جبری سفارت کاری یا دباؤ کی پالیسی؟ ایران پر نئے امریکی حملوں کے بعد مذاکرات پر سوالات

جنگ بندی کی خلاف ورزی

?️

سچ خبریں:ایران کے مختلف علاقوں پر فضائی حملوں کے آغاز کے ساتھ ہی امریکہ نے ایک بار پھر کھلے طور پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مذاکرات اور گفتگو  کے عمل کو بے معنی بنا دیا۔

ایران کے مختلف علاقوں پر نئے امریکی فضائی حملوں کے بعد مذاکراتی عمل ایک بار پھر تنازع کا شکار ہو گیا۔ امریکی ذرائع کے مطابق ان حملوں کا مقصد تہران پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے، جبکہ ایران نے اسے جارحیت اور جبری سفارت کاری قرار دیا ہے۔

ایران کے مختلف علاقوں پر فضائی حملوں کے آغاز کے بعد مغربی ایشیا میں امریکی فوجی کمان نے اعلان کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

اسی دوران ایک امریکی خبر رساں ویب سائٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ان حملوں کا مقصد تہران پر معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے، تاہم یہ اقدامات فوجی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایک امریکی اخبار نے محکمہ دفاع کے حکام کے حوالے سے لکھا کہ یہ حملے جبری سفارت کاری کے دائرے میں انجام دیے جا رہے ہیں اور ان کا مقصد ایران کو مذاکراتی میز پر رعایتیں دینے پر مجبور کرنا ہے۔

گزشتہ شب بھی امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کو جواز بناتے ہوئے ایران کے جنوبی علاقوں پر فضائی حملے کیے تھے، جن کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے فوری، مضبوط اور فیصلہ کن کارروائی کی۔ اس کے نتیجے میں اردن، بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں کے نئے مرحلے کا حکم ایسے وقت میں جاری کیا گیا جب انہوں نے ایک روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور معاہدہ بہت قریب ہے۔

بظاہر امریکی صدر کا یہ طرز عمل متضاد دکھائی دیتا ہے، تاہم ان کے بیانات اور عملی اقدامات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ ایسے مذاکرات چاہتے ہیں جن میں اسلامی جمہوریہ ایران امریکی مطالبات کو مکمل طور پر تسلیم کرے جبکہ واشنگٹن کسی قسم کی رعایت نہ دے۔ اس طرز فکر کو ایران کے ناقدین غیر مشروط تسلیم کی پالیسی قرار دیتے ہیں۔

تاہم زمینی حقائق امریکی توقعات سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ ایران کے عسکری اور سماجی استحکام نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ایرانی قوم اپنی آزادی اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے بھرپور مزاحمت کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایران نے ہمیشہ برابری کی بنیاد پر مذاکرات اور منصفانہ معاہدے کی حمایت کی ہے اور جنگ کو ترجیح نہیں دی، لیکن ملکی تاریخ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ ایرانی عوام دباؤ اور طاقت کے استعمال کے سامنے سر نہیں جھکاتے۔

اس تجزیے کے مطابق امریکی حکومت اور اسرائیلی حکومت نے جنگ رمضان کا آغاز اس تصور کے ساتھ کیا تھا کہ وسیع حملوں اور اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے سے اسلامی جمہوریہ ایران دفاعی صلاحیتوں سے دستبردار ہو جائے گا اور مستقبل میں واشنگٹن کی خواہشات کے مطابق عمل کرے گا۔

تاہم ایرانی مسلح افواج کی مزاحمت اور عوامی استقامت نے حالات کا رخ بدل دیا، جس کے نتیجے میں امریکہ کو جنگ بندی قبول کرنا پڑی۔ اس کے بعد یہ تصور سامنے آیا کہ میدان جنگ میں حاصل نہ کیے جا سکنے والے اہداف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں، لیکن مذاکراتی عمل میں بھی ایرانی سفارت کاروں نے سخت مؤقف اختیار کیا۔

ایران کے اعلیٰ سیاسی اور عسکری حکام متعدد بار یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ جنگ کے تسلسل کے خواہاں نہیں، تاہم وہ مسلط کردہ جنگ اور جبری سفارت کاری کو قبول نہیں کریں گے اور میدان جنگ کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی ملکی مفادات کے دفاع کے لیے بھرپور مزاحمت جاری رکھیں گے۔

مشہور خبریں۔

اسکولوں  میں موسم سرما کے حوالے سے تعطیلات کا فیصلہ کل ہوگا

?️ 15 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) اسکولوں میں موسم سرما کی تعطیلات کا حتمی

غزہ جنگ کے بعد دنیا بھر میں اسرائیل مخالف جذبات میں 360 فیصد اضافہ

?️ 20 جنوری 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کے خبر رساں ادارے واللا نیوز نے بتایا

 حزب‌الله کا میڈیا کی جعلی خبروں کے بارے میں رد عمل 

?️ 11 اپریل 2025سچ خبریں:لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب‌الله نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے حالیہ

امریکا کے لیئے اب افغانستان سے بھاگنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں

?️ 13 مارچ 2021(سچ خبریں) بائیڈن انتظامیہ نے افغان امن عمل میں آنے والے ڈیڈ

نصراللہ پوری ملت اسلامیہ کے شہید ہیں: صنعاء

?️ 12 جنوری 2025سچ خبریں: یمن کے سینیئر رکن محمد علی الحوثی نے صیہونی حکومت

2021 میں انسانی حقوق کے سلسلہ میں مغربی کا سیاہ ریکارڈ

?️ 29 دسمبر 2021سچ خبریں:سال 2021 اپنے آخری ایام اور گھڑیوں سے گزر رہا ہے

معرکہ حق بھارت کی یادداشت سے کبھی ختم نہیں ہوگا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

?️ 28 جون 2025کراچی (سچ خبریں) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ

غزہ جنگ میں یمنیوں کا پلڑا بھاری

?️ 5 دسمبر 2023سچ خبریں: صہیونی بحری جہازوں پر قبضے کے ساتھ ساتھ امریکی کروزروں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے