نئی نوآبادیاتی پالیسی سے مشرقِ وسطیٰ کو خطرہ، اسرائیل خطے کا نقشہ بدلنے کے درپے؛ عرب تجزیہ کار کا انتباہ

مشرقِ وسطیٰ

?️

سچ خبریں:عرب تجزیہ کار نے خبردار کیا ہے کہ نئی نوآبادیاتی پالیسی مشرقِ وسطیٰ کے خطے کے لیے خطرہ بن رہی ہے اور اسرائیل امریکہ کی مدد سے ایک نیا مشرقِ وسطیٰ تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

عرب تجزیہ کار محمود الریماوی کے مطابق اسرائیل اور امریکہ مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ تبدیل کرنے اور خطے پر بالادستی قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ایران کے خلاف جنگ اس وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔

عرب تجزیہ کار اور مشرقِ وسطیٰ کے امور کے تجزیہ کار محمود الریماوی نے ویب سائٹ العربی الجدید میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ جنگی کارروائیوں اور واشنگٹن کی جانب سے جوہری مذاکرات کے عمل سے انحراف کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ فوجی حملے اس وقت شروع کیے گئے جب امریکی اور ایرانی مذاکراتی ٹیمیں جنیوا میں اپنے آخری مذاکراتی دور میں اس بات پر متفق ہو چکی تھیں کہ مذاکرات کو ویانا میں دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ امریکی حکومت نے ٹرمپ اور نتن یاہو کے درمیان سات ملاقاتوں کے بعد، جو ایک سال کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقاتوں کی تعداد کا ایک ریکارڈ سمجھا جاتا ہے، امریکی عوام کو تیار کیے بغیر اور کانگریس کو اطلاع دیے بغیر ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت اختیار کی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا کہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ دراصل اسرائیل کا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:صہیونی صحافی: ہم جنگ کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ خطے میں جنگ بھڑکانے کا حتمی مقصد مشرقِ وسطیٰ کی شکل تبدیل کرنا ہے، جیسا کہ نتن یاہو بارہا اس پر فخر کرتے رہے ہیں اور اس پر امریکہ کی جانب سے کوئی اعتراض بھی سامنے نہیں آیا۔

تل ابیب میں امریکہ کے سفیر مائیک ہکبی کے حالیہ بیانات، جن میں انہوں نے نام نہاد گریٹر اسرائیل کے منصوبے کا ذکر کیا تھا، ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے چند روز قبل سامنے آئے اور انہوں نے اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسی اور عرب سرزمینوں پر قبضے کے منصوبے کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی کو ظاہر کیا۔

اگرچہ بعد میں واشنگٹن نے ان بیانات کو ذاتی رائے قرار دینے کی کوشش کی، تاہم ان کے مجموعی مفہوم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ اہداف کو تسلیم کرتا ہے، چاہے اس کے نتیجے میں عرب ممالک کی زمینیں اور حقوق ہی کیوں نہ متاثر ہوں۔

محمود الریماوی کے مطابق ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگی کارروائیوں کے مقابلے میں ایک دفاعی جنگ شروع کی ہے، ان کے بقول ایران کے خلاف جنگ کا مقصد صرف اس ملک کو کمزور یا محدود کرنا نہیں بلکہ ایک ایسے مشرقِ وسطیٰ کی تشکیل ہے جس پر اسرائیل کی بالادستی ہو۔

انہوں نے مزید لکھا کہ اسرائیل کی حکمت عملی فوجی طاقت کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی اور سیاسی ساخت کو تبدیل کرنا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ جاری رہنے کے ساتھ ساتھ تل ابیب شام کے خلاف اپنی یکطرفہ جنگ بھی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ مزید شامی علاقوں پر قبضہ کیا جا سکے اور دمشق کی حکومت پر تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔

 اسی طرح لبنان کے خلاف اسرائیلی کارروائیاں بھی مسلسل جاری رہی ہیں، چاہے ایران کے خلاف جنگ سے پہلے ہوں یا بعد میں، کیونکہ اس کا مقصد مقبوضہ علاقوں کی شمالی سرحد اور جنوبی لبنان کے درمیان ایک بفر زون قائم کرنا اور جنوبی لبنان کے مزید علاقوں پر قبضہ کرنا ہے تاکہ بعد میں اس ملک کی حکومت پر تعلقات کو معمول پر لانے کا دباؤ ڈالا جا سکے۔

اسی دوران غزہ کے خلاف جنگ بھی اگرچہ کم شدت کے ساتھ جاری ہے، تاہم یہ آتش بس کے معاہدے کو مسلسل کمزور کر رہی ہے۔ اسرائیلی وزیر جنگ یسرائیل کاتس کے مطابق موجودہ مقصد تل ابیب کی شرائط کے مطابق تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔

عمان کے وزیر خارجہ بدرالدین البوسعیدی کے حالیہ بیانات بھی اسرائیل کے اس طرزِ عمل کی سنجیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے ممکنہ بدترین حالات کے لیے تیار رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

 اخبار عمان کے مطابق البوسعیدی نے خطے کے خلاف ایک وسیع تر منصوبے کی بات کی جس میں صرف ایران ہی ہدف نہیں بلکہ خطے کے متعدد فریق اس حقیقت کو سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول موجودہ جنگ کا مقصد ایران کو کمزور کرنا، خطے کی نئی تشکیل کرنا، تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کو آگے بڑھانا اور فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنا ہے۔

مزید پڑھیں:نیتن یاہو اور ٹرمپ کے دعووں کے درمیان اسرائیلی عوام الجھن کا شکار

کالم کے آخر میں کہا گیا ہے کہ نتن یاہو کی مسلسل جنگی پالیسیوں کے سائے میں خطے کو جس صورتحال کا سامنا ہے وہ دراصل ممالک کی خودمختاری میں مداخلت اور ان کے داخلی علاقوں میں دست اندازی کے ذریعے پورے خطے کی ساخت تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ یہ ایک ایسی نوآبادیاتی بالادستی کو مسلط کرنے کی کوشش ہے جو 1967 کی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک براہِ راست اور غیر معمولی خطرہ بن کر سامنے آ رہی ہے۔

مشہور خبریں۔

عوام کی خاطر منی بجٹ لاسکتے ہیں: شوکت ترین

?️ 13 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے

شیخ نعیم قاسم کی کل کی تقریر کا سب سے مختلف نکتہ 

?️ 20 ستمبر 2025سچ خبریں: لبنان کے اخبار "البناء” نے شیخ نعیم قاسم کے سعودی

تحریک انصاف کے 72 ایم این ایز کے استعفوں کی منظوری کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار

?️ 19 مئی 2023لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 72 اراکین

دشمن مزاحمت کرنے والی عورتوں سے ڈرتا ہے۔ ماؤں کا ایمان میزائلوں اور ہوائی جہازوں سے اونچا ہے

?️ 21 اگست 2025سچ خبریں: عربی زبان کی سرگرم کارکن محترمہ نجوی ابو ترک نے

اب پردہ کرتی ہوں، زرنش خان کی پرانی تصاویر شیئر نہ کرنے کی اپیل

?️ 18 مارچ 2025کراچی: (سچ خبریں) اداکارہ زرنش خان نے میڈیا اور سوشل میڈیا پیجز

غزہ میں صیہونی جنگی طیارے کن علاقوں کو نشانہ بناتے ہیں؟

?️ 20 دسمبر 2023سچ خبریں: پوری غزہ کی پٹی بالخصوص فلسطینیوں کے گھروں اور پناہ

پاکستان ایران تعلقات میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار 

?️ 18 جنوری 2024سچ خبریں: کراچی میں چین کے قونصل جنرل یانگ یونڈونگ نے جمعرات کو

ٹرمپ اپنی احمقانہ تجارتی جنگ ہار چکے ہیں:امریکی مصنف

?️ 13 اگست 2025ٹرمپ اپنی احمقانہ تجارتی جنگ ہار چکے ہیں:امریکی مصنف امریکی مصنف اور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے