?️
سچ خبریں:سعودی حکام کی جانب سے سماجی اصلاحات کے دعووں کے باوجود ملک کے اندر اور باہر سعودی شہریوں پر جبر میں بے مثال اضافہ ہوا ہے۔
ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورت حال کی غیر معمولی خرابی، خاص طور پر سعودی فرمانروا سلمان عبدالعزیز اور ان کے ولی عہد محمد بن سلمان کے دور میں۔
سعودی لیکس کے مطابق مبصرین اور ماہرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کے معاملے میں پچھلی دہائیوں میں بہت سی خلاف ورزیاں دیکھنے میں آئی ہیں جن میں متعدد پابندیاں اور گرفتاریاں شامل ہیں، تاہم ولی عہد محمد بن سلمان کے اقتدار کے آغاز کے ساتھ ہی اس ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے، اور ان میں غیر معمولی طور پر شدت آئی ہے اور یہ ملک دنیا میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کرنے والوں میں سے ایک بن گیا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی حکام انسانی حقوق کے معاملات سے نمٹنے میں مارو اور بھاگ جاؤ” کی پالیسی پر عمل درآمد کرتے ہیں اس طرح کہ شہریوں اور ناقدین کے خلاف جرم کرتے ہیں اور کسی معاشرے یا ادارے کے سامنے جوابدہ نہیں ہوتے۔
قابل ذکر ہے کہ جب انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے آل سعود حکومت پر بین الاقوامی دباؤ بڑھتا ہے تو سعودی حکام اور میڈیا اپنے ملک میں انسانی حقوق پر بات کرتے ہیں اور تنقید کم ہونے کے بعد جبر میں پھر شدت آجاتی ہے۔
گزشتہ ستمبر میں، سعودی عرب پر بین الاقوامی میڈیا کی طرف سے بہت زیادہ دباؤ دیکھا گیا جس کے تحت ایمنسٹی انٹرنیشنل کی قیادت میں ایک زبردست مہم چلائی گئی جس میں دنیا بھر سے 100000 سے زائد افراد نے حصہ لیا اور سعودی حکومت سے سخت قید کی سزاؤں اور سفری پابندیوں کو ختم کرنے نیز زیر حراست افراد اور ان کے اہل خانہ کو دباؤ میں ڈالنے کا خاتمہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا نیز سعودی عرب میں جبر کو روکنے کے لیے آل سعود حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے کئی ممالک کے اعلیٰ حکام نے بھی بات کی۔
اس حوالے سے اولاف شلٹز نے اعلان کیا کہ وہ بن سلمان کے ساتھ ملاقات میں سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتحال اور اس ملک میں خواتین کی صورتحال پر بات کریں گے حالانکہ اس ملاقات کا بنیادی مقصد تیل اور توانائی کی پیداوار پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد آل سعود حکومت نے پے در پے بیانات جاری کئے، اس حوالے سے سعودی انسانی حقوق کمیشن کے وائس چیئرمین عبدالعزیز بن عبداللہ الخیال نے اعلان کیا کہ ہمارا ملک انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔
واضح رہے کہ سعودی حکام کی طرف سے انسانی حقوق کی صورتحال کے حوالے سے پے در پے بیانات جاری کرنا اور بعض پابندیوں کو ہٹانے پر مبنی آل سعود کا اقدام پابندیوں کو ہٹانا اور انسانی حقوق کی صورتحال کو حل کرنا نہیں تھا کیونکہ بین الاقوامی میڈیا کی آواز کم ہوتے ہی محمد بن سلمان گرفتاریوں کی لہر کو تیز کیا اور بہت سے ناقدین اور کارکنوں کے خلاف بھاری سزائیں سنائیں۔


مشہور خبریں۔
سوڈان میں حالات کو پرسکون کرنے اور تنازعات کو روکنے پر ریاض کا زور
?️ 2 مئی 2023سچ خبریں:سوڈانی خود مختاری کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان کے خصوصی ایلچی
مئی
صیہونیوں کے تعلقات بحال کروانے کا امریکی مقصد؛امریکی عہدیدار کی زبانی
?️ 4 اکتوبر 2023سچ خبریں: امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان نے کہا کہ صیہونی
اکتوبر
مغربی کنارے میں صہیونی فوجی فلسطینیوں سے فرار ہوتے ہوئے
?️ 23 جون 2022سچ خبریں: فلسطینی میڈیا نے مغربی کنارے میں صیہونی جنگجوؤں کے
جون
بورڈ آف گورنرز میں ایران مخالف قرارداد کی منظوری سے صہیونیوں کی ہچکچاہٹ
?️ 9 جون 2022سچ خبریں: بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی IAEA کے بورڈ آف گورنرز
جون
بادشاہ چارلس نے پاکستانی دورے کی خواہش کا اظہار کیا، عدنان صدیقی
?️ 16 نومبر 2024سچ خبریں: مقبول اداکار عدنان صدیقی نے انکشاف کیا ہے کہ برطانوی
نومبر
ایسا لگ رہا ہے وفاق میں نگران حکومت مسلم لیگ (ن) کی ہے، سینیٹر پیپلز پارٹی
?️ 16 ستمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے
ستمبر
الجولانی کی امریکی وفد سے ملاقات کی تفصیلات؛دہشتگردوں کی زبانی
?️ 22 دسمبر 2024سچ خبریں:دمشق میں امریکی وزارت خارجہ کے وفد اور دہشتگرد تنظیم ہیئت
دسمبر
صیہونی حکومت پر ایران کے حملے سے پاکستانی عوام خوش
?️ 2 اکتوبر 2024سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں پر ایران کے میزائل حملے کی وجہ سے دنیا
اکتوبر