?️
سچ خبریں:فرانس میں احتجاجی مظاہروں کے دوران سوشل میڈیا کے کردار پر صدر ایمانوئل میکرون کی تنقید نے آزادیٔ اظہار رائے اور آزادانہ معلومات تک رسائی کے حوالے سے یورپی حکومتوں کے مؤقف میں تضاد کو نمایاں کر دیا ہے۔
فرانس میں تعلیمی مطالبات سے شروع ہونے والے احتجاج اور شہریوں کی معاشی مشکلات کے خلاف بڑھتی ہوئی ناراضی نے ایک بار پھر حکومت کو سماجی احتجاج سے نمٹنے کے حوالے سے مشکل صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔ سڑکوں پر عوام کی بڑی تعداد کی موجودگی، مطالبات کے دائرے میں توسیع اور مظاہرین و پولیس کے درمیان جھڑپوں نے فرانسیسی حکومت کو تنقید کا مرکز بنا دیا ہے۔
اس صورت حال میں صدر ایمانوئل میکرون کے سوشل میڈیا کے منفی کردار سے متعلق بیانات نے یورپی ممالک کے آزادیٔ صحافت اور احتجاج کے بارے میں دوہرے معیار پر بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند ماہ قبل ایران میں دسمبر 2025 کے احتجاج کے دوران میکرون سمیت متعدد یورپی رہنما آزادیٔ اظہار، معلومات تک آزادانہ رسائی اور پُرامن اجتماعات کے حق پر زور دے رہے تھے۔
اس وقت سوشل میڈیا ایران میں احتجاجی سرگرمیوں اور عوامی مطالبات کی عکاسی کا ایک اہم ذریعہ تھا، جبکہ انٹرنیٹ تک رسائی پر پابندیوں کو مغربی حکومتوں نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
اب فرانس میں احتجاجی سرگرمیوں کے پھیلاؤ کے بعد میکرون انہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو معاشرتی تقسیم اور تشدد کو منظم کرنے کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے اس تبدیل شدہ مؤقف نے یورپی ممالک کے آزادیٔ اطلاعات سے متعلق اعلانات اور عملی رویوں کے درمیان فرق پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تعلیمی اداروں سے شروع ہونے والا احتجاج سڑکوں تک پہنچ گیا
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران فرانس میں احتجاجی مظاہروں کی ایک نئی لہر دیکھنے میں آئی ہے۔ ان مظاہروں کا ایک حصہ تعلیمی مطالبات اور اسکولوں کی صورت حال پر طلبہ کی ناراضی سے شروع ہوا، تاہم بعد ازاں مختلف سماجی طبقات کی شمولیت سے ان کا دائرہ وسیع ہوگیا۔
تعلیمی سہولیات کی کمی، اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کی خراب صورت حال، نظام تعلیم کے مسائل اور مستقبل میں تعلیمی مواقع سے متعلق خدشات فرانسیسی طلبہ کے اہم مطالبات میں شامل ہیں۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد کی احتجاج میں شرکت ظاہر کرتی ہے کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی سے متعلق ناراضی نئی نسل تک بھی پہنچ چکی ہے۔
احتجاجی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ معاشی مطالبات بھی نمایاں ہوگئے۔ روزمرہ زندگی کے بڑھتے اخراجات، اشیا کی مہنگائی اور معاشی دباؤ نے مزید شہریوں کو مظاہروں میں شرکت پر آمادہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق، ہفتہ 24 اکتوبر کو فرانس میں 4 لاکھ سے زائد افراد نے معاشی صورت حال اور اسکولوں کے بجٹ میں کمی کے خلاف احتجاج کیا۔ بعض علاقوں میں مظاہرے جھڑپوں میں تبدیل ہوگئے اور پولیس نے بڑی تعداد میں مظاہرین کو گرفتار کیا۔
احتجاج میں مختلف سماجی طبقات کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ فرانسیسی حکومت کو کئی دیرینہ مسائل کا سامنا ہے، جن کا حل محض پولیس کارروائیوں یا رابطے کے ذرائع محدود کرنے سے ممکن نہیں ہوگا۔
سوشل میڈیا کو تنقید کا نشانہ
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیر 26 اکتوبر کو مارسیل کے دورے کے دوران ملک میں جاری احتجاجی صورت حال میں سوشل میڈیا کے کردار پر تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جمہوریتوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، کیونکہ یہ معاشرے میں تقسیم پیدا کرتے ہیں، تشدد کے مناظر کے ذریعے لوگوں کو ذہنی طور پر مفلوج کرتے ہیں اور بعض پلیٹ فارمز معاشرے کے منفی عناصر کو متحرک کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
میکرون نے 17 اکتوبر کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں اور حتیٰ کہ عمر رسیدہ افراد کو بھی جرائم، حملوں اور لوٹ مار کے مقامات پر جمع کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
ان کے مطابق، ان پلیٹ فارمز پر تشدد کے مناظر کی مسلسل اشاعت معاشرے میں تشدد کے حوالے سے بے حسی پیدا کر سکتی ہے۔
تاہم، سوشل میڈیا گزشتہ کئی برسوں کے دوران دنیا بھر میں رابطے اور معلومات کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ یہ پلیٹ فارمز خبریں پھیلانے، عوامی مطالبات سامنے لانے، احتجاجی سرگرمیوں کو منظم کرنے اور معلومات کی تیز رفتار ترسیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کا غلط استعمال، تشدد پر اکسانے اور جھوٹی معلومات پھیلانے کے لیے بھی ممکن ہے، لیکن احتجاج کی تمام وجوہات کو سوشل میڈیا سے منسوب کرنا درست تجزیہ نہیں ہوگا۔
ایران کے احتجاج؛ جب آزادیٔ میڈیا یورپ کا مطالبہ تھی
میکرون کے حالیہ بیانات کا جائزہ لینے کے لیے دسمبر 2025 میں ایران میں ہونے والے احتجاجی واقعات کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔
اس وقت فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کرتے ہوئے آزادیٔ اظہار اور پُرامن اجتماعات کے حق کی ضمانت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
گروپ آف سیون (G7) کے وزرائے خارجہ نے بھی ایک الگ بیان میں ایران کی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے شہری حقوق اور معلومات تک آزادانہ رسائی پر زور دیا تھا۔
ان دنوں سوشل میڈیا ایران میں احتجاجی سرگرمیوں کی تصاویر اور اطلاعات کی اشاعت کا اہم ذریعہ بن گیا تھا۔ مغربی ذرائع ابلاغ اور حکام نے ایران میں انٹرنیٹ کی پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے شہریوں کی آزادانہ معلومات تک رسائی کو بنیادی حق قرار دیا تھا۔
اس طرح اس وقت یورپی ممالک کے سیاسی بیانات کا مرکزی نکتہ معلومات کی آزادانہ ترسیل اور میڈیا کے ذریعے عوامی مطالبات کی عکاسی تھا۔
ایک ہی سوشل میڈیا، لیکن دو مختلف معیارات؟
فرانس اور ایران میں سوشل میڈیا کے کردار سے متعلق فرانسیسی حکام کے مختلف بیانات ایک بنیادی سوال کو جنم دیتے ہیں: کیا میڈیا کی آزادی کا معیار آزادیٔ اظہار اور شہری حقوق کے مستقل اصولوں پر مبنی ہے یا اس کا انحصار احتجاج کے مقام اور سیاسی حالات پر ہوتا ہے؟
اگر ایران میں سوشل میڈیا کو شہریوں کے مطالبات کی عکاسی اور احتجاجی سرگرمیوں کی اطلاع رسانی کا ذریعہ تسلیم کیا جاتا ہے تو فرانس میں اسی پلیٹ فارم کے استعمال پر حکومتی تشویش کی بنیاد کیا ہے؟
فرانس میں طلبہ اپنے تعلیمی مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ ایسے میں سوشل میڈیا انہیں اپنے مطالبات پیش کرنے، احتجاجی سرگرمیوں کی اطلاع دینے اور اپنی آواز دوسروں تک پہنچانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ محض اس کردار کی بنیاد پر ان پلیٹ فارمز کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انٹرنیٹ تک رسائی کا معاملہ بھی اسی تضاد کو نمایاں کرتا ہے۔ ایران میں احتجاج کے دوران انٹرنیٹ کی پابندیوں پر یورپی حکام نے تنقید کی تھی اور شہریوں کے معلومات تک آزادانہ رسائی کے حق پر زور دیا تھا۔
اگر فرانسیسی حکومت کا مؤقف ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی معلومات اور تشدد پر اکسانے والا مواد عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے تو یہی اصول دوسرے ممالک کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے بھی پیش نظر ہونا چاہیے۔ اسی طرح اگر ایرانی شہریوں کے لیے آزادانہ انٹرنیٹ تک رسائی بنیادی حق ہے تو فرانسیسی شہری بھی اسی حق کے مستحق ہیں۔
آبنائے ہرمز اور معاشی دباؤ؛ ایران سے آگے بڑھتے ہوئے اثرات
فرانس کی معاشی صورت حال اور احتجاجی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے ایران کے خلاف 40 روزہ جنگ کے علاقائی اور عالمی اثرات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
جنگ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور دباؤ پیدا ہوا۔ تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اس اہم آبی گزرگاہ کی اہمیت کے باعث اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں، نقل و حمل اور پیداواری اخراجات پر اثر انداز ہوتی ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین پر دباؤ نے یورپی ممالک کے پہلے سے موجود معاشی مسائل کو مزید پیچیدہ بنایا اور گھریلو اخراجات میں اضافے کا باعث بنا۔ فرانس بھی ان عالمی معاشی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکا۔
اس تناظر میں فرانس کے حالیہ احتجاج کو صرف داخلی مسائل تک محدود کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ اس کے پیچھے موجود معاشی، سماجی اور بین الاقوامی عوامل کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔
آزادیٔ میڈیا کے دفاع میں دوہرا معیار
میکرون کے حالیہ بیانات نے مغربی ممالک کی خارجہ پالیسی میں دوہرے معیار کے مسئلے کو ایک بار پھر نمایاں کیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایک طرف سوشل میڈیا کو جمہوریت کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ ایران میں احتجاج کے دوران ان کی حکومت شہریوں کے لیے آزادانہ انٹرنیٹ اور معلومات کی ترسیل کی حمایت کر رہی تھی۔
سوشل میڈیا پر بعض نقصان دہ مواد کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن عوامی آگاہی، اطلاعات کی ترسیل اور شہریوں کی آواز کو مؤثر بنانے میں اس کے مثبت کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اصل ضرورت ان دونوں پہلوؤں میں فرق کرنے اور سیاسی بنیادوں پر منتخب مؤقف اختیار کرنے سے گریز کرنے کی ہے۔
اگر آزادیٔ صحافت اور احتجاج کا حق جمہوریت کے بنیادی اصول ہیں تو ان کا اطلاق صرف دوسرے ممالک کے حوالے سے نہیں ہونا چاہیے۔ جمہوریت کا حقیقی معیار اسی وقت قائم ہوتا ہے جب حکومتیں اپنے شہریوں کو بھی وہی حقوق فراہم کریں جن کا مطالبہ وہ دوسری ریاستوں سے کرتی ہیں۔
فرانس کے حالیہ احتجاج اور میکرون کے بیانات نے واضح کر دیا ہے کہ میڈیا کی آزادی اور معلومات تک رسائی کا مسئلہ مغربی جمہوریتوں کے لیے بھی ایک اہم چیلنج ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ حکومتیں اپنے اعلان کردہ اصولوں پر عملی طور پر بھی یکساں انداز میں عمل کریں۔


مشہور خبریں۔
ہم تیسری عالمی جنگ میں ہیں: اسرائیلی وزیر خارجہ
?️ 3 جنوری 2024سچ خبریں:Yediot Aharanot اخبار نے آج منگل کے روز اپنے شمارے میں
جنوری
عمران خان کے لانگ مارچ حملہ،عمران خان زخمی
?️ 3 نومبر 2022وزیر آباد: (سچ خبریں) تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران وزیر آباد میں
نومبر
حمزہ شہباز کو ہو سکتے ہیں گرفتار
?️ 25 مارچ 2021لاہور(سچ خبریں) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے گزشتہ ایک
مارچ
فرانس میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، مکرون سے استعفی کا مطالبہ
?️ 7 اکتوبر 2025فرانس میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، مکرون سے استعفی کا
اکتوبر
مسلسل تیسری بار سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی سستی ہونے کا امکان
?️ 3 اگست 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) کیپسٹی چارجزمیں کمی کےنتیجے میں کراچی سمیت ملک
اگست
سعودی تیل برآمد کرنے کی تنصیبات ، یمنی فوج کا اگلا ہدف
?️ 24 مارچ 2022سچ خبریں: باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ یمنی فوج کے مستقبل
مارچ
صہیونی قیادت میں غزہ کے مستقبل پر گہرا اختلاف، کیا مصر قطر اور ترکیہ کی جگہ سنبھالے گا؟
?️ 22 دسمبر 2025صہیونی قیادت میں غزہ کے مستقبل پر گہرا اختلاف، کیا مصر قطر
دسمبر
ترکی اور ایمنسٹی کا چیلنج
?️ 31 دسمبر 2025سچ خبریں: ترکی ان ممالک میں سے ایک ہے جو جیلوں کی
دسمبر