?️
سچ خبریں:طوفان الاقصیٰ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ دو سال بعد فلسطینی آرمان دوبارہ زندہ ہوا ہے ، عالمی بیداری، صہیونی سازشوں کی ناکامی اور صیہونی ریاست تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
طوفان الاقصیٰ نے دو سال بعد نہ صرف اسرائیل کی عسکری و انٹیلیجنس برتری کے افسانے کو توڑا بلکہ فلسطینی مزاحمت کو عالمی سطح پر زندہ کر دیا، 157 ممالک نے ریاستِ فلسطین کو تسلیم کیا اور عالمی ضمیر بیدار ہوا۔ طوفان الاقصیٰ نے اسرائیل کی کمزوری، امریکہ کی دوغلی پالیسی اور صہیونی منصوبوں کی حقیقت آشکار کر دی۔
دو سال گزرنے کے بعد بھی طوفان الاقصیٰ (7 اکتوبر 2023) فلسطینی مزاحمت کی ایک زندہ علامت اور عالمی بیداری کا نقطۂ آغاز بن چکا ہے،
یہی وہ واقعہ تھا جس نے صہیونی حکومت کے برسوں سے قائم کیے گئے فریبِ برتری کو چکناچور کر دیا اور فلسطینی مسئلے کو عالمی ایجنڈے پر دوبارہ زندہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:حماس: الاقصیٰ طوفان خطے کے سیاسی اور عسکری میدان میں ایک اہم موڑ تھا
7 اکتوبر 2023 کو حماس اور فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے غزہ کی سرزمین سے وہ کارروائی شروع کی جو تاریخ میں ایک موڑ بن گئی،یہ صرف ایک جنگ نہیں تھی، بلکہ اشغال کے خلاف ایمان، غیرت اور عزت کی بغاوت تھی۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، ستمبر 2025 تک اسرائیلی حملوں میں 66 ہزار فلسطینی شہید اور 150 ہزار زخمی ہوئے مگر اس خون کی قیمت نے دنیا کو مسئلہ فلسطین کی حقیقت سے دوبارہ آشنا کر دیا۔
حماس نے اس جنگ کو ایک ایسے مزاحمتی بیانیے میں بدل دیا جو نہ صرف عرب دنیا بلکہ پوری انسانیت میں گونج اٹھا، یہی بیداری آج آزادیِ قدس کی نئی امید بن چکی ہے،طوفان الاقصیٰ نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا، وہ مسئلہ جسے ابراہیم معاہدے کے نام پر دفن کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، اب عالمی انصاف کی سب سے بڑی آزمائش بن چکا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نومبر 2023 سے ستمبر 2025 کے دوران آئرلینڈ، ناروے، اسپین، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس، بلجیم اور لکسمبرگ نے ریاستِ فلسطین کو تسلیم کر لیا۔یوں فلسطین کے حامی ممالک کی تعداد بڑھ کر 157 ہو گئی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے مئی 2024 میں فلسطین کو ریاستِ ناظر کا درجہ دیا اور عالمی عدالتِ انصاف نے اسرائیلی قبضے کو غیرقانونی قرار دے دیا۔
یہی وہ بیداری تھی جس نے صہیونی سازشوں کو ناکام بنا دیا اور فلسطینی آرمان کو ایک مقدس عالمی تحریک میں بدل دیا۔
طوفان الاقصیٰ نے اسرائیل کی سلامتی کا مصنوعی قلعہ زمین بوس کر دیا ، حماس نے شہرکوں میں داخل ہو کر اسرائیل کی انٹیلیجنس، دفاعی نظام اور "ناقابلِ شکست فوج” کے تمام دعوے بے نقاب کر دیے۔
یہ کارروائی اسرائیل کے اُن منصوبوں کا جواب تھی جو کرانہ باختری کی مکمل یہودی سازی اور مسجدالاقصیٰ پر صہیونی تسلط کے لیے ترتیب دیے جا رہے تھے۔
اس ناکامی نے اسرائیل کی فوجی قیادت کو بحران میں ڈال دیا جبکہ عالمی سطح پر BDS تحریک (تحریم، سرمایہ نہ کاری، بائیکاٹ) میں زبردست اضافہ ہوا۔
امریکہ نے ہمیشہ کی طرح اسرائیل کی پشت پر کھڑے ہو کر سلامتی کونسل کی 14 قراردادوں کو ویٹو کیا اور اس طرح غزہ میں نسل کشی کے لیے سیاسی جواز فراہم کیا۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ، جسے ستمبر 2025 میں نتن یاہو کے ساتھ مشاورت سے تیار کیا گیا،ظاہر میں امن اور بازسازی کی بات کرتا ہے لیکن درحقیقت نتن یاہو کے توسیع پسندانہ عزائم کو تحفظ دیتا ہے۔
یہ منصوبہ غزہ کے گرد فوجی زون برقرار رکھتے ہوئے اسرائیل کو نئے مشرقِ وسطیٰ کے تصور کے مطابق ایک مرکزی طاقت بنانے کی کوشش ہے ،ایسا مشرقِ وسطیٰ جہاں فلسطین کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے۔
دو سال بعد بھی اسرائیل فلسطینی عوام کے عزم کو توڑ نہیں سکا بلکہ اب فلسطینی مزاحمت، ایران، حزب اللہ، انصاراللہ اور دیگر مزاحمتی قوتوں کے ساتھ ایک متحد محور کی شکل اختیار کر چکی ہے،طوفان الاقصیٰ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ فلسطین انسانیت کا ضمیر ہے اور جو قوم اس ضمیر کا ساتھ دے گی، وہ تاریخ میں عزت پائے گی۔
مزید پڑھیں:الاقصیٰ طوفان کے 2 سال بعد؛ کامیابیاں ؛ 4 علاقائی ماہرین کا تجزیہ
دو سال بعد، طوفان الاقصیٰ اب صرف ایک جنگ نہیں،بلکہ ایک بیداری، ایک وعدہ، اور ایک عہد بن چکا ہے، دنیا اب جان چکی ہے کہ فلسطین کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
یہ وہ شعور ہے جو اب واپس نہیں جا سکتاکیونکہ مزاحمت اب ایک عالمی حقیقت بن چکی ہے۔


مشہور خبریں۔
2023 کی سب سے بااثر شخصیت
?️ 8 جنوری 2024سچ خبریں: ایک عرب نیوز ایجنسی نے ایک سروے کر کے 2023
جنوری
صیہونی فوج کی حالت زار؛ صیہونی مطالعاتی مرکز کی زبانی
?️ 24 جولائی 2023سچ خبریں: صیہونی قابض حکومت کے داخلی سلامتی کے مطالعہ کے مرکز
جولائی
وزیراعظم شہباز شریف کی ترک صدر سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار
?️ 31 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے چین کے
اگست
وزیراعظم کا ایران کے معاملے پر نوازشریف سے ہنگامی رابطہ، بریفنگ
?️ 22 جون 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف کا ایران پر امریکی حملے کے
جون
وزیر خارجہ کی سعودی سفیر سے ملاقات،تعلقات مزید مستحکم بنانے پر زور
?️ 29 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے سعودی سفیر کی ملاقات
دسمبر
امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تاریخ کا سب سے بڑا ہتھیاروں کا معاہدہ
?️ 14 مئی 2025 سچ خبریں:وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور سعودی
مئی
اسرائیل کا 2025 کا ڈراؤنا خواب؛ تل ابیب یمن سے نمٹنے میں ناکام کیوں؟
?️ 5 جنوری 2025سچ خبریں: یمن نے سال 2024 کا اختتام امریکہ اور صیہونی حکومت
جنوری
ایران نے اپنی میزائل صلاحیت دوبارہ بحال کر لی ہے؛مغربی میڈیا کا اعتراف
?️ 14 جون 2026سچ خبریں:امریکہ بارہا یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ
جون