?️
کراچی: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معاشی ترقی کے لیے سب کے ساتھ مل بیٹھنے کو تیار ہوں، ہمارا ٹیکس کا نظام کاروبار چلنے میں رکاوٹ ہے مگر ہمیں آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنی ہیں، معیشت کی بہتری کے لیے ماہرین کی تجاویز درکار ہیں۔
کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کا آغاز ہوچکا ہے، ملک میں معاشی استحکام آنے پر تمام لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
انہوں نے ہوم گرون پروگرام (اڑان پاکستان) کے حوالے سے کہا کہ ماضی میں بھی اس طرح کے خوش نما پروگرام دیکھے اور سنے گئے، مذکورہ پروگرام سے ملک کو معاشی ترقی ملے گی اور سماجی خوشحالی آئے گی، اب ہمیں ترقی کی طرف بڑھنا ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑی ہورہی ہے، ہمارا ہدف معاشی نمو ہے، ملک کو ترقی کے راستے پر لے جانے کے لیے تیار ہوں، معیشت میں مزید ترقی کے لیے ماہر معیشت ہماری رہنمائی فرمائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی شہر روشنیوں کا شہر ہے، ایک زمانے میں اس کی رونقیں ختم ہوچکی تھی لیکن شکر ہے امن بحال ہوا، صوبائی دارالحکومت ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگر کہا جائے کہ ہر چیز اچھی ہے تو ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، اگر ہم حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اعداد و شمار دکھائیں گے، اچھی چیزوں کو سراہیں گے اور برے کو ٹھیک کرنے کا مشورہ دیں گے تو ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ آگے بڑھنے کے لیے تمام تجربہ کار لوگوں کے مشورے درکار ہوں گے، ٹیکس کے حوالے سے معاملات روز روشن کی طرح عیاں ہیں، ہمارا ٹیکس سلیب کا نظام معیاری نہیں جو کاروبار کے چلنے میں رکاوٹ ہے، ہم عالمی مالیاتی پروگرام (آئی ایم ایف) پروگرام کے مرحلے میں ہیں، ہمیں ان کی شرائط کو پورا کرنا ہے، وقت آنے پر اس پروگرام سے چھٹکارا حاصل کریں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ 6 ماہ میں ٹیکس محصولات کا ریکارڈ ہمارے سامنے ہے، جی ڈی پی کے حساب سے ٹیکس ہدف حاصل کیا لیکن یہ اختتام نہیں صرف آغاز ہے، اسے آگے لے جانے کے لیے سرمایہ چاہیے، پالیسی ریٹ 22 فیصد پر تھا جو آج 13پر آگیا ہے، چاہتا ہوں کہ یہ مزید کم ہو کر 6 فیصد پر آجائے۔
شہباز شریف نے مزید کہا ہمیں صبر و تحمل اور دانش مندی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، کہا جاتا ہے کہ برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ دیا جائے لیکن مجھے اس حوالے سے عملی تجاویز درکار ہیں، وسائل کے حوالے سے پاکستان خود کفیل ہے، ہمارے پاس اربوں ڈالرز کے خزانے مدفن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دلخراش ماضی میں نہیں جانا چاہتا، جو ہوا اس پر رونے کا کوئی فائدہ نہیں، ہمیں اپنا سبق سیکھنا ہوگا اور آگے بڑھنا ہے، ملکی ترقی کے لیے معیشت کے ماہرین اپنے وسیع تجربے سے ہماری رہنمائی فرمائیں۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نجکاری کی کوشش متعدد وجوہات کے باعث کامیاب نہیں ہوئی لیکن دعویٰ سے کہتا ہوں کہ مذکورہ عمل 100 فیصد شفاف تھا، نجکاری کا تمام عمل مکمل طور پر شفاف ہوگا اور اس حوالے سے بھی مجھے ماہرین کی تجاویز درکار ہوں گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران سرکاری اداروں کی وجہ سے کھربوں کا نقصان ہوا، کیا ہم ایک ہاتھ میں کشکول اور نیوکلیئر طاقت رکھتے ہوئے ترقی کرسکتے ہیں، پاکستان کو اللہ نے بے پناہ وسائل اور ذہین لوگوں سے نوازا ہے، ہمارا ملک اللہ کے فضل سے قیامت تک قائم رہے گا، اسے ہم نے مضبوط کرنا ہے اور اقوام عالم کے سامنے اس کی عزت کو بحال بنانا ہے۔


مشہور خبریں۔
بھارت کے 18 قونصل خانے پاکستان کے خلاف کام کررہے ہیں۔ ضیا لانگو
?️ 5 اپریل 2026کوئٹہ (سچ خبریں) وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو نے کہا ہے کہ
اپریل
مریم اورنگزیب نے صحافیوں کیلئے ہیلتھ انشورنس رجسٹریشن فارم کا اجرا کردیا
?️ 24 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا
جولائی
حزب اللہ شمالی محاذ پر صیہونیوں کو کیسے چنے چبوا رہی ہے؟
?️ 16 جنوری 2024سچ خبریں: حزب اللہ، جو غزہ اور فلسطینی عوام کی حمایت کے
جنوری
عراق کا ریاض دمشق مفاہمت کا خیر مقدم
?️ 14 اپریل 2023سچ خبریں:عراقی وزارت خارجہ نے سعودی عرب اور شام کے درمیان قریبی
اپریل
عراقی وزیر اعظم نے امریکی افواج کے خلاف اہم بیان جاری کردیا
?️ 3 اپریل 2021بغداد(سچ خبریں) عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے امریکی افواج کے خلاف
اپریل
صیہونی حکومت عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے
?️ 13 جولائی 2025سچ خبریں: بنجمن نیتن یاہو نے ایک بار پھر غزہ میں 60
جولائی
دمشق کے ساتھ عرب ممالک کا اتحاد؛ مغربی الجھن اور غصہ
?️ 15 اپریل 2023سچ خبریں:2011 میں شام کا بحران شروع ہونے کے بعد عرب دنیا
اپریل
طوفان الاقصیٰ کے 6 مرکزی نقطے؛صیہونی ریاست کو ہونے والی ناقابلِ تلافی شکست
?️ 12 اکتوبر 2025سچ خبریں:طوفان الاقصیٰ کے دو سال بعد معلوم ہوا ہے کہ اس
اکتوبر