مشرق وسطی میں دہشت گردی کا منھ بولا باپ

دہشت گردی

?️

سچ خبریں:خطے کی اقوام کے خلاف امریکی جرائم اور صیہونی حکومت کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں سعودی دہشت گردی کے بارے میں سید نصر اللہ کے بیانات خطے میں امریکی،سعودی، صیہونی محور کے لیے اہم انتباہات پر مشتمل ہیں۔
پیر کی رات جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس اور ان کے وفادار ساتھیوں کے فاتح کمانڈروں کی دوسری برسی کے موقع پر ایک تقریر میں لبنان میں حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے خطے میں اگلے مرحلے اور نئی مساوات کا خاکہ پیش کیا جو صرف ایک ملک تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے خطے کو متاثر کرتے ہیں۔

سید حسن نصر اللہ کی تقریر کا ایک اہم حصہ دوست اور دشمن کی پہچان اور رویے اور کردار میں انھیں پہچاننے کے معیار کی پیمائش سے متعلق تھا،حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے مختلف سطحوں پر خطے کے ہر ایک ملک کے لیے نشانیوں اور دلائل کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ خطے کی قوموں کے دشمن اور دوست کے درمیان کیسے رہنا ہے، یعنی امریکہ اور اس کے دہشت گرد ٹولے (سعودی عرب اور صیہونی حکومت) کو مزاحمت کے محور سے الگ کر دیا۔

جہاں تک دہشت گردی کے لیے سعودی حمایت کا تعلق ہے تو داعش کے ساتھ اس کے ظاہری تعاون کے علاوہ، نیویارک ٹائمز نے فروری 2015 میں اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ القاعدہ تکفیری دہشت گرد گروہ کے نمایاں عناصر میں سے ایک زکریا موسوی کے لیے سعودی عرب کا مالیاتی تحفظ میں کردار ہے، اس دہشت گرد گروپ کے بجٹ کا ذکر کیا ۔

رپورٹ کے مطابق زکریا موسوی نے امریکی جج جارج ڈینیئلز کو ایک خط لکھا، جو اس وقت سعودی عرب کے خلاف نائن الیون کے متاثرین کے اہل خانہ کی شکایات کی نگرانی کر رہے تھے، جس میں کہا گیا تھا کہ وہ حقائق کو منظر عام پر لانے کا ارادہ رکھتے ہیں،موسوی نے اس وقت اعتراف کیا کہ انہیں 1998 یا 1999 میں افغانستان میں القاعدہ کے رہنماؤں نے القاعدہ کو عطیہ کرنے والوں کی فہرستیں مرتب کرنے کے لیے مقرر کیا ، انہوں نے مزید کہا کہ القاعدہ کو عطیہ کرنے والوں کی فہرست میں سعودی انٹیلی جنس کے اس وقت کے ڈائریکٹر ترکی الفیصل، امریکہ میں اس وقت کے سعودی سفیر بندر بن سلطان اور ارب پتی شہزادے ولید بن طلال کے نام شامل تھے۔

اس کے ساتھ ساتھ دیگر سعودی شخصیات کی ایک بڑی تعداد کا بھی ذکر کیا،انہوں نے سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ساتھ اپنے براہ راست تعلقات کا بھی حوالہ دیا، جو اس وقت شہزادے تھے اور کہاکہ میں نے سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد سے ملاقات کے دوران اسامہ بن لادن کا ایک خط بھی ان کے حوالے کیا۔

 

مشہور خبریں۔

سعودی میں سفیرِ پاکستان نے پاکستانی طلباء کو بڑی خوشخبری سنادی

?️ 9 اکتوبر 2021ریاض/اسلام آباد(سچ خبریں) سفیر پاکستان بلال اکبر کا پاکستانی طلباء کو خوشخبری

عمران خان کی ایکس اکاؤنٹ پوسٹس غیرقانونی قرار دے کر ہٹانے کی درخواست پر نوٹس جاری

?️ 7 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ایکس

نیتن یاہو کی حکومت دہشت گرد ہے:صیہونی اخبار

?️ 4 مارچ 2023سچ خبریں:معروف صیہونی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں صیہونی کابینہ کے

عالمی بینک نے پاکستان کیلئے 15 کروڑ ڈالرز کی منظوری دیدی

?️ 15 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 15 کروڑ

’غزہ منصوبے‘ کو نہیں مانتے، پاکستان آزاد خارجہ پالیسی اپنائے، حافظ نعیم الرحمٰن

?️ 23 نومبر 2025لاہور: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا

ایرانی حملے نے صیہونیوں کے لیے کیا ثابت کیا؟حماس کی زبانی

?️ 18 اپریل 2024سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے صیہونی حکومت کے

بن سلمان کے نیوم منصوبے کو درپیش پیچیدہ چیلنجز

?️ 24 جنوری 2023سچ خبریں:سعودی عرب کے نیوم منصوبے کے نفاذ کے آغاز سے لے

ایران کے خلاف جنگ مہنگا اور خطرناک فیصلہ ہوگا:سابق سعودی عہدہ دار

?️ 22 فروری 2026ایران کے خلاف جنگ مہنگا اور خطرناک فیصلہ ہوگا:سابق سعودی عہدہ دار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے