?️
(سچ خبریں) آج کل پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات بحال کرنے کی باتیں چل رہی ہیں اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان گفتگو بھی ہورہی ہے جس سے پہلے دونوں ممالک نے کنٹرول لائن پر جنگ بندی بھی کردی ہے لیکن کسی قسم کے مذاکرات سے پہلے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان سات عشروں سے زائد عرصہ پر محیط تصفیہ طلب مسائل حل کرنے کی بیک ڈور کوششیں اس وقت بین الاقوامی میڈیا کی دلچسپی کا موضوع ہیں، اگرچہ اس بارے میں خود متعلقہ حلقے مہر بلب ہیں مگر یہ بات زبان زدعام ہے کہ متحدہ عرب امارات خاموشی سے دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے فضا ہموار کر رہا ہے اور اس معاملے میں امریکہ بھی اس کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔
ڈی جی ملٹری آپریشنز کے درمیان جموں و کشمیر کنٹرول لائن پر بھارت کی اشتعال انگیزیاں روکنے کا سمجھوتہ اور ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ بیان بازی بند کرنے کے عمل کواس حوالے سے نظیر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دبئی میں اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اگرچہ کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی باضابطہ بیک چینل رابطہ نہیں مگر بے ضابطہ یا خاموش ڈپلومیسی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کہی، اس کا مطلب ہے کہ میڈیا میں جو خبریں چل رہی ہیں وہ بےبنیاد نہیں ہیں۔
وزیر خارجہ نے سفارت کارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیک چینل کی کیا ضرورت ہے، بھارت کو چاہئے کہ کشمیر، سر کریک اور پانی کے مسئلے پر آئے اور میز پر بیٹھ کر بات کرے لیکن میز پربیٹھنے سے پہلے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا خاتمہ تو کرے۔
اگر بھارت 5؍اگست کے اقدامات پر نظرثانی کرتا ہے تو ہم بات چیت کیلئے تیار ہیں، ہم تو اپنے تمام ہمسایوں، جن میں بھارت بھی شامل ہے کے ساتھ پرامن رہنا چاہتے ہیں، وزیر خارجہ نے بات چیت کیلئے جوشرط رکھی ہے پوری دنیا اسی پر زور دے رہی ہے۔
انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی بھارتی حکومت کو ایک خط لکھا ہےجس میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور نئے جابرانہ قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، پاکستان کے وزیر خارجہ ایک تقریب میں شرکت کیلئے دبئی گئے ہیں اور بھارتی وزیر خارجہ بھی اس موقع پر وہاں موجود ہیں۔
دونوں کے درمیان غیراعلانیہ ملاقات کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے قطعیت کے ساتھ اپنے ہم منصب سے ملاقات کے امکان کی تردید نہیں کی تاہم کہا ہے کہ ان کی ملاقات طے نہیں ہے، دبئی کے بعد افغان انٹرنیشنل کانفرنس کے سلسلے میں 24 اپریل کو ترکی میں بھی دونوں موجود ہوں گے اور ان کے درمیان ملاقات بھی خارج ازامکان نہیں تاہم باقاعدہ مذاکرات سے قبل بھارت کومقبوضہ کشمیر میں اپنے اقدامات کے خاتمے کی شرط پوری کرنا ہو گی تاکہ ماحول سازگار ہو سکے۔
متحدہ عرب امارات اور بعض دوسرے دوست ممالک کی پس پردہ کوششیں کامیاب ہو گئیں تو نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا کے امن کو لاحق خطرات ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ دراصل پاکستان ہمیشہ سے مذاکرات کے ذریعے بھارت سے اچھے ہمسایوں جیسے تعلقات کا خواہش مند ہے مگر یہ بھارت ہے جس نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کشمیر پر جابرانہ تسلط قائم کیا اور پاکستان پر جنگیں مسلط کیں خاص طور پر جب سے بھارت میں ہندو راج قائم کرنے کی داعی جنتا پارٹی برسر اقتدار آئی ہےاور انتہا پسند نریندر مودی وزیر اعظم بنے ہیں، جموں و کشمیر اور دوسرے متنازع امور پر پاکستان کے خلاف بھارت کا جارحانہ رویہ مزید سخت ہو گیا ہے۔
آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود نے درست کہا کہ مودی، جموں و کشمیر کو بھی ہندو ریاست بنانا چاہتےہیں جہاں کے عوام کی بھاری اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے اور وہ گزشتہ 73سال سے بھارت کی بہیمانہ کارروائیوں کے باوجود آزاد ی کی شمع روشن کئے ہوئےہیں۔
وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی قوتیں کھل کر سامنے آئیں اور بھارت کو جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت استصواب رائے کرانے پر مجبور کریں، اس کے بغیر برصغیر کے ڈیڑھ ارب عوام امن اور خوشحال کو ہمیشہ ترستے رہیں گے۔


مشہور خبریں۔
معیشت میں بحالی کے آثار، پہلی سہ ماہی میں خسارے کے بجائے 15 کھرب کا سرپلس ریکارڈ
?️ 28 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزارتِ خزانہ نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں کہا
اکتوبر
پاکستان بہت جلد علاقے کا لیڈر بنا جائے گا
?️ 9 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ پاکستان70 کی
دسمبر
ایرلینڈ میں صہیونی مصنوعات پر پابندی
?️ 14 جولائی 2025 سچ خبریں:ایرلینڈ کی پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی
جولائی
داخلی و بین الاقوامی دباؤ کے باوجود حزب اللہ کی غیر معمولی استقامت کے اسباب
?️ 4 جون 2026سچ خبریں:امریکی اور صہیونی شدید دباؤ، سیاسی چیلنجز اور عسکری حملوں کے
جون
ایران کے ساتھ جنگ کے بعد صہیونی لابی کی مایوسی
?️ 15 جولائی 2025سچ خبریں:ایران اور صیہونی ریاست کے درمیان 12 دن تک جاری رہنے
جولائی
عام لوگ امریکہ کو بہتر چلا سکتے ہیں یا کانگریس ارکان؟
?️ 19 مئی 2024سچ خبریں: حالیہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ زیادہ تر جواب دہندگان
مئی
صیہونیوں کا صمود کاروان کے ساتھ وحشیانہ سلوک؛ ترک صحافی کی زبانی
?️ 7 اکتوبر 2025سچ خبریں:سوئیڈن کی ماحولیاتی کارکن گرتا تونبرگ کے ساتھ غزہ جانے والے
اکتوبر
سعودی عرب کا صیہونی حکومت کے خلاف ہیگ کی عدالت کے فیصلے کی حمایت کا اعلان
?️ 27 جنوری 2024سچ خبریں:صیہونی حکومت کے خلاف ہیگ کی عدالت کے فیصلے کے ردعمل
جنوری