آئندہ 15 برس میں مصر اور اسرائیل کے درمیان جنگ کا امکان؛ صیہونی عہدیدار کی پیش گوئی

مصر اور اسرائیل

?️

سچ خبریں:صہیونی مرکز ہیروت کے سربراہ نے سالانہ بیت المقدس کانفرنس کے دوران، جس میں بنیامین نیتن یاہو بھی موجود تھے، پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ پندرہ برسوں کے دوران اسرائیل کو مصر کے ساتھ جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

صیہونی مرکز ہیروت کے سربراہ نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ پندرہ برس کے دوران اسرائیل اور مصر کے درمیان جنگ ہو سکتی ہے۔ اس بیان کے بعد خطے کی سلامتی اور مصر کی عسکری طاقت سے متعلق بحث میں شدت آ گئی ہے۔

صہیونی حکومت کے وزیر برائے امورِ مہاجرین عمیحای شکلی کی جانب سے گزشتہ ہفتے شام کے خلاف ممکنہ جنگ کی دھمکی اور قطر، ترکیہ اور پاکستان پر مشتمل ایک نئے علاقائی محور کے بارے میں تشویش کے اظہار کے بعد ایک اور صیہونی شخصیت نے مصر کے ساتھ مستقبل کی جنگ کا امکان ظاہر کیا ہے۔

بیت المقدس میں امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات اور مستقبل کے چیلنجوں پر منعقدہ سالانہ کانفرنس کے دوران صیہونی مرکز ہیروت کے بانی اور سربراہ آمیاد کوہین نے خطے کی مستقبل کی صورتحال اور تل ابیب کی تزویراتی پالیسیوں پر گفتگو کی۔

انہوں نے مغربی ایشیا میں امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان پالیسیوں نے بعض علاقائی طاقتوں کی فوجی صلاحیتوں میں اضافے کا سبب بنایا ہے۔

آمیاد کوہین نے بنیامین نیتن یاہو کی موجودگی میں مصر کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے اس کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت پر تشویش ظاہر کی اور پیش گوئی کی کہ آئندہ پندرہ برسوں میں اسرائیل اور مصر کے درمیان فوجی تصادم ہو سکتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اخوان المسلمین اسرائیل اور امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں اور ان کے بقول اگر آئندہ برسوں میں مصر میں اخوان المسلمون اقتدار میں آتے ہیں تو اسرائیل کو مصر کے ساتھ جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم ایسے بیانات میں مصر کا نام سامنے آنے سے متعدد سوالات پیدا ہوئے ہیں، کیونکہ تل ابیب اور قاہرہ کے درمیان سن 1979 کے امن معاہدے کے بعد دونوں ممالک نے باضابطہ طور پر جنگی حالت کا خاتمہ کر دیا تھا اور سفارتی و سلامتی تعلقات کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق مصر کی فوجی صلاحیتوں کے بارے میں گفتگو اب صرف انفرادی صہیونی شخصیات تک محدود نہیں رہی بلکہ حالیہ مہینوں کے دوران صیہونی اخبارات، تحقیقی مراکز اور سیاسی حلقوں میں بھی یہ موضوع نمایاں ہو گیا ہے۔

گزشتہ فروری میں ٹائمز آف اسرائیل نے رپورٹ دی تھی کہ بنیامین نیتن یاہو نے کنیسٹ کی خارجہ اور دفاعی کمیٹی کے ایک غیر علانیہ اجلاس میں مصر کی فوجی طاقت میں اضافے پر تشویش ظاہر کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے زور دیا تھا کہ اسرائیل کو اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھنی چاہیے تاکہ طے شدہ حدود سے تجاوز کو روکا جا سکے۔

گزشتہ مئی میں یروشلم پوسٹ نے بھی انٹیلی جنس ذرائع اور بین الاقوامی رپورٹس کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں کے قریب مصر کی فوجی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے اور اسے اسرائیل کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا گیا تھا۔

امریکی جریدے فوربس نے مئی کے آخر میں شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ اگرچہ حالیہ مہینوں میں ایران اور اسرائیل کی جنگ عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز رہی، تاہم ایک اور اہم تبدیلی بھی خطے کی سیاسی فضا پر اثر انداز ہو رہی ہے اور وہ مصر کے حوالے سے اسرائیل کی بڑھتی ہوئی تشویش ہے۔

آمیاد کوہین کے بیانات کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی وسیع ردعمل سامنے آیا۔

بعض صارفین نے مستقبل کی جنگ سے متعلق بیانات کو محض سیاسی اندازے یا فرضی منظرنامے قرار دیا، جبکہ بعض دیگر نے انہیں صیہونی حلقوں میں بڑھتی ہوئی تشویش کا مظہر قرار دیا۔

محمد غنین نے لکھا کہ یہ محض وہم اور پریشان کن خواب ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ ہمیشہ امریکہ پر حاوی رہیں گے، لیکن ان کے بقول آئندہ دس برسوں میں امریکہ کے اندر اسرائیل مخالف رجحانات کے بڑھنے کے باعث واشنگٹن اپنی حمایت واپس لے سکتا ہے۔

خالد الدیری نے کہا کہ اسرائیل کا انجام بھی جنوبی افریقہ کے سابق نسل پرست نظام جیسا ہو سکتا ہے، جب مغربی ممالک اور امریکہ نے وہاں کی نسل پرست حکومت کی حمایت ترک کر دی تھی۔

فرینک ویگر نے امریکہ کی طاقت پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ اب بھی دنیا کی سب سے طاقتور ریاست ہے؟ ان کے بقول انہیں اس حوالے سے شدید شکوک ہیں اور امریکہ اپنی سابقہ حیثیت کا صرف ایک سایہ بن کر رہ گیا ہے۔

مشہور خبریں۔

کیوں امریکہ یوکرین کے نیٹو میں شامل ہونے کے خلاف ہے؟

?️ 26 جون 2023سچ خبریں:نیٹو فوجی اتحاد کے سربراہوں کے اجلاس کے موقع پر یوکرین

عالمی بینک کی پاکستان کو موصول ہونے والی ترسیلات زر میں کمی کی پیشگوئی

?️ 19 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی بینک نے کہا ہے کہ 2023 کی

غزہ نے تمام اسرائیلی کابینہ کو اقتدار کا سبق سکھایا: معاریو

?️ 6 مئی 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے تجزیہ کار ایلون بن ڈیوڈ نے ایک تجزیے

کشمیری عوام کو دہائیوں سے انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کا سامنا ہے: شمیم شال

?️ 9 مارچ 2023جنیوا: (سچ خبریں) کشمیری نمائندہ شمیم شال نے اقوام متحدہ کے ہائی

صیہونیوں کے ہاتھوں فلسطینی فٹبال ٹیم کے کوچ شہید

?️ 17 اپریل 2024سچ خبریں: فلسطینی میڈیا نے منگل کی شب بتایا ہے کہ غزہ

ایران نہ کبھی کسی کے سامنے جھکا ہے اور نہ جھکے گا:آیت اللہ خامنہ ای

?️ 10 جنوری 2022سچ خبریں:ایران کے مذہبی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی تقریر

کیا ملک میں حقیقت میں ٹوئٹر پر پابندی ہے؟

?️ 5 اگست 2024سچ خبریں: لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے وزیر اطلاعات

امریکہ کا شام پر بعض پابندیاں معطل کرنے کا دعویٰ

?️ 10 فروری 2023سچ خبریں:امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ شام اور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے