?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو محفوظ شدہ فیصلے سنانے کی مشروط اجازت دے دی۔
میڈیا کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ نے مقدمے کی سماعت کی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس مسرت ہلالی جسٹس عرفان سعادت خان بینچ میں شامل ہیں۔
سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے خصوصی عدالتوں سے 15 سے 20 ملزمان رہا کیے جانے کا امکان ظاہر کر دیا۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بریت اور کم سزا والوں کو رعایت دے کر رہا کیا جائے گا، مجموعی طور پر 105 ملزمان فوج کی تحویل میں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمان کی رہائی کے لیے 3 مراحل سے گزرنا ہوگا، پہلا مرحلہ محفوظ شدہ فیصلہ سنایا جانا، دوسرا مرحلہ اس کی توثیق ہوگی، تیسرا مرحلہ کم سزا والوں کو آرمی چیف کی جانب سے رعایت دینا ہوگا۔
اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ خصوصی عدالتوں کو محفوظ شدہ فیصلے سنانے کی اجازت دی جائے، اس پر جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ اگر اجازت دی بھی تو اپیلوں کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوگی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ جنہیں رہا کرنا ہے ان کے نام بتا دیں، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تک خصوصی عدالتوں سے فیصلے نہیں آجاتے نام نہیں بتا سکتا، جن کی سزا ایک سال ہے انہیں رعایت دے دی جائے گی۔
کمرہ عدالت میں موجود بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی بات سن کر مایوسی ہوئی ہے۔
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر یہ ملزمان عام عدالتوں میں ہوتے تو اب تک باہر آچکے ہوتے، اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آپ مقدمات انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں چلوانا چاہتے ہیں؟ انسداد دہشتگردی میں تو 14 سال سے کم سزا ہے ہی نہیں۔
فیصل صدیقی نے کہا کہ انسداد دہشتگردی عدالت ہوتی تو اب تک ملزمان کی ضمانتیں ہو چکی ہوتیں، ان مقدمات میں تو کوئی شواہد ہیں ہی نہیں۔
جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ ایف آئی آر میں کیا دفعات لگائی گئیں ہیں؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایف آئی آر میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور انسداد دہشتگردی کی دفعات لگائی گئیں ہیں۔
جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ پھر ہم ان ملزمان کو ضمانتیں کیوں نہ دے دیں؟ ہم ان ملزمان کی سزائیں کیوں نہ معطل کردیں؟
اٹارنی جنرل نے کہا کہ سزا معطل کرنے کے لیے پہلے سزا سنانی ہوگی، ضمانت تب دی جاسکتی ہے جب عدالت کہے کہ قانون لاگو نہیں ہو سکتا۔
دریں اثنا سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو محفوظ شدہ فیصلے سنانے کی مشروط اجازت دے دی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ صرف ان کیسز کے فیصلے سنائے جائیں جن میں نامزد افراد عید سے پہلے رہا ہوسکتے ہیں، اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ کم سزا والوں کو قانونی رعایتیں دی جائیں گی، فیصلے سنانے کی اجازت اپیلوں پر حتمی فیصلے سے مشروط ہوگی۔
فیصل صدیقی نے کہا کہ ایسا نہ ہو رہائی کے بعد ایم پی او کے تحت گرفتاری ہوجائے۔
عدالت نے اٹارنی جنرل کو عملدرآمد رپورٹ رجسٹرار کو جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ مزید سماعت اپریل کے چوتھے ہفتے میں ہوگی۔
علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے حکومتِ خیبرپختونخوا کی فوجی عدالتوں میں سویلنز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف دائر اپیلیں واپس لینے کی استدعا منظور کرلی، گزشتہ سماعت کے دوران حکومتِ خیبرپختونخوا نے سویلنز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کےخلاف دائر اپیلیں واپس لینے کی استدعا کی تھی۔


مشہور خبریں۔
80% روسی عوام کا ولادیمیر پیوٹن پر اعتماد
?️ 20 اگست 2022سچ خبریں: یوکرین جنگ کے حوالے سے روس پر مغربی ممالک
اگست
ایرانی سائنسدانوں کے خلاف موساد کی پوشیدہ جنگ کی رپورٹ
?️ 11 جنوری 2023سچ خبریں:گیارہ سال قبل ٹھیک 21 جنوری 1390 کو ایران کے ایٹمی
جنوری
غزہ کے ہسپتالوں کے ساتھ قبضے کی فاشسٹ جنگ پر حماس کا ردعمل
?️ 26 مارچ 2024سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک نے غزہ شہر کے الشفاء میڈیکل
مارچ
جان نکال لیتے تو پروا نہ تھی لیکن تشدد کرنے والوں نے عزت پر ہاتھ ڈالا، اعظم سواتی
?️ 1 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی رہنما سینیٹر اعظم سواتی نے
نومبر
فواد چوہدری کا ٹک ٹاک پر پابندی کا فیصلہ واپس لینے پر خوشی کا اظہار
?️ 2 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سندھ ہائی
جولائی
ٹرمپ نے امریکی دارالحکومت میں نیشنل گارڈ کو تعینات کر دیا
?️ 12 اگست 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی دارالحکومت میں نیشنل گارڈ کو
اگست
سعودی عرب یمن کے ساتھ جنگ کے نتائج سے کبھی محفوظ نہیں رہے گا: یمنی سفیر
?️ 4 اپریل 2022سچ خبریں: جنگ کے آٹھویں سال کے آغاز میں، یمنی فوج اور
اپریل
صیہونی بھی یوکرائن بحران کی موجوں پر سوار
?️ 8 مارچ 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت نے یوکرائنی بحران سے نمٹنے کے لیے اس ملک
مارچ