قبرس اور شام کے معاملے کی مشابہت ؛ اردوغان کے اتحادی کی نظر سے

قبرس اور شام کے معاملے کی مشابہت ؛ اردوغان کے اتحادی کی نظر سے

?️

سچ خبریں:ترکی کے قوم پرست رہنما دولت باغچلی نے قبرس کے ترک حصے کو ترکی کا 82واں صوبہ قرار دینے کی تجویز دی، جس پر سخت ردعمل سامنے آیا۔

باغچلی نے خبردار کیا کہ قبرس میں فیڈرل نظام کی بات، شام میں کردوں اور دروزیوں کو بھی اسی راہ پر لگا سکتی ہے ، ترکی کے لیے نیا اسٹریٹجک خطرہ۔

یہ بھی پڑھیں:کیا امریکہ ترکیہ کی قبرس پالیسی کے موقف میں تبدیلی لارہا ہے؟

ترکی کے قوم پرست رہنما اور اس ملک کے صدر رجب طیب اردوغان کے قریبی اتحادی قومی مومنٹ پارٹی کے سربراہ دولت باغچلی نے قبرس کے ترک نشین حصے کے حوالے سے اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ترک قبرس کی تمام گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں ترکی کے 82ویں صوبے کے کوڈ سے تبدیل کی جائیں اور اس علاقے کو باقاعدہ طور پر ترکی کا حصہ قرار دیا جائے۔

یہ بیان ترکی میں ان دعووں کی یاد دلاتا ہے جو ماضی میں موصل اور شمالی عراق کے حوالے سے سامنے آئے تھے۔ اگرچہ انقرہ نے اب ان دعووں کو عملی طور پر پسِ پشت ڈال دیا ہے، لیکن باغچلی کے اس حالیہ بیان نے الاق و انضمام کے نطریے کو ایک بار پھر ترکی کے سیاسی منظرنامے میں زندہ کر دیا ہے۔

قبرس کے نئے صدر کا سخت ردِعمل

قبرس کے ترک نشین حصے کے حالیہ صدر طوفان ارہورمان، جنہوں نے چند روز قبل 63 فیصد ووٹوں سے کامیابی حاصل کی، نے باغچلی کے بیان کو جارحانہ اور توہین آمیز قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بیانات ترک قبرسی عوام کی سیاسی ارادہ و خودمختاری کی توہین ہیں، شمالی قبرس ایک خودمختار جمہوری اکائی ہے جو ترکی کے ساتھ مشاورت کرتی ہے مگر ترکی کا حصہ نہیں۔ ہمارا فریضہ ہے کہ اپنی جمہوری بلوغت برقرار رکھیں اور ایسے بیانات کی اجازت نہ دیں جو عوامی اعتماد کو مجروح کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ باغچلی کا یہ مؤقف بین الاقوامی قانون اور ترک قبرسی عوام کی سیاسی برابری کے منافی ہے۔
یہ بیانات دراصل حقِ خودارادیت پر حملہ اور ہماری سیاسی جدوجہد کی توہین ہیں۔

ارہورمان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ متحدہ قبرس کی فدرالی ریاست کے قیام کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں گے، کیونکہ ان کے نزدیک علیحدہ حکومت کا تسلسل ترک قبرسی عوام کے مفاد میں نہیں۔

باغچلی کی تشویش؛ قبرس سے شام تک فیڈرالی ازم کا خطرہ

ایک ترک صحافی جان اوزچلیک نے انکشاف کیا کہ باغچلی نے اپنی ملاقات میں بتایا کہ قبرس میں فدرالی نظام کی بات شام میں کرد اور دروزی گروہوں کو بھی اسی سمت میں ابھار سکتی ہے — جو ترکی کے لیے ایک نیا اسٹریٹجک بحران پیدا کرے گی۔

باغچلی کے مطابق اگر ترک قبرسی عوام فدرالی ماڈل اختیار کرتے ہیں، تو شام میں کرد اور دروزی بھی اپنے علاقوں میں یہی مطالبہ کریں گے، جو ترکی کے لیے ناقابلِ قبول ہے لہٰذا، بہترین حل یہ ہے کہ شمالی قبرس کو جلد از جلد ترکی کا حصہ بنایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے دفتر میں تین درخت لگانے کی ہدایت دی، جو مقنّنہ، مجریہ اور عدلیہ کی علامت ہیں، باغچلی نے کہا کہ

جب ترکی کے صدر کے معاونین میں ایک کرد اور ایک علوی ہو سکتے ہیں، تو یہ تین درختوں کی طرح ہیں جو ساتھ ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ اگر کوئی کرد یا علوی 51 فیصد عوامی ووٹ حاصل کر لے، تو صدر بننے کا پورا حق رکھتا ہے۔

بلنت آرنچ: تاتار کی شکست، انقرہ کی غلط حکمتِ عملی کا نتیجہ

ترکی کی پارلیمان کے سابق اسپیکر اور اے کے پارٹی کے بانی اراکین میں شامل بلنت آرنچ نے بھی شمالی قبرس کے انتخابات پر تبصرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ تاتار کی شکست میں خود ترکی کے کچھ حلقوں کا ہاتھ ہے۔ ان کی انتخابی مہم کو ناقابلِ اعتبار شخصیات اور مصنوعی سروے نے نقصان پہنچایا۔ یہاں تک کہ مہم کے دوران آذری لوک گانے چلائے گئے، حالانکہ قبرس بحیرۂ روم میں واقع ہے، جہاں ثقافتی فضا بالکل مختلف ہے۔

آرنچ نے صدر اردوغان کی جانب سے طوفان ارہورمان کو مبارکباد دینے کے اقدام کو دانشمندانہ اور مثبت قرار دیا، اور کہا کہ بدقسمتی سے شمالی قبرس کی ترک جمہوریہ گزشتہ 42 سال سے بطور جمہوری ریاست قائم ہے، مگر دنیا کے کسی ملک نے حتیٰ مسلم ممالک نے بھی اسے تسلیم نہیں کیا۔ اس کے برعکس، جنوبی قبرس کی یونانی حکومت، جس کی آبادی 99 فیصد عسائی ہے، یورپی یونین کی رکن اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔

مزید پڑھیں:قبرس پر ترکی اور بین الاقوامی نظام کے درمیان نامکمل تنازعہ

انہوں نے زور دیا کہ 63 فیصد عوامی ووٹ طوفان ارہورمان کے حق میں ایک واضح عوامی مینڈیٹ ہیں، اور انقرہ کو اس عوامی ارادے کا احترام کرنا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

ملک کے کچھ شہروں میں کورونا صورتحال سنگین ہو گئی

?️ 3 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) عالمی وبا کورونا وائرس ملک کے کچھ شہروں میں

سعودی کمانڈروں کا سقطری سے اچانک فرار، یمن کی فوجی کارروائیوں کا خوف

?️ 12 اگست 2026سچ خبریں:یمنی ذرائع کے مطابق سعودی افواج کے متعدد اعلیٰ کمانڈروں نے

اسرائیل کے پاس قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر دستخط کے سوا کوئی چارہ نہیں

?️ 22 جنوری 2024سچ خبریں:موساد کے سابق سربراہ نے کہا کہ تل ابیب کے پاس

شی جن پنگ: چین دوسروں کے خلاف جارحیت یا غنڈہ گردی نہیں چاہتا

?️ 22 ستمبر 2021سچ خبریں: ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق  شی جن پنگ نے

یومِ قدس؛ امام خمینی کا اسلامی منصوبہ، انسانیت کے لیے پیغام اور وحدتِ امت کا موقع

?️ 28 مارچ 2025 سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کے نمائندے ناصر ابوشریف نے

آئمہ بیگ اچھی گلوکارہ ہیں، مومنہ مستحسن گلوکارہ کے دفاع میں سامنے آگئیں

?️ 29 اکتوبر 2024کراچی: (سچ خبریں) گلوکارہ مومنہ مستحسن ساتھی گلوکارہ آئمہ بیگ کی حمایت

جی میل میں نیا فیچر

?️ 10 اگست 2023سچ خبریں: دنیا کی سب سے بڑی ای میل کمپنی گوگل نے

برطانوی وزیراعظم کوہٹانے کی تحریکیں تیز ہوئی

?️ 26 جنوری 2024سچ خبریں:ہمارا سیاسی نظام دیوالیہ ہو چکا ہے اور ملک کو بڑے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے