?️
سچ خبریں:امریکہ نے ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، تاہم 4 دہائیوں کی پابندیوں کے تجربے اور بدلتے علاقائی و عالمی اقتصادی تعلقات نے واشنگٹن کی حکمت عملی کو نئے چیلنجز سے دوچار کردیا ہے۔
فوجی محاذ پر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی اقتصادی جنگ کا بوجھ اب واشنگٹن کے اتحادیوں تک بھی پہنچ رہا ہے، جس سے اس فرسودہ حکمت عملی کی لاگت میں اضافہ ہورہا ہے۔
امریکہ نے گزشتہ چند روز کے دوران ایک مرتبہ پھر اسی ہتھیار کا سہارا لیا ہے جو برسوں سے ایران کے خلاف اس کی ناکام پالیسی کی بنیادوں میں شامل رہا ہے۔ تاہم اس مرتبہ حالات ماضی سے مختلف ہیں۔ امریکہ براہ راست جارحانہ جنگ میں داخل ہونے اور فوجی اخراجات برداشت کرنے کے بعد ایسے وقت میں اقتصادی دباؤ کا دائرہ وسیع کر رہا ہے جب ایران کی معیشت 4 دہائیوں سے زائد عرصے کی پابندیوں کے دوران تجارت اور مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے نئے راستے تلاش کرچکی ہے اور تہران کے علاقائی و بین الاقوامی بااثر ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات بھی مزید گہرے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب عراق، متحدہ عرب امارات اور ترکی جیسے مختلف ممالک تک دباؤ پھیلنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وسیع اقتصادی محاصرے کا نفاذ اب صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشمکش نہیں رہا بلکہ اس میں مزید ممالک بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ دباؤ کا میدان تبدیل کرکے وہی مقصد حاصل کرسکتا ہے جو اسے فوجی محاذ پر حاصل نہیں ہوسکا، یا اقتصادی جنگ کو وسعت دینا واشنگٹن کی طاقت کی حدود کو مزید نمایاں کردے گا؟
جنگی میدان سے اقتصادی محاذ کی جانب منتقلی
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر جارحانہ حملوں کے تقریباً 6 ماہ بعد واشنگٹن اب تہران کے خلاف دباؤ کے ایک نئے مرحلے کی بات کررہا ہے۔ اس مرحلے میں صرف فوجی طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے اقتصادی محاصرے، ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی محدود کرنے اور اس کے مالی و تجارتی راستے بند کرنے پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مرحلے کو ایک وسیع اقتصادی آپریشن قرار دیا ہے، جبکہ ان کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ جنگ میں امریکی فوجی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی ذرائع کے جائزوں کے مطابق، کئی ماہ تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے دوران امریکی فوج نے اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست نشانے والے میزائلوں، جن میں اے ٹی اے سی ایم ایس اور پریسیژن اسٹرائیک شامل ہیں، کے تقریباً تمام ذخائر استعمال کرلیے، جبکہ ٹوماہاک میزائلوں اور پیٹریاٹ و تھاڈ انٹرسیپٹرز کے ذخائر کا بھی ایک بڑا حصہ استعمال کیا گیا ہے۔ اسلحے کے ذخائر پر اس دباؤ کے باعث واشنگٹن کے لیے طویل جنگ جاری رکھنا مزید مہنگا ہوجاتا ہے۔
ایسے ماحول میں اقتصادی دباؤ کو اس امید کے ساتھ ایک ایسے ہتھیار میں تبدیل کردیا گیا ہے جس کے ذریعے فوجی کارروائیوں کو مزید وسیع کیے بغیر تہران پر نئی لاگت عائد کی جاسکے۔ امریکی حکومت نے ان ممالک اور کمپنیوں سے جو اب بھی ایران کے ساتھ تجارت کررہے ہیں، کہا ہے کہ وہ تہران سے دور ہوجائیں، جبکہ ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون جاری رکھنے والے فریقوں کو پابندیوں اور اقتصادی سزا کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔ اس طرح واشنگٹن دباؤ کو فوجی میدان سے بینکوں، کمپنیوں، تیل برآمد کرنے والوں اور تجارتی راستوں کے ایک وسیع نیٹ ورک تک منتقل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اس حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ نے جب دیکھا کہ فوجی جنگ اس کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکی تو اس نے دباؤ کے اگلے مرحلے کے لیے اقتصادی جنگ کا نام اختیار کرلیا۔ یہ تجزیہ واشنگٹن کی نئی پالیسی میں نظر آنے والی حقیقت سے ہم آہنگ ہے، یعنی دباؤ کی بنیادی پالیسی ترک نہیں کی گئی بلکہ اسے نافذ کرنے کا میدان تبدیل کردیا گیا ہے۔
چنانچہ اب بنیادی مسئلہ صرف امریکی فوجی طاقت نہیں بلکہ یہ ہے کہ واشنگٹن اپنی مالی اور اقتصادی صلاحیت کو کس حد تک استعمال کرتے ہوئے دباؤ جاری رکھ سکتا ہے، بغیر اس کے کہ اس پالیسی کی لاگت اس کے قابو سے باہر ہوجائے۔
اقتصادی جنگ کا بوجھ امریکی اتحادیوں تک
ایران کے خلاف امریکی اقتصادی جنگ بتدریج دوطرفہ دباؤ کے ایک آلے سے آگے بڑھ کر ان ممالک تک اس کی لاگت منتقل کررہی ہے جو خود واشنگٹن کے قریبی سیاسی اور اقتصادی شراکت دار ہیں۔ عراق، متحدہ عرب امارات اور ترکی ایک جانب امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے پابندیوں کی قیمت کا حساب لگانے پر مجبور ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ تجارت، توانائی اور برآمدی راستوں میں خلل براہ راست ان کے اقتصادی مفادات کو متاثر کررہا ہے۔
عراق اس تضاد کی واضح مثال ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق چند روز قبل محمد باقر قالیباف، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ، کے بغداد کے دورے کے دوران عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر ہیبت الحلبوسی نے آبنائے ہرمز کے راستے تیل برآمد کرنے کے لیے اپنے ملک کو خصوصی رعایت دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ عراق خطے میں جاری واقعات سے شدید متاثر ہوا ہے۔
بغداد کا یہ مطالبہ درحقیقت ظاہر کرتا ہے کہ اقتصادی دباؤ اور توانائی کے راستوں میں رکاوٹ نے ایسے ملک کو بھی، جس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات ہیں، اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضمانت اور رعایت حاصل کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
عراق کے لیے اس مسئلے کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہوتی ہے جب یہ حقیقت سامنے ہو کہ اس کی معیشت کا انحصار بڑی حد تک تیل پر ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق بحران سے قبل عراق کی تیل برآمدات تقریباً 3.5 ملین بیرل یومیہ تھیں، جو ایک مرحلے پر کم ہوکر تقریباً 200000 بیرل یومیہ رہ گئیں۔ تیل کی آمدنی میں کمی کے باعث سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی مشکلات سے دوچار ہوئی۔
ایسے حالات میں بغداد نے ترکی کے ساتھ ایک معاہدے کی جانب رخ کیا ہے جس کے تحت جیحان کے راستے روزانہ کم از کم 750000 بیرل تیل منتقل کیا جائے گا۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے واشنگٹن کی جانب سے پیدا کیا جانے والا بحران اب امریکہ کے قریب سمجھے جانے والے ممالک کو بھی ہنگامی متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کررہا ہے۔
متحدہ عرب امارات کو بھی اسی دوہرے دباؤ کا سامنا ہے۔ ابوظہبی نے 18 اگست کو ایران کے ساتھ تجارت اور مالی لین دین روک دیا، تاہم علاقائی تجارت اور توانائی کے راستوں میں خلل نے اس کے اقتصادی مفادات کو بھی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ دبئی کئی برسوں سے ایران کے ساتھ تجارت اور اشیا کی دوبارہ برآمد سے فائدہ اٹھاتا رہا ہے، اس لیے ان تبادلوں میں کسی بھی کمی سے اس کی اقتصادی سرگرمیوں کا ایک حصہ براہ راست متاثر ہوگا۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ایسے ملک کے لیے بھی اضافی لاگت کا باعث بنتا ہے جس کی معیشت تجارت، نقل و حمل اور درآمدات پر خاصا انحصار کرتی ہے۔
یہ اخراجات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ دنیا بھر میں امریکہ کے اتحادیوں کے لیے توانائی کی بڑھتی قیمتوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر 21 اگست کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 93 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور ایک ہفتے کے دوران اس میں 7 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، کیونکہ آبنائے ہرمز سے آمدورفت میں رکاوٹ بدستور عالمی توانائی منڈی کو تشویش میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔
ایسے حالات میں ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکہ کو نہ صرف فوجی کارروائیوں اور پابندیوں کی براہ راست لاگت برداشت کرنا پڑ رہی ہے بلکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے، اتحادیوں کی تجارت کو نقصان اور علاقائی منڈیوں میں عدم استحکام کے اثرات کا بھی سامنا ہے۔ یوں واشنگٹن کی جانب سے تہران کے خلاف جاری کی گئی اقتصادی جنگ کی قیمت کا ایک حصہ اب خود امریکہ کے اتحادیوں کے سامنے بھی آچکا ہے۔
زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کا فرسودہ ہونا
امریکی دباؤ کے نئے مرحلے میں بنیادی مسئلہ صرف پابندیوں کی شدت نہیں بلکہ دباؤ اور سیاسی نتائج کے درمیان تعلق ہے۔ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ اقتصادی محاصرے اور نام نہاد تاریخ کی سخت ترین پابندیوں کے امتزاج کے ذریعے ایرانی معیشت کو اس مقام تک پہنچایا جاسکتا ہے جہاں وہ تہران کو امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کردے۔
تاہم کئی دہائیوں پر محیط پابندیوں کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ اقتصادی لاگت میں اضافہ لازماً ایران کے سیاسی فیصلوں میں تبدیلی کا باعث نہیں بنتا۔ حتیٰ کہ حالیہ امریکی رپورٹس میں بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ماضی کا اقتصادی دباؤ تہران کو واشنگٹن کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کرسکا اور ٹرمپ انتظامیہ اب اسی ناکام پالیسی کا مزید سخت ورژن آزما رہی ہے۔
ماضی کی مہمات اور آج کی صورت حال میں بنیادی فرق یہ ہے کہ پابندیوں کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے امریکہ کو ایران کے گرد موجود اقتصادی نیٹ ورک کو بھی دباؤ میں لانا ہوگا۔ چین، متحدہ عرب امارات، ترکی اور عراق کو دھمکیاں دینا ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن کا سامنا اب صرف ایرانی معیشت سے نہیں بلکہ تجارت، توانائی اور مالی تعلقات کے ایسے وسیع نیٹ ورک سے ہے جو پابندیوں کے برسوں کے دوران تشکیل پایا ہے۔
مبصرین کے مطابق ثانوی پابندیوں کا دائرہ جتنا وسیع ہوگا، ان پر عمل درآمد بھی اتنا ہی پیچیدہ ہوجائے گا اور واشنگٹن کو پابندیوں کے اثرات برقرار رکھنے کے لیے مالی راستوں، بحری نقل و حمل، انشورنس، بینکوں اور تیسرے فریق کی کمپنیوں کی نگرانی پر مزید وسائل خرچ کرنا پڑیں گے۔
دوسری جانب ایران نے بھی پابندیوں کے برسوں کے دوران دباؤ کا مقابلہ کرنے والی معیشت کی سمت پیش رفت کی ہے۔ غیر رسمی تجارتی نیٹ ورکس، رعایتی قیمتوں پر تیل کی فروخت، ثالثوں کا استعمال اور مغربی مالیاتی نظام سے باہر مالی راستوں کی ترقی اسی نظام کا حصہ ہیں۔
موجودہ حالات میں بھی، جب بحری محاصرے نے ایران کی تیل برآمدات کو شدید محدود کردیا ہے، تہران متبادل برآمدی راستوں، نئے بینکاری انتظامات اور اپنے اقتصادی شراکت داروں میں تنوع پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ حالیہ رپورٹس میں ایران کی جانب سے مغربی کنٹرول والے نظام سے آزاد مالیاتی کوریڈورز قائم کرنے اور تاجکستان کو تیل برآمد کرنے کے معاہدے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پابندیاں اب امریکہ کے لیے بھی بلا قیمت ہتھیار نہیں رہیں۔ اگر واشنگٹن ایران سے تیل خریدنے پر چین کو دباؤ میں لانا چاہتا ہے تو درحقیقت وہ اپنی پابندیوں کی صلاحیت کو دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی اور اسٹریٹجک حریف طاقت کے ساتھ مسابقت میں استعمال کررہا ہوگا۔ اسی طرح اگر وہ دباؤ برقرار رکھنے کے لیے متحدہ عرب امارات، ترکی اور عراق کی تجارت محدود کرتا ہے تو اسے اپنے علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات میں اس کے سیاسی و اقتصادی اخراجات بھی برداشت کرنا ہوں گے۔
اسی دوران ایران کے بحران کے نتیجے میں توانائی کی فراہمی میں خلل نے امریکہ اور یورپ میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور افراط زر کے دباؤ میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ یعنی امریکہ کا اقتصادی ہتھیار اس کی اپنی معیشت کے اتحادیوں سمیت بعض دیگر اقتصادیات کو بھی اس کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔
آخرکار یہ صورت حال امریکہ کی اس صلاحیت کا امتحان بن گئی ہے کہ وہ اقتصادی دباؤ کو سیاسی نتائج میں کس حد تک تبدیل کرسکتا ہے۔ ایران کو اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے لیے واشنگٹن نے دباؤ کا دائرہ ایرانی معیشت سے آگے بڑھاتے ہوئے ایران کے تیل کے خریداروں اور تہران سے منسلک تجارتی راستوں کو بھی ہدف بنایا ہے۔ یہ طرز عمل ظاہر کرتا ہے کہ مطلوبہ نتیجے تک پہنچنے کے لیے امریکہ نے اپنی حکمت عملی کا دائرہ اور اس کی لاگت دونوں بڑھا دی ہیں۔
اگست 2026 میں جرنل آف اکنامک بیہیویئر اینڈ آرگنائزیشن میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق نے بھی پابندیوں کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ زیر مطالعہ مثالوں میں پابندیاں عموماً پابندیاں عائد کرنے والی حکومتوں کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں اور بعض معاملات میں ان کے نتائج الٹ بھی ثابت ہوئے ہیں۔
اس تناظر میں اقتصادی جنگ اگرچہ ایران کی لاگت میں اضافہ کرسکتی ہے، لیکن بڑھتی ہوئی لاگت لازماً سیاسی فیصلوں میں تبدیلی کا باعث نہیں بنتی۔ یہی فاصلہ واشنگٹن کی جانب سے دباؤ کی نئی مہم کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کن عنصر ثابت ہوسکتا ہے۔


مشہور خبریں۔
امریکہ میں 237,000 سرکاری ملازمین کی ذاتی معلومات کا افشاء
?️ 15 مئی 2023سچ خبریں:باخبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ امریکی ٹرانسپورٹیشن سیکٹر میں
مئی
پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، اسلام آباد کا علاقائی صورتحال پر اظہارِ تشویش
?️ 29 جنوری 2026پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، اسلام آباد کا
جنوری
روس کے ساتھ جنگ جلدی ختم نہیں ہوگی: زیلنسکی
?️ 18 ستمبر 2022سچ خبریں: روس پر ملک میں جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام
ستمبر
زرعی شعبے کی صورتحال تشویشناک، 2 سال میں قرضوں کی فراہمی نصف رہ گئی، وزیرِ خزانہ
?️ 14 اکتوبر 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ملک کے
اکتوبر
حکومت انتخابات کیلئے فنڈز کے اجرا کامعاملہ آج پارلیمنٹ میں پیش کرے گی
?️ 10 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے حکم
اپریل
فلسطین مسلمانوں کی قطب نما رہے گا: حزب اللہ کے عہدیدار
?️ 17 نومبر 2021سچ خبریں:لبنان کی حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے سربراہ نے فلسطینی
نومبر
باجوڑ: دھماکے میں ایف سی اور پولیس کے 4 اہلکار شہید
?️ 21 اکتوبر 2021خیبرپختونخوا(سچ خبریں)خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں ریموٹ کنٹرول دھماکے میں
اکتوبر
اسلامی انقلاب نے ایران کو انحصار سے نجات دلائی:انصاراللہ
?️ 12 فروری 2022سچ خبریں:یمن کی انصار اللہ تحریک کے ترجمان نے اسلامی انقلاب کی
فروری