سوڈان کی سیاسی صورتحال؛ ماضی، حال، مستقبل کے منظرنامے

سوڈان کی سیاسی صورتحال؛ ماضی، حال، مستقبل کے منظرنامے

?️

سچ خبریں:سوڈان میں خانہ جنگی نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ تاریخی پس منظر، قبائلی تنوع، استعمار کی میراث اور فوج و نیم فوجی گروہوں کی کشمکش نے موجودہ بحران کو جنم دیا،مستقبل میں سوڈان کی سیاست کن راستوں پر جا سکتی ہے؟

سوڈان کی موجودہ سیاسی صورتحال کئی ممکنہ مستقبل کے منظرناموں پر منحصر ہے،ایک امکان یہ ہے کہ فوج فیصلہ کن برتری حاصل کر لے اور خارطوم میں نسبتی استحکام بحال ہو،دوسرا اور زیادہ خطرناک امکان یہ ہے کہ ملک کئی حصوں میں تقسیم ہو جائے، بالکل اسی طرح جیسے لیبیا میں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: سوڈان کی حالیہ خانہ جنگی میں سب سے زیادہ نقصان کس کا ہو رہا ہے؟

افریقہ کے قلب میں واقع سوڈان کی نسلی تنوع اور سیاسی اتار چڑھاؤ کی طویل تاریخ ہے، 1956 میں آزادی کے بعد سے اس ملک نے شاذونادر ہی مستقل سیاسی استحکام دیکھا ہے،دسمبر 2018 کی عوامی بغاوت جس نے اپریل 2019 میں عمر البشیر کی حکومت کو گرا دیا، نئے دور کی امید تھی، لیکن اپریل 2023 کی خانہ جنگی نے ان امیدوں کو شدید بحران میں بدل دیا،حالیہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے تاریخ، سیاسی محرکات اور اندرونی و بیرونی قوتوں کا جائزہ ضروری ہے۔

استعمار اور اور اس سے پہلے کی صورتحال؛ سیاسی شناخت

1898 میں مصر اور برطانیہ کے مشترکہ تسلط سے قبل، سوڈان کا کوئی متحدہ سیاسی ڈھانچہ نہیں تھا، قبائل اور مذہبی سلسلوں پر مبنی مقامی نظام غالب تھا، 1930 کی دہائی میں جدید تعلیم کے پھیلاؤ سے نخبگان کی پہلی نسل ابھری۔ 1938 میں تعلیم یافتہ کونسل نے وجود میں آنے کے سوڈانی سیاست کی بنیاد رکھی:

1) ’’حزب الامہ‘‘ کی صورت میں آزادی پسند تحریک جس کا نعرہ تھا ’’سوڈان برائے سوڈانی‘‘
2) ’’الحزب الوطنی الاتحادی‘‘ جو مصر کے ساتھ اتحاد چاہتا تھا
3) اسلام پسند، کمیونسٹ اور عرب قوم پرست نظریاتی دھارے

استعمار کے دوران جدید فوج کے قیام نے مرکز اور اطراف (خصوصاً دارفور و جنوب) کے درمیان خلیج کو گہرا کیا،یہی تقسیم آج بھی سرکاری فوج (SAF) اور نیم فوجی فورس ’’ریپڈ اسپورٹ فورسز‘‘ (RSF) کے درمیان جنگ میں موجود ہے۔

آزادی اور 1960 کی دہائی؛ غیر مستحکم اتحاد

1956 میں آزادی کے فوراً بعد تجربۂ حکمرانی کی کمی، نسلی تناؤ اور علاقائی تفاوت نے ملک کو غیر مستحکم کیا، جنوبی علاقوں میں 1955 سے شروع ہونے والی بغاوت نے خانہ جنگی کی بنیاد رکھی، 1964 کے عوامی انقلاب نے فوجی حکومت کا خاتمہ کیا، مگر پارٹی رقابت اور نظریاتی تضادات نے اس جمہوری دور کو مختصر رکھا۔ اسی دور میں اسلام پسندوں کے ابھار اور کمیونسٹوں کے اخراج نے آنے والے فوجی قبضوں کی راہ ہموار کی۔

جعفر نمیری کا دور (1969-1985)؛ انقلاب سے زوال ت

1969 میں جعفر نمیری کی بغاوت کے ساتھ نیا فوجی اور نظریاتی دور شروع ہوا۔ ابتدا میں بائیں بازو اور قوم پرستوں کی حمایت سے اقتدار ملا، مگر بعد میں نمیری نے اسلام پسندوں کو اپنے ساتھ لے لیا। 1972 کے امن معاہدے نے جنوبی جنگ کو عارضی طور پر روکا، لیکن 1980 کی دہائی میں شرعی قوانین کے نفاذ اور معاہدے کی منسوخی نے جنگ دوبارہ بھڑکا دی۔ 1985 میں عوامی احتجاج اور معاشی بحران نے اسے اقتدار سے ہٹا دیا۔

اسلام پسندوں کی حکومت اور عمر البشیر کا دور (1989-2019)

1989 میں اسلام پسند تحریک کے ساتھ فوج نے اقتدار سنبھالا اور عمر البشیر نے تین دہائیوں تک حکومت کی۔ شریعت، ’’اصلاح‘‘ اور قوم پرستی کے نعروں سے شروع ہونے والا یہ دور بالآخر بدعنوانی، سیاسی جبر اور خانہ جنگی میں بدل گیا۔

اہم بحران:

1) جنوبی خانہ جنگی جو 2011 میں جنوبی سوڈان کی علیحدگی پر ختم ہوئی
2) دارفور کی جنگ (2003) جس نے جنجوید اور بعد میں RSF کو جنم دیا
3) تیل کی آمدنی ختم ہونے کے بعد شدید معاشی بدحالی اور احتجاجات

بشیر کی حکومت کے خاتمے کے بعد عبوری اقتدار 2019 سے 2021 تک فوج و سول اتحاد کے ماڈل میں چلا، مگر انتظامی کمزوری، مسلح گروہوں کے دباؤ اور باہمی عدم اعتماد نے اسے غیر مؤثر بنا دیا۔

2021 کی بغاوت اور دوبارہ فوجی کنٹرول

اکتوبر 2021 میں جنرل البرہان اور حمیدتی نے مشترکہ اقدام کے ذریعے حکومت برطرف کی۔ بعد میں دونوں کے درمیان اقتدار اور عسکری ادغام کے معاملے پر اختلافات شدید ہوئے اور اپریل 2023 میں کھلی خانہ جنگی شروع ہوگئی۔

2023 سے لے کر اب تک جنگ: دو متوازی مراکز

  • فوج (SAF) شمال اور مشرق میں مضبوط
  • ریپڈ اسپورٹ فورسز (RSF) دارفور، کردفان اور دارالحکومت میں رسوخ رکھتی ہیں

ملک عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے:
1) پورٹ سوڈان میں سرکاری انتظام
2) مغرب میں حمیدتی کے اثر و نفوذ کے علاقے

سیاسی قوتوں کے رویے:

  • آزادی و تبدیلی کی قوتیں دوبارہ سیاسی عمل چاہتی ہیں
  • روایتی مذہبی و قدامت پسند جماعتیں فوج کے ساتھ ہیں
  • نوجوانوں اور عوامی کمیٹیوں کا مؤقف ہے کہ دونوں فریق ملک کو تباہ کر رہے ہیں

مستقبل کے ممکنہ منظرنامے:

مزید پڑھیں: سوڈان میں ختم نہ ہونے والی خانہ جنگی

1) فوج کی فتح اور محدود استحکام
2) ملک کی تقسیم: سب سے خطرناک امکان

مشہور خبریں۔

قومی اسمبلی میں توہین پارلیمنٹ بل 2023 منظور

?️ 16 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) قومی اسمبلی نے توہین پارلیمنٹ بل 2023 کثرت رائے

اسپیکر سے حکومت اور اپوزیشن دونوں ناراض

?️ 17 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں ) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کیلئے مشکلات

خیبرپختونخوا عمران خان کا ہے اور یہاں پر صرف ان ہی کی چلے گی، سہیل آفریدی

?️ 13 اکتوبر 2025پشاور: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا

یحییٰ السنور پورے صیہونی ڈھانچے کے ساتھ کیا کیا؟؛ صیہونی سکیورٹی مطالعاتی مرکز کی زبانی

?️ 28 نومبر 2023سچ خبریں: صیہونی حکومت کے سب سے معتبر سکیورٹی ریسرچ سینٹر نے

پنجاب میں سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر کے قانون میں تبدیلی کردی گئی

?️ 16 نومبر 2021لاہور(سچ خبریں) پنجاب میں سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر کے قانون

فلسطینی مقدسات کی توہین جاری شراب کی بوتل پر قبۃ الصخرہ کا لیبل

?️ 22 اگست 2022سچ خبریں:     آج 2۲ اگست 2022 کو ایک انتہا پسند صہیونی

مقبوضہ بیت المقدس میں شہادت طلبانہ کاروائی کرنے والے مجاہد کے اہلخانہ کی گرفتاری

?️ 23 نومبر 2021سچ خبریں:صیہونی حکومت کی فورسز نے مقبوضہ بیت المقدس میں شہادت طلبانہ

وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے استعفی دے دیا

?️ 18 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے