امریکی فوج کی اہم آپریشنل اور لاجسٹک تنصیبات میں شمار ہوتا ہے اور گزشتہ برسوں کے دوران جنگی طیاروں، ڈرونز، جاسوس طیاروں اور فضائی کارروائیوں کی معاونت کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔
فوجی ذرائع کے مطابق حالیہ ایران مخالف حملوں میں بھی اس اڈے کو استعمال کیا گیا تھا اور اس کارروائی میں اس کی اہم تنصیبات اور امریکی فوجیوں کے مراکز بیلسٹک میزائلوں کی زد میں آئے۔
جارحیت کے خلاف جواب جاری رکھنے پر زور
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں انجام دی گئی ہیں جب اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج پہلے ہی واضح کر چکی تھیں کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے قومی مفادات اور سلامتی کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کا بھرپور، متناسب اور دشمن کے اندازوں سے بڑھ کر جواب دیا جائے گا۔
حالیہ کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کی جوابی کارروائیوں کی فہرست میں امریکی کمانڈ مراکز، دفاعی نظام، لاجسٹک تنصیبات، فضائی اڈے، جنگی بحری جہاز اور خطے میں موجود امریکی امدادی مراکز شامل ہیں۔


مشہور خبریں۔
بلوچستان میں وزیر اعظم کی قیادت میں تاریخی کام ہو رہا ہے: اسد عمر
?️ 6 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا
جولائی
صومالیہ میں اسرائیل کی کوئی بھی موجودگی یمن کے لیے ایک فوجی ہدف ہے
?️ 29 دسمبر 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت صومالی لینڈ کے گیٹ وے کے ذریعے یمن،
دسمبر
9 مئی جلاؤ گھیراؤ کیس: شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں پر فرد جرم عائد
?️ 12 دسمبر 2024لاہور: (سچ خبریں) لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی
دسمبر
سائنس دانوں کی امریکہ کے بجائے چین میں رہنے کو ترجیح
?️ 23 اپریل 2023سچ خبریں:اقتصادی تعاون اور ترقی تنظیم کے شائع کردہ اعداد و شمار
اپریل
آج سے ملک بھر میں عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات منارہے ہیں، عبدالقادر پٹیل
?️ 25 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے صحت عبدالقادر پٹیل نے کہا ہے
اپریل
ڈیموکریٹس کی جیت،دو خواتین ورجینیا اور نیو جرسی کی گورنر بن گئیں
?️ 6 نومبر 2025ڈیموکریٹس کی جیت،دو خواتین ورجینیا اور نیو جرسی کی گورنر بن گئیں
نومبر
صیہونی حکومت کا غلط اندازہ؛ ایران نے جنگ کی مساوات کو کیسے بدلا؟
?️ 15 جون 2025سچ خبریں: جمہوریہ اسلامی ایران نے انتہائی قلیل وقت میں تل ابیب کو
جون
وزیراعظم شہباز شریف پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب
?️ 27 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی اسمبلی میں وزیر اعظم شہباز شریف کے
اپریل