?️
سچ خبریں:طوفان الاقصیٰ کے معرکے یہ واضح کر دیا ہے کہ بحیرہ احمر کے خطے میں مزاحمت کی سب سے طاقتور قوت، یمن کی اسلامی مزاحمتی تحریک انصار اللہ ہے، امریکی جارحیت، امارات کی حمایت یافتہ زمینی کارروائیاں اور الحدیدہ پر ممکنہ قبضے کی کوششیں، خطے کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
زمینی حملے کی تیاری اور امریکی مداخلت کا نیا دور
امریکی فوج کی جانب سے یمن کے شمال، مغرب اور مرکز پر مارچ 2025 سے جاری فضائی حملوں کے بعد اب یہ اطلاعات سامآ رہی ہیں کہ جنوبی یمن سے ایک وسیع زمینی حملہ صنعا، الحدیدہ، صعدہ اور تعز کی جانب شروع کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یمن کے شہر الحدیدہ کے ایک علاقے پر فضائی حملہ
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، یہ حملہ اماراتی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل (STC) کی جانب سے ممکن ہے، جبکہ امریکی سینٹکام فضائی مدد فراہم کرے گا۔
اس حملے کے امکانات اس وقت بڑھ گئے جب اسرائیلی ساختہ ریڈارز کو شمالی صومالیہ میں نصب کیا گیا، تاکہ امارات پر ممکنہ حملوں سے بچاؤ کیا جا سکے، سعودی عرب، جو 8 سالہ جنگ کے بعد محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے، اب نئی مہم جوئی کا حصہ بنمیں دلچسپی نہیں رکھتا۔
امریکہ کی براہِ راست فوجی مداخلت
15 مارچ 2025 سے امریکی حملے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، ان حملوں میں جدید لڑاکا طیارے، بحری جہاز اور کروز میزائل استعمال ہو رہے ہیں جنہوں یمنی انفرااسٹرکچر اور معیشت کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری ہلاکتیں ہوئیں اور ایک شدید انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔
عالمی ردعمل دوٹوک نہیں رہا؛ بعض مغربی ممالک ان حملوں کی حمایت کی جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد ریاستوں ان حملوں کو یمن کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
الحدیدہ پر قبضے کی منصوبہ بندی: اماراتی اہداف اور خطے میں رسہ کشی
الحدیدہ کی بندرگاہ یمن کا اسٹریٹجک دروازہ ہے، جہاں سے انسانی امداد کا بڑا حصہ داخل ہوتا ہے۔ اگر STC الحدیدہ پر قبضہ کرتا ہے تو یہ یمن میں طاقت کی نئی تقسیم کی راہ ہموار کرے گا، جہاں جنوبی عبوری کونسل کی خودمختاری کی کوششیں مزید تقویت پکڑیں گی۔
امارات، اس حملے کے ذریعے بحیرہ احمر کے ساحل پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنا چاہتا ہے، جبکہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ یہ بندرگاہ اس کے حمایت یافتہ گروہوں کے کنٹرول میں رہے۔ اس مفاداتی ٹکراؤ دو امریکی اتحادیوں کے درمیان اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
انسانی بحران اور بین الاقوامی تشویش
اگر الحدیدہ پر حملہ ہوتا ہے یا اس بندرگاہ کا محاصرہ کیا جاتا ہے تو لاکھوں یمنی شہری قحط، دواؤں کی کمی اور بدترین انسانی بحران کا سامنا کریں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں خبردار کیا ہے کہ یہ کارروائی ایک انسانی تباہی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
امریکی فضائی بمباری اور ممکنہ زمینی تصادم، بے گناہ شہریوں کی جانیں لیکا باعث بگا، جس سے نہ صرف عالمی سطح پر مذمت کی جائے گی بلکہ خطے میں نئے تنازعات کو بھی جنم ملے گا۔
نتیجہ: انصار اللہ کی مزاحمت اور امریکی اہداف کا چیلنج
انصار اللہ کی قیادت میں یمن کی مزاحمت طوفان الاقصیٰ میں بحیرہ احمر اور باب المندب میں 350 سے زائد آپریشنز انجام دیے، جن کے نتیجے میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کے راستے تبدیل ہو گئے۔ بندر ایلات پر مسلسل حملوں جنوبی اسرائیل میں تجارتی سرگرمیاں مفلوج کر دیں۔
یمنیوں کی بہادری امریکہ کو مجبور کیا کہ وہ اسرائیل کی نیابتی جنگ لڑے، اور یمنی اہداف کو نشانہ بنائے۔ یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ اگر یمن پر حملے جاری رہے، تو یہ جنگ نہ صرف طویل ہو گی بلکہ دیگر عرب ریاستوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
ٹرمپ اور ہیرس کے درمیان 2 فیصد کا فرق
?️ 27 جولائی 2024سچ خبریں: وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی صدارتی انتخابات میں ریپبلکن
جولائی
ڈیموکریٹک سینیٹر: ٹرمپ نہیں چاہتے کہ رنگین لوگ امریکہ آئیں
?️ 1 دسمبر 2025سچ خبریں: ایک ڈیموکریٹک امریکی سینیٹر جس نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں
دسمبر
پشینیان کو امن قائم کرنے کے لیے سیاسی عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا: باکو
?️ 30 جون 2022سچ خبریں: جمہوریہ آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز باکو
جون
ایشیا میں نیٹو کا پہلا دفتر کھولنے پر عالمی مخالفت
?️ 30 مئی 2023سچ خبریں:جاپان کے وزیر اعظم کے گزشتہ ہفتے یہ کہنے کے بعد
مئی
دہشت گردوں کے ہاتھوں 13 شامی شہریوں کا قتل
?️ 25 جنوری 2025سچ خبریں:حمص کے نواحی علاقے میں ایک المناک واقعہ پیش آیا، جہاں
جنوری
غزہ جنگ سےاسرائیل سلامتی کیا چاہتا ہے؟
?️ 5 فروری 2024سچ خبریں: ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ایران اور امریکہ کے
فروری
صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان مریم نواز کی خوشی میں شامل ہو گئی
?️ 15 دسمبر 2021لاہور (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز
دسمبر
دفتر میں آخری دن ہے، پھر روانہ ہوجاؤں گا، نواز شریف کی لندن میں گفتگو
?️ 7 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز
اکتوبر