قطر 2022 ورلڈ کپ کے نفرت انگیز

صیہونیوں

?️

سچ خبریں:گزشتہ دہائی میں صیہونیوں نے عوامی سفارت کاری اور میڈیا کے ذریعے عرب معاشرے اور خطے میں وقار حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن سفارتی معاہدوں سے ہٹ کر انہیں ایک مختلف اور تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑا جو ان کے لیے لوگوں کے دلوں میں پائی جانے والی نفرت تھی۔

صہیونیوں کے لیے قطر میں اچھا نہیں رہا، یہ وہ جملہ ہے جو ورلڈ کپ کے دوسرے رونڈ میں پہنچتے ہی صہیونی میڈیا اور ان کے رپورٹرز کی زبان سے پہلے سے زیادہ سننے کو مل رہا ہے،صیہونی چینل کان کے رپورٹر کا کہنا ہے کہ ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے جیسے ہم ایک جزامی ہوں، وہ ہمیں پسند نہیں کرتے!

عالمی کپ کی کوریج کے لیے قطر کا سفر کرنے والے صہیونی ٹی وی چینل کے رپورٹر ڈور ہافمین نے قطری شہریوں کے اپنے ساتھ انتہائی منفی رویے کی شکایت کی، اس کی اسرائیلی شہریت کے بارے میں جاننے کے بعد قطری شہریوں نے اس کے ساتھ کیسا سلوک کیا، اس بارے میں اپنی رپورٹ میں اس نے کہا کہ مجھے ریسٹورنٹ سے باہر نکال دیا گیا، ریسٹورنٹ کے مالک نے زبردستی میرا فون چھین لیا اور میرے موبائل سے ورلڈ کپ کی تمام تصاویر ڈیلیٹ کر دیں، کار ڈرائیور کو جب معلوم ہوا کہ میں اسرائیلی ہوں تو اس نے مجھے اپنی منزل تک لے جانے سے انکار کردیا ، ہم یہاں ایک مشکل صورتحال میں ہیں کیونکہ تقریباً ہر کوئی ہماری شناخت جاننے کے بعد ہمیں مسترد کر دیتا ہے۔

واضح رہے کہ میچوں اور کھیل کی سائیڈ لائنز میں فلسطین کے جھنڈے بھی صیہونیوں کی شکایات کا باعث بنے ہیں یہاں تک کہ صیہونی حکومت کے 12 ٹی وی چینل نے اپنی ایک رپورٹ میں اس بات پر زور دیا کہ تیونسیوں کے لیے ورلڈ کپ میں فلسطین ہر چیز سے زیادہ اہم ہے، اس چینل نے بتایا کہ تیونس کی قومی فٹ بال ٹیم اپنے دوسرے میچ میں آسٹریلیا کا سامنا کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود اس ٹیم کے شائقین ایک اور مسئلے میں مصروف ہیں۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تیونس ٹیم کے بہت سے شائقین فلسطینی قوم کی حمایت میں مظاہروں میں شریک ہوتے ہیں اور ان گیمز کے دوران فلسطینی قوم کی حمایت کے پیغامات دیتے ہیں اور اسٹیڈیم میں آزادی فلسطین کے موضوع پر تحریریں اپنے ساتھ لاتے ہیں، اس حد تک کہ ان میں سے بعض ان مقابلوں کو فلسطین کے واقعات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ایک اچھا موقع سمجھتے ہیں۔

صیہونی صحافیوں نے ایران اور ویلز کے میچ کے بعد ایران انٹرنیشنل کے لیے ایک رپورٹ بھی نشر کرنے کی کوشش کی لیکن یقیناً کچھ تماشائیوں کی چوکسی اور ان کی پہچان کی وجہ سے وہ بھی ان کے لیے شرمندگی کا باعث بنی، ایران ویلز کے میچ کے بعد کی تصاویر دکھانے والی رپورٹ میں صیہونی اخبار معاریو نے لکھا کہ کیا واقعی دوحہ میں اسرائیلی صحافیوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے یا وہ پریشان ہو رہے ہیں ، وہ تسلیم کرتے ہیں کہ صہیونیوں کے لیے یہ صورتحال حوصلہ افزا سے زیادہ تشویشناک اور خطرناک ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یقیناً انہیں اس کی توقع تھی کیونکہ ہم ایک ایسے ملک میں ہیں جو حماس کی مالی مدد کرتا ہے، انہوں نے ایک رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ اگرچہ ہم نے 4 عرب ممالک کے ساتھ نارملائزیشن کے معاہدے کیے ہیں لیکن یہاں کے لوگوں کی اکثریت ہمیں پسند نہیں کرتی۔

مشہور خبریں۔

کورونا کے بڑھتے کیسز پر وزیراعلیٰ سندھ کی وفاقی حکومت کے سامنے اہم تجاویز

?️ 31 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے خدشہ ظاہر

امریکہ نے اپنے ایٹمی وار ہیڈز کن ممالک میں چھپا رکھے ہیں؟

?️ 9 اپریل 2023سچ خبریں:نیٹو کے نیوکلیئر شیئرنگ نامی معاہدے کے ساتھ ساتھ امریکہ نے

صیہونی وزیر اعظم کی ایران کے خلاف ہرزہ سرائی

?️ 12 اپریل 2021سچ خبریں:صہیونی وزیر اعظم نے اس حکومت کے فوجی اور انٹلی جنس

پوپ فرانسس کی برطانیہ اور فرانس سے تارکین وطن کا احترام کرنے کی اپیل

?️ 29 نومبر 2021سچ خبریں:پیرس اور لندن کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے دوران کیتھولک

وزیر اعظم کا ایرانی صدر، دیگر حکومتی شخصیات کے المناک انتقال پرمنگل کے دن ملک بھر میں سوگ کا اعلان

?️ 21 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر

سرکاری امور میں آرمی چیف کے کردار کے تعین کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

?️ 28 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ

ایک اور شامی سائنسدان کا قتل

?️ 4 فروری 2025سچ خبریں: شام میں ایک اور معروف شامی سائنسدان کو بے دردی

فلسطین سے متعلق مواد دکھانے پرامریکی سیاستدانوں کا ٹک ٹاک پر پابندی کا مطالبہ

?️ 13 نومبر 2023سچ خبریں: فلسطینیوں اور حماس سے متعلق مواد کی تشہیر پر متعدد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے