?️
سچ خبریں: ایک سینئر علاقائی تجزیہ کار نے شام اور عراق میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف حالیہ میزائل حملوں سے ایران کے پیغامات اور ان پیغامات کے سامعین کا جائزہ لیا۔
علاقے کے اسٹریٹجک امور کے تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے رائے الیوم اخبار کی ویب سائٹ پر اپنے نئے تجزیے میں شام اور عراق میں داعش اور موساد دہشت گرد گروہوں کے خلاف ایران کے میزائل حملوں کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ حملے ایران کی بے مثال طاقت کو ظاہر کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور پاکستان کے تعلقات کیسے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ اس نقطہ نظر کا اندازہ نہ صرف میزائلوں کے ارتکاز اور درستگی کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے، بلکہ ان میزائلوں کے ذریعے طے کیے گئے فاصلے کے معیار اور طول و عرض نیز بھیجے گئے پیغامات اور ان پیغامات کے وصول کنندگان کی بنیاد پر بھی جانچا جا سکتا ہے۔
اس تجزیے میں عطوان نے مزید کہا ہے کہ اس میزائل حملے کی تحقیقات میں کئی امور دلچسپی کے حامل ہیں، جنہیں ذیل میں درج کیا جا سکتا ہے۔
1: پہلا نکتہ یہ ہے کہ پاسداران انقلاب اسلامی پہلی بار درست میزائل استعمال کر رہا ہے، جس نے 1230 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور شمالی عراق میں واقع اربیل میں اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔
2: یہ میزائل حملہ اس ملک کے اندر اور باہر ایرانیوں کے خلاف قتل و غارت گری اور دہشت گردانہ کارروائیوں کا جواب اور کرمان شہر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کا بدلہ تھا۔ اربیل میں موساد جاسوس ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا گیا جو اس دہشت گردانہ کاروائی کے مرکزی منظر کے پیچھے تھا۔
3: اس دو طرفہ آپریشن کو انجام دینے کے لیے پاسداران انقلاب اسلامی کا عوامی، واضح اور بے مثال اعلان دلچسپی کے دیگر مسائل میں سے ایک تھا۔
4: یہ انتقامی حملہ ماضی کے دہشت گردی کے واقعات کا ایک بہت ہی تیز ردعمل تھا، جو اپنی نوعیت میں بے مثال ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران اپنے ملک کے مخالف اقدامات پر صحیح وقت اور جگہ پر ردعمل ظاہر کرتا ہے۔
5: سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بیان کے مطابق یہ انتقامی کارروائی نہ صرف ایرانیوں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کا ردعمل تھا بلکہ یہ شامی، لبنانی، فلسطینی اور عراقی شخصیات کے قتل کا ردعمل بھی تھا، جس سے میدان میں مزاحمت کے محور کے اتحاد کا پتہ چلتا ہے ۔
کیونکہ گزشتہ دنوں اور ہفتوں میں جنرل سید رضی موسوی کے علاوہ حماس کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ صالح العاروری اور لبنان میں رضوان بٹالین کے کمانڈر وسام حسن الطویل اور عراقی ابو تقوی بھی شامل تھے جو عراق کی النجبہ تحریک کے رہنماؤں میں سے ایک تھے، کو دشمن نے نشانہ بنایا۔
اس آپریشن سے ایرانی پیغام بالکل واضح ہے کہ ایران کا ردعمل صحیح وقت اور جگہ پر کیا جائے گا اور یہ جواب فوری ہوگا۔
اس سینئر علاقائی تجزیہ کار نے اپنے تجزیے کے آخر میں تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے ایک مختلف مرحلے کا سامنا ہے جس پر ایران اور پاسداران انقلاب اسلامی کی قیادت میں مزاحمتی گروہوں کا غلبہ ہے اور ایسا لگتا ہے کہ صبر ختم ہونے کا وقت آ گیا ہے۔
مزید پڑھیں:نگران وزیر اطلاعات پنجاب کی ایران میں دہشت گردی کے واقعات پر اظہار افسوس
یہ آپریشن ایران کی طرف سے واشنگٹن اور تل ابیب کے لیے ایک مضبوط پیغام تھا ، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ اس پیغام سے سبق سیکھیں گے یا اپنی متکبرانہ پالیسیوں کو جاری رکھیں گے اور آخر کار ان پالیسیوں کی بھاری قیمت ادا کریں گے۔


مشہور خبریں۔
نیتن یاہو کو کمزور کرنے پر سابق صہیونی وزیر کی تنقید
?️ 7 جنوری 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی وزیر توانائی کارین الحرار نے ایک بار پھر
جنوری
امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعاون کے معاہدے پر دستخط
?️ 21 جنوری 2025سچ خبریں: آئی ایس ایس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل
جنوری
امریکہ غزہ کے خلاف اسرائیل کے جرائم میں برابر شریک
?️ 6 فروری 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی پٹی پر قبضے
فروری
اردن میں صیہونی حکومت کے سفارت خانے کے سامنے احتجاجی ریلی
?️ 12 مئی 2022سچ خبریں: اردن کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے گذشتہ شب
مئی
سوڈان میں خانہ جنگی کے ایک ہفتے کے دوران 83 افراد ہلاک، 1126 زخمی!
?️ 17 اپریل 2023سچ خبریں:سوڈان میں خانہ جنگی کے دوران گزشتہ ہفتے کے اندر خرطوم،
اپریل
سینیٹ میں آرمی، ایئر فورس اور نیوی ایکٹ ترمیمی بل 2025ء منظور
?️ 14 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ میں آرمی، ایئر فورس اور نیوی ایکٹ
نومبر
دنیا کے مختلف حصوں میں غزہ کے عوام کی حمایت میں مظاہرے
?️ 20 مئی 2024سچ خبریں: اتوار کو غزہ کے عوام کی حمایت میں گوتھن برگ، سویڈن
مئی
شمالی عراق میں اسرائیل کے اسٹریٹجک مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے:صیہونی اخبار
?️ 15 مارچ 2022سچ خبریں:صیہونی کثیر الاشاعت اخبار نے اعتراف کیا کہ عراق کے اربیل
مارچ