مصر کو مزاحمت کی حمایت کے لیے ایران کی حکمت عملی استعمال کرنی چاہیے:عطوان

ایران

?️

سچ خبریں:عرب دنیا کے معروف تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ حال ہی میں مصر اور صیہونی حکومت کے درمیان غیر معمولی کشیدگی پیدا ہوئی ہے، اس بات پر زور دیا کہ مصریوں کو خود کفیل ہونے اور مزاحمت کی حمایت کے لیے ایران کی حکمت عملی اور تجربے کو استعمال کرنا چاہیے۔

عرب دنیا کے معروف تجزیہ کار اور انٹر ریجنل اخبار رائے الیوم کے ایڈیٹر عبدالباری عطوان نے اپنے تازہ ترین کالم میں مصر اور صیہونی حکومت کے درمیان حال ہی میں سامنے آنے والے اختلافات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان دنوں مصر اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں اکثر بحران کی خبریں آرہی ہیں ۔

انہوں نے لکھا کہ اس کشیدگی کو بیان کیا جاسکتا ہے کہ صیہونی حکومت کے پریس اور ٹیلی ویژن چینلوں نے مصری حکام کے خلاف سخت مؤقف اپنایا ہے، جن میں سے تازہ ترین حملہ گزشتہ ہفتے منگل کو ہوا، جب اسرائیل ہیوم اخبار اور اسرائیل ٹی وی چینل 7 سمیت متعدد عبرانی میڈیا اداروں نے مصری حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

مصری حکام کے خلاف صہیونی میڈیا کا یہ حملہ اس بہانے کیا گیا کہ مصری حکام نے مصری شہریوں اور تاجروں کے مقبوضہ فلسطین میں داخلے یا اسرائیلیوں کے مصر میں داخلے پر روک لگا دی ہے یا کم از کم وہ اس عمل میں سختی برت رہے ہیں، اس کے علاوہ جو بھی مصری شہری صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے یا مقبوضہ فلسطین کا سفر کرنا چاہتا ہے، اسے گرفتار کیا جا سکتا ہے؛ جیسا کہ یوسف زیدان اور اس سے پہلے محمد رمضان کے ساتھ ہوا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بدھ کے روز مصر نے 4 طیاروں کے ساتھ مصر کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 11 اسرائیلی پائلٹوں کو ملک بدر کر دیا تھا اور اس کے علاوہ مصری حکام نے ان اسرائیلی پائلٹوں کے طیاروں کو واپس جانے کے لیے ایندھن فراہم نہیں کیا ، دریں اثنا صیہونی حکومت کے "کان” چینل نے خبر دی ہے کہ ان پائلٹوں کے پاس لینڈنگ کی اجازت تھی، بلاشبہ یہ معاملہ اب بھی غیر یقینی کی فضا میں ہے اور یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیلی پائلٹوں کو گرفتار کیا گیا یا انہیں مصر سے نکلنے کی اجازت دی گئی لیکن بہر صورت یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مصر کے شہر شرم الشیخ میں جو چند روز قبل منعقد ہونے والے موسمیاتی سربراہی اجلاس جس صیہونی حکومت کے سربراہ نے بھی شرکت کی تھی، میں اسرائیلی میڈیا کی موجودگی بہت محدود تھی اور کچھ ایک اسرائیلی چینلوں کے علاوہ دیگر صیہونی میڈیا کو مصری شہریوں سے انٹرویو لینے کی اجازت نہیں تھی، بہر حال کہا جا سکتا ہے کہ قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ کی خبروں کی کوریج کے لیے صیہونیوں کی سرگرمی کے برعکس مصر میں اسرائیلی میڈیا کی موجودگی بہت کم تھی۔

البتہ ہمیں یہ بتانا ضروری ہے کہ اسرائیلی میڈیا کے قطر میں عرب شہریوں کے انٹرویوز کا نتیجہ بھی صہیونیوں کی خواہش کے برعکس نکلا کیونکہ ان شہریوں نے صحافیوں اور اسرائیلی میڈیا کے نمائندوں سے بات کرنے سے انکار کر دیا تھا، اس کے علاوہ جن ممالک کی حکومتیں اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لا چکی ہیں وہاں کے عرب شہری بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے صہیونی صحافیوں کے انٹرویو لینے سے انکار کیا۔

عطوان نے اپنے کالم میں مزید لکھا ہے کہ ان دنوں کچھ لوگ یہ بحث کر سکتے ہیں کہ اسرائیل اور مصر کے تعلقات مضبوط ہیں اور صحرائے سینا میں دونوں اطراف کی فوجوں کے درمیان ہم آہنگی ہے، البتہ ظاہری طور پر یہ سچ ہو سکتا ہے لیکن خفیہ طور پر صورت حال بالکل مختلف نظر آتی ہے، صیہونی حکومت کی فوجی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل مصری فوج کو اب بھی اپنی حکومت کو لاحق عظیم خطرات میں سے ایک سمجھتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ صیہونی حکام مصر اور بالخصوص اس کی فوج کو عراقی فوج کی طرح کمزور کرنا چاہتے ہیں۔

 

مشہور خبریں۔

نور مقدم، سارہ انعام کے والدین کا چیف جسٹس سے کیسز کا نوٹس لینے کا مطالبہ

?️ 25 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) مقتول نور مقدم اور سارہ انعام کے والدین نے

نیتن یاہو کو جنگ روکنے پر مجبور کریں!

?️ 1 جون 2025سچ خبریں: جہاں اسرائیلی وزیر اعظم اور ان کی انتہا پسند کابینہ

پی ٹی آئی کو مذاکرات کرنے ہیں تو سپیکر کی میز پر لوٹنا ہوگا۔ طلال چودھری

?️ 13 جولائی 2025فیصل آباد (سچ خبریں) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا

کورونا جنگ میں امریکی حکومت کے 400 ارب ڈالر کی چوری

?️ 13 جون 2023سچ خبریں:ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جعلسازوں نے ممکنہ طور پر کورونا

صیہونی فوجیوں کے موبائل فونز کی معلومات حماس کے ہاتھ میں

?️ 5 جولائی 2022سچ خبریں:صیہونی میڈیا کا کہنا ہے کہ فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک

پی آئی اے نے 22 سالوں کے بعد عرب اسلامی ممالک کے لئے پرواز کا آغاز کیا

?️ 19 ستمبر 2021دمشق (سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق پاکستان کی قومی ائیرلائن پی آئی

امریکی یونیورسٹیوں میں اسرائیل مخالف مظاہروں کا اہم موڑ

?️ 2 مئی 2024سچ خبریں: بلاشبہ آج امریکی یونیورسٹیوں میں جو کچھ ہو رہا ہے

اگر اسرائیل اپنے قیدی چاہتا ہے تو اسے قیمت ادا کرنی ہوگی: حماس

?️ 20 فروری 2024سچ خبریں:غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے