?️
16 جولائی کو شام پر صہیونی ریاست کے حملے کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ بشار الاسد کی حکومت کے زوال کے بعد سے شام مسلسل اسرائیلی جارحیت کا شکار رہا ہے۔
تاہم، حالیہ حملہ اپنی نوعیت اور شدت کے اعتبار سے انتہائی وحشیانہ تھا، جس میں غاصب افواج نے سویداء اور درعا سے لے کر دمشق کے قلب تک پیش قدمی کی اور شامی حکومتی و فوجی ہیڈکوارٹرز کو براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے آرمی جنرل ہیڈکوارٹر کی عمارت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
شام پر اسرائیلی حملوں کا ترکی کی سلامتی پر اثر
صہیونی جارحیت کے نقصانات صرف مالی تک محدود نہیں تھے بلکہ اس میں جانی نقصان بھی ہوا، جس میں سیکیورٹی فورسز کے کمانڈرز اور عام اہلکار بھی شامل ہیں۔ آخرکار، اسرائیل اور شام کی عبوری حکومت کے مابین جنگ بندی ہوئی، لیکن یہ جنگ کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے تنازع کا آغاز ہے، جس کے اثرات پورے خطے بالخصوص ترکی پر مرتب ہوں گے۔
14 سالہ شامی جنگ نے ترکی کو جغرافیائی اور سلامتی کے بڑے خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جس کے بعد ترکی نے 2016 سے شمالی شام میں اپنی فوجیں تعینات کیں۔ 8 دسمبر 2024 کو بشار الاسد کی حکومت کا زوال ترکی کے لیے ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی تھی، جس کے بعد ترکی نے اس فتح کے فوائد حاصل کرنے کی تیاری کی۔
لیکن شام میں اسرائیلی کارروائیوں نے ترکی کے منصوبوں کو درہم برہم کر دیا۔ یہ اقدامات نئے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں، جو نہ صرف شام بلکہ پورے خطے بالخصوص ترکی کو متاثر کریں گے۔
ترکی کا صبر ختم ہونے کا کیا مطلب ہے؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ترکی خاموش رہے گا یا اسرائیلی جارحیت کے خلاف عملی اقدام اٹھائے گا؟ ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے بیانات میں اسرائیل کے خلاف واضح غصہ نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا صبر ختم ہو چکا ہے، اور ہم تل ابیب سے صرف اسی بارے میں بات کریں گے۔ وہ امن نہیں چاہتے۔
لیکن ترکی کا صبر ختم ہونے سے کیا مراد ہے؟ اسرائیل کے غزہ، لبنان، شام اور ایران پر وحشیانہ حملوں کے بعد ترکی اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ یہ جنگ کسی دن اس کی سرحدوں تک پہنچ سکتی ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ترکی اور اسرائیل کے مابین کسی بھی وقت تصادم ہو سکتا ہے۔
اس دوران، پی کے کے کے خاتمے اور اسلحہ جمع کرانے کے اعلان کا مقصد ترکی کے داخلی محاذ کو متحد کرنا ہے، تاکہ بیرونی خطرات خاص طور پر اسرائیل کا مقابلہ کیا جا سکے۔
ترک صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ترکی اسرائیل کے خلاف جنگ کے امکان کو تسلیم کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ اسے ٹالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
تل ابیب اور آنکارا کے مابین ممکنہ تصادم کے منظرنامے
ترکی کے لیے ضروری ہے کہ وہ شام کے محاذ کو مستحکم کرے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت تک امریکہ سے تصادم سے بچے۔ ترکی کا یہ موقف کئی مسائل کے حل کے لیے ہے، جیسے کہ امریکی پابندیاں ختم کرنا، ایف 35 منصوبے میں واپسی، اور پی کے کے کے معاملے کا اختتام۔
لیکن نتانیاہو کی جارحیت پسندانہ پالیسیوں نے ترکی کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ شام کی نئی حکومت کا زوال ترکی کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے، جس کے اثرات یورپی دارالحکومتوں تک محسوس ہوں گے۔
ترکی کی اسٹریٹجک اقدامات
1. علاقائی ممالک کے ساتھ متحدہ موقف: ترکی خطے کے ممالک کے ساتھ مشترکہ کوششوں پر زور دے رہا ہے۔ ہاکان فیدان نے اردن اور سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتے ہوئے کہا کہ نتانیاہو کے اقدامات خطے کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
2. شامی جمہوری فورسز (قسد) کا مسئلہ حل کرنا: قسد ترکی کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، خاص طور پر اس کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے۔
3. جدائی پسند گروہوں کو خبردار کرنا: فیدان نے کرد گروہوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ شام کے بحران کو مزید الجھانے کی کوشش نہ کریں۔
4. شام کے ساتھ دفاعی معاہدہ: ترکی شام میں قانونی فوجی موجودگی اور فوجی تعاون کے معاہدے پر غور کر رہا ہے۔
نتیجہ
اسرائیل کے حالیہ حملے ترکی کے لیے ایک انتباہ ہیں کہ وہ کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے تیار رہے۔ ترکی کو علاقائی تعاون اور مضبوط حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ اسرائیلی جارحیت کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
عوام کو ریلیف نہ دے کر حکومت کیا کر رہی ہے؟نائب امیر جماعت اسلامی
?️ 4 اگست 2024سچ خبریں: جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے
اگست
ایل پی جی 70 سے 100 روپے فی کلو مہنگی
?️ 10 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) عوام کیلئے ایک اور بری خبر ، ایل
مارچ
سندھ کے تحفظات جائز ہیں، سکھر موٹروے کی تعمیر جلد شروع کریں گے، وزیراعظم کا وزیراعلیٰ کو جوابی خط
?️ 9 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد
اپریل
ظلم سے نجات کیلئے قوم کو آسلام اباد کی طرف کال کیلئے تیار رہنا ہوگا، حافظ نعیم الرحمان
?️ 29 دسمبر 2024لوئر دیر: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کا
دسمبر
ایران کے خلاف صیہونی سازشیں
?️ 4 اپریل 2021سچ خبریں:ایک سابق صہیونی عہدیدار نے اپنے ایک انٹرویو میں تاکید کی
اپریل
ماہرین نے ٹرمپ کے ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرنے کے دعوے کو غیر حقیقی اور پر خرچ قرار دیا
?️ 1 نومبر 2025 ماہرین نے ٹرمپ کے ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرنے کے دعوے کو
نومبر
الیکشن کمیشن عہدیدار کا چیف الیکشن کمشنر کےخلاف سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرنے کا فیصلہ
?️ 1 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) فیصل آباد میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کی حیثیت سے
مئی
تل ابیب کا جنوبی لبنان سے دستبردار نہ ہونے کا بہانہ
?️ 4 جنوری 2025سچ خبریں: آج اعلان کیا گیا ہےکہ تل ابیب سے توقع ہے کہ
جنوری