سیاسی کشیدگی اور اپوزیشن کے مارچ کے درمیان پاک فوج کے نئے کمانڈر کی تقرری

فوج

?️

سچ خبریں:پاکستان کے اقتدار کی ایک شاخ سمجھنے والی فوج کے نئے کمانڈر کا اعلان کر دیا گیا ہے ، تاہم یہ تقرری حکومت کے مخالفین کے بڑے مارچ کے تسلسل اور پاکستان کی پہلے سے زیادہ کشیدہ سیاسی صورتحال میں انجام پائی ہے ۔

پاک فوج کے 17ویں کمانڈر انچیف کی تقرری اندرون ملک جاری سیاسی ہنگامہ آرائی اور معزول وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت کے مخالفین کے پاکستان کی موجودہ حکومت کے مستعفی ہونے اور قبل از وقت انتخابات کی فوری تاریخ کا اعلان کرنے کے پر اصرار کے موقع پر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ حکومت پاکستان کی کابینہ کا آج اجلاس ہوا اور وزیراعظم کی تجویز پر لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر کو پاک فوج میں جنرل کے عہدے پر ترقی کرتے ہوئے باضابطہ طور پر 17ویں کمانڈر کے طور پر متعارف کرایا گیا،یاد رہے کہ پاکستان کے نئے آرمی چیف اس سے قبل آئی ایس آئی کے سربراہ اور کچھ اہم عہدوں پر کام کر چکے ہیں، تاہم اس تقرری کی منظوری صدر پاکستان کی طرف سے دی جانی باقی ہے۔

پاک فوج کے نئے کمانڈر کا نام صدر کو ان کی تقرری کی توثیق کے لیے بھیجنا رسمی نوعیت کا ہے کیونکہ فوج کی کمان کے لیے مطلوبہ شخص کا انتخاب اور اس کا تعارف وزیر اعظم کے مکمل اختیار میں ہے، یاد رہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ آنے والے دنوں میں اپنی کمان کی 6 سالہ مدت ختم ہونے کے بعد باضابطہ طور پر پاکستان کے سب سے طاقتور ادارے کی سربراہی سے دست بردار ہوں گے۔

قابل ذکر ہے کہ فوج میں 46 سال کی خدمات کے بعد اگلے چند روز میں کمانڈر کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے باجوہ نے پاکستان کی بعض سیاسی قوتوں کے فوج مخالف طرز عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد مسلح افواج ملک کے سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی جس کے بدلے میں سیاسی جماعتوں سے بھی یہ توقع ہے کہ وہ فوج کے سلسلہ میں اپنا نقطہ نظر بدلیں گے اور پاکستان کے مفادات کو دیکھیں گے نیز ملک کے خطرناک معاشی بحران پر قابو پائیں گے۔

درایں اثنا ایک الگ حکم میں وزیراعظم پاکستان نے جنرل سحر شمشاد میراز کو مسلح افواج کی جوائنٹ اسٹاف کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا، شمشاد مرزا اس ہیڈ کوارٹر کے موجودہ سربراہ ندیم رضا کی جگہ لینے والے ہیں، قابل ذکر ہے کہ جنرل قمرجاوید باجوہ ایسے حالات میں نئے جنرل کو کمانڈ سونپ رہے ہیں کہ حالیہ برسوں میں، خاص طور پر نومبر 2019 میں اپنی مدت ملازمت میں 3 سالہ توسیع کے بعد، انہیں ملک کے اندر اور باہر بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا خاص طور پر یہ کہ پاکستان کی طاقتور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف عمران خان سمیت حزب اختلاف کے غیر معمولی موقف نے فریقین کے درمیان اختلافات کو یہاں تک بڑھا دیا کہ نئے آرمی چیف کی تقرری حالیہ مہینوں میں اس ملک کے سیاستدانوں اور عسکری رہنماؤں کے درمیان ایک متنازعہ مسئلہ بن گئی ہے۔

پاکستان میں بہت سے ماہرین یا حکومت کے مخالفین کا خیال تھا کہ جنرل باجوہ کی کمان کی مدت میں تیسری بار توسیع کی جائے گی، لیکن انہوں نے ذاتی طور پر فوج کے کمانڈر کے عہدے پر مسلسل موجودگی کی مخالفت کی اور کافی عرصہ پہلے اعلان کر دیا تھا کہ وہ مزید اس عہدہ پر باقی رہنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

 

مشہور خبریں۔

امریکہ اور صیہونی حکومت پوری امت اسلامیہ کے لیے خطرہ ہیں: انصار اللہ 

?️ 21 جولائی 2025سچ خبریں: یمن کی انصار اللہ تحریک کے رہنما سید عبدالملک بدرالدین

ایران اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اسرائیل خود ہی ٹوٹ رہا ہے: عبرانی میڈیا

?️ 28 مارچ 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت میں داخلی مظاہروں کے جس جہت کو اپنا 12واں

ہمارے نمبرز پورے ہوں گے تو تحریکِ عدم اعتماد لے آئیں گے۔ گورنر خیبر پختونخوا

?️ 3 جولائی 2025پشاور (سچ خبریں) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے

بحیرہ احمر امریکہ کے لیے ڈراؤنا خواب کیوں بن گیا ہے؟

?️ 8 فروری 2024سچ خبریں:امریکی میڈیا نے اپنے تجزیے میں یمن کی مسلح افواج کے

بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس میں شرکت کیلئے غیر ملکی وفود اسلام آباد پہنچ گئے

?️ 10 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس میں شرکت کیلئے سعودی

جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخ کرنے کا جامعہ کراچی کا فیصلہ معطل

?️ 5 ستمبر 2024کراچی: (سچ خبریں) سندھ ہائیکورٹ نے جامعہ کراچی کی سنڈیکیٹ کمیٹی کی

پاکستان کے ساتھ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پر دوسرے جائزے کے لیے تیار ہیں، آئی ایم ایف

?️ 8 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ نئی

چینی صدر نے میکرون کو الیکشن جیتنے پر مبارکباد دی

?️ 25 اپریل 2022سچ خبریں:  چینی صدر شی جن پنگ نے پیر کو اپنے فرانسیسی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے