?️
کراچی: (سچ خبریں) سینیئر اداکارہ حنا خواجہ بیات نے کہا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب مرد و خواتین میں برداشت کم ہونے کی وجہ سے زیادہ طلاقیں ہو رہی ہیں، تاہم خواتین کا مالی طور پر مستحکم ہونا بھی ایک سبب ہے۔
حنا خواجہ بیات نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں خواتین حد سے زیادہ باتیں برداشت کرتی تھیں جو کہ غلط تھا، ماضی میں خواتین کو اتنا زیادہ برداشت نہیں کرنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں خواتین کو کسی چیز کا کوئی احساس نہیں تھا، اب خواتین کو معلوم ہوچکا ہےکہ انہیں کیا کرنا ہے اور کیا برداشت نہیں کرنا۔
حنا خواجہ بیات کے مطابق ماضی میں صرف عورتیں ہی برداشت کرتی تھیں لیکن اب دونوں طرف برداشت ختم ہو چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ذاتی طور پر وہ سمجھتی ہیں کہ مرد اور خواتین میں برداشت کے فقدان کی وجہ سے شادیاں جلد ٹوٹ رہی ہیں، دوسرا سبب خواتین کا معاشی طور پر خود مختار ہونا بھی ہے۔
ان کے مطابق اب خواتین یہ بھی سمجھتی ہیں کہ ان کے پاس وسائل آگئے، ان کے پاس پیسے ہیں تو وہ چیزیں برداشت نہیں کرتیں لیکن ماضی میں خواتین میں بہت زیادہ برداشت تھی جو کہ اتنی زیادہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا یہ کہنا غلط ہے کہ طلاقوں کی بڑھتی شرح میں سوشل میڈیا کا ہاتھ ہے۔
حنا خواجہ بیات کا کہنا تھا کہ ہر رشتے اور تعلق میں برداشت لازمی ہوتی ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات ملازمت کی جگہ پر بھی کسی کی دوسرے ساتھی کے ساتھ نہیں بنتی، اس وقت اسے برداشت کرنا پڑتا ہے، اسی طرح شادی کے رشتے میں بھی کچھ چیزوں کو برداشت کیا جانا چاہیے۔
اداکارہ نے واضح کیا کہ برداشت کی ایک حد ہوتی ہے، ہر کوئی اپنی حدود بنا لے کہ یہاں تک چیزیں برداشت کی جا سکتی ہیں، اس کے بعد چیزوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
سینیئر اداکارہ کے مطابق جسمانی تشدد ایک طرف خواتین پر جذباتی تشدد کرنا زیادہ خطرناک ہوتا ہے، اسے طعنے دے دے کر اسے اپنی نظروں میں گرایا جاتا ہے، جس کے بعد وہ کچھ کر ہی نہیں سکتی، اس لیے ایسی چیزیں نہیں ہونی چاہیے۔


مشہور خبریں۔
سینیٹ میں مریم نواز کی بریت کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن اراکین کے درمیان گرما گرم بحث
?️ 1 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں مسلم لیگ(ن) کی
اکتوبر
اقوام متحدہ کی کمیٹی نے عام شہریوں کے فوجی ٹرائل کی مخالفت کردی
?️ 8 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے
نومبر
تل ابیب کے دل میں ابوعبیدہ کی آواز سے صہیونی علاقوں میں خوف و ہراس
?️ 29 نومبر 2025تل ابیب کے دل میں ابوعبیدہ کی آواز سے صہیونی علاقوں میں
نومبر
چابہار بندرگاہ عالمی منڈیوں کے لیے ایک پائیدار راستہ ہے:بھارت
?️ 12 دسمبر 2021سچ خبریں:ہندوستانی وزیر خارجہ نے چابہار بندرگاہ کے منصوبے کے بارے میں
دسمبر
صہیونی قیدیوں کے اہل خانہ نے "غزہ کی دلدل میں ڈوبنے” سے خبردار کیا ہے
?️ 16 مئی 2025سچ خبریں: صہیونی قیدیوں کے اہل خانہ نے قیدیوں کے تبادلے کے
مئی
اپوزیشن نے معیشت کا جو حشر کیا اس کے نتیجے میں معاشی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا
?️ 30 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے
مئی
عید پیکیج تقسیم کرنے کی تصاویر شائع ہونے پر وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور برہم
?️ 12 اپریل 2024پشاور: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے مستحق خاندانوں میں عید
اپریل
کیا ایران کا پانی کا بحران اسرائیل سے بھی بدتر ہے؟
?️ 14 اگست 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کے عوام کو
اگست