?️
سچ خبریں:ایک تجزیاتی کالم میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی حکمت عملی ایران کے مقابلے میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکی، جبکہ علاقائی اور سفارتی تبدیلیوں نے نئے معادلات کو جنم دیا ہے۔
حالیہ ہفتوں اور مہینوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا اور بعض اوقات غیر متوقع انداز میں ایران کے ساتھ امن اور معاہدے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی سے مصالحتی لہجے کی طرف یہ تبدیلی بعض مبصرین کے نزدیک ایک نئی تزویراتی سوچ کا اظہار ہو سکتی ہے، لیکن گہرے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رویہ پیچیدہ علاقائی اور بین الاقوامی حقائق سے جڑا ہوا ہے۔
تجزیہ نگار کے مطابق امریکہ نے گزشتہ دو برسوں میں اقتصادی دباؤ، پابندیوں، سفارتی اقدامات اور فوجی طاقت سمیت مختلف ذرائع استعمال کیے، تاہم ایران نہ صرف اپنے سیاسی ڈھانچے کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ بعض شعبوں میں اپنی علاقائی پوزیشن بھی مستحکم کرتا دکھائی دیا۔
اقتصادی محاذ پر چیلنج
تجزیہ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سخت پابندیوں کے باوجود ایران نے متبادل اقتصادی راستے اختیار کیے، غیر تیل برآمدات کو فروغ دیا اور علاقائی تجارت کو وسعت دی، جس کے نتیجے میں دباؤ کی پالیسی اپنے تمام اہداف حاصل نہ کر سکی۔
تجزیہ نگار کے مطابق امریکی پالیسی ساز اب اس حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں کہ صرف پابندیوں کے ذریعے ایران کو مطلوبہ سیاسی تبدیلیوں پر آمادہ کرنا آسان نہیں رہا۔
فوجی اور دفاعی توازن
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران کے میزائل اور بغیر پائلٹ فضائی نظاموں نے خطے میں توازنِ طاقت کے بارے میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ نگار کے مطابق ان صلاحیتوں نے ممکنہ فوجی تصادم کی لاگت میں اضافہ کیا ہے۔
تجزیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خطے میں کسی بڑے فوجی تصادم کے نتائج صرف فریقین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
علاقائی اتحادوں میں تبدیلی
تجزیہ نگار کا استدلال ہے کہ خلیج فارس کے بعض ممالک نے حالیہ برسوں میں اپنی خارجہ پالیسیوں میں تنوع پیدا کیا ہے اور علاقائی کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو ترجیح دی ہے۔
اس تناظر میں بعض عرب ممالک نے سفارتی روابط اور ثالثی کی کوششوں کو فروغ دیا، جسے خطے میں بدلتے ہوئے سیاسی ماحول کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر متوازن جنگ اور علاقائی اثرات
تجزیہ میں ایران کے علاقائی اتحادیوں کے کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں مختلف غیر ریاستی عناصر نے علاقائی سلامتی کے معادلات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
تجزیہ نگار کے مطابق ان حالات نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے نئی تزویراتی مشکلات پیدا کی ہیں۔
مذاکرات اور بیانیے کی جنگ
تجزیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سفارت کاری کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ اور رائے عامہ کی سطح پر بھی ایک اہم مقابلہ جاری ہے، جہاں مختلف فریق اپنی اپنی تعبیر اور بیانیہ پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تجزیہ نگار کے مطابق مستقبل میں کسی بھی ممکنہ معاہدے کی سیاسی تشریح اور اس کے اثرات علاقائی سیاست میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کے اختتام پر یہ مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہو گا جب تمام فریق ایک دوسرے کے بنیادی مفادات اور سلامتی کے خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے جامع سفارتی حل کی جانب پیش قدمی کریں۔


مشہور خبریں۔
وزیراعظم سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات، پہلگام واقعہ پر نقطہ نظر سے آگاہ کیا
?️ 5 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وزیراعظم ہاؤس میں
مئی
داعش کی خراسان شاخ کا سرغنہ زندہ ہے یا مردہ؟!
?️ 10 جون 2023سچ خبریں:کچھ ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ داعش کی خراسان شاخ
جون
جو بائیڈن کو پیچھے دھکیلنے کے لیے امریکہ میں صیہونی منصوبہ
?️ 29 اکتوبر 2021سچ خبریں: ٹرمپ سنچری ڈیل ایک خالصتاً صہیونی منصوبہ تھا جسے ریاستہائے
اکتوبر
صیہونیوں کے ہاتھوں3 سالہ فلسطینی بچے کا قتل
?️ 15 جون 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی فوج نے اس حکومت کے ایک افسر کے
جون
فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو کا 12 سالہ اقتدار ختم، نیفتالی بینیٹ نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبہال لیا
?️ 14 جون 2021تل ابیب (سچ خبریں) دہشت گرد ریاست اسرائیل کے انتہاپسند اور فلسطینیوں کے
جون
یورپی یونین کا فلسطینیوں کے قتل عام کے خلاف بیان
?️ 24 جون 2023سچ خبریں:فلسطین میں یورپی یونین کے نمائندے سون کوہن وون برگڈورف نے
جون
اسرائیلی فضائیہ حزب اللہ کی فائر کی زد میں
?️ 23 ستمبر 2024سچ خبریں: آج صبح حزب اللہ نے صہیونی دشمن کے خلاف کارروائیوں
ستمبر
ترکیہ فضائی حدود اسرائیلی صدر کے طیارے کے لیے بند
?️ 28 اپریل 2026 سچ خبریں:ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق، اسرائیلی حکومت کے
اپریل