پی ٹی آئی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی ملک خرم علی خان کا پارٹی چھوڑنے کا اعلان

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جیلوں میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے بارے میں کوئی شک رہ گیا تھا تو اس سند یافتہ مجرم کی اس پریس کانفرنس نے ایسے تمام شکوک و شبہات دور کر دیے۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ رانا ثنااللہ یقینی طور پر ان خوفناک کہانیوں کو (ایک سازش کے جواز میں) چھپانے اور قبل از وقت ان کا پردہ چاک کرنے کی آڑ میں ذمہ داری سے فرار کی کوششیں کر رہے ہیں، جو عنقریب منظرِ عام پر آنے والی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پرامن احتجاج کرنے والی خواتین کے ساتھ کبھی بھی ریاست کی جانب سے اتنا برا سلوک اور انہیں ہراساں نہیں کیا گیا جتنا اس فاشسٹ حکومت نے کیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز رات گئے پریس کانفرنس میں رانا ثنااللہ نے کہا تھا کہ انٹیلی جنس اداروں نے ایک گفتگو پکڑی ہے، اس میں شامل کرداروں پر بھی نظر رکھی گئی، اس گفتگو میں 2 طرح کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایک منصوبے کے تحت پی ٹی آئی کے کسی بھی معروف کارکن کے گھر پر ایک باقاعدہ چھاپے کا منصوبہ بنایا جارہا تھا کہ وہاں فائرنگ کا واقعہ پیش آئے اور اس کے نتیجے میں وہاں پر ہلاکتیں ہوں اور پھر اس واقعے کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے کہ دیکھیں پاکستان میں انسانی حقوق کی کس طرح خلاف ورزی ہورہی ہے، لوگوں پر ظلم ہورہا ہے، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے لوگوں کے گھروں میں گھس کر انہیں ہلاک کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی گفتگو میں دوسری منصوبہ بندی یہ چل رہی تھی کہ ریپ ایکٹ کیا جائے یعنی باقاعدہ ریپ کیا جائے اور اس کا الزام قانون نافذ کرنے والے اداروں پر لگایا جائے، یہ دعویٰ کیا جائے کہ یہ سب حکومت کی ایما پر ہورہا ہے اور اس واقعے کو انٹرنیشنل میڈیا میں اچھالا جائے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اس گفتگو میں اس بات کے امکانات پائے گئے کہ ریپ کا یہ ڈرامہ آج رات (گزشتہ رات) ہی رچایا جائے، اس لیے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس شیطانی منصوبے سے قوم کو آگاہ کیا جائے تاکہ اس گمراہ عمرانی ٹولے کا اصل چہرہ لوگوں کے سامنے عیاں ہو۔

دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ منظم مہم کے تحت اداروں کی بدنامی کے لیے ہر عہدے کے افسران کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں ترجمان اسلام آباد پولیس نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق محکموں کو بدنام کرنے کی منظم مہم کا آغاز کیا گیا ہے، ہر عہدے کے افسران کو نشانہ بنایا جارہا ہے تاکہ اداروں کی بدنامی کی جاسکے۔

ٹوئٹ میں کہا گیا کہ تمام خواتین قابل احترام ہیں لیکن کچھ کو اس مہم میں استعمال کیا جا سکتا ہے، ایسے مذموم ہتھکنڈے غیر ملکی انٹیلی جنس ادارے ماضی میں استعمال کرتے رہے ہیں۔

ٹوئٹ میں تمام افسران کو ہدایت کی گئی کہ کسی بھی ایسی چال سے بچنے کے لیے معاملات کو شفاف رکھیں، تمام دفاتر، تھانہ جات اور حوالات میں کیمرے ٹھیک رکھیں۔

مشہور خبریں۔

فن لینڈ اور سویڈن کو نیٹو میں شامل کرنے کے لیے ترکی کے شرائط

?️ 18 مئی 2022سچ خبریں:  فن لینڈ اور سویڈن کی نیٹو میں شمولیت کی بولی

نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے قانونی ٹیم سے مشاورت

?️ 25 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور پارٹی قائد نواز شریف نے وطن واپسی سے

مولانا فضل الرحمن، یوسف رضا گیلانی کی جیت نے ثابت کر دیا وزیراعظم اکثریت کھوچکے

?️ 3 مارچ 2021اسلام آباد {سچ خبریں} پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان

روسی فوج کی یوکرین محاذ پر مسلسل پیشرفت

?️ 31 اکتوبر 2025سچ خبریں: روسی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس کے مسلح

غزہ کی جنگ اقوام متحدہ کے کارکنان کے لیے کیسی رہی ؟

?️ 9 جون 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے اعلان کیا ہے کہ

فائزر ویکسین کے حوالے سے اسد عمر نے وضاحت کر دی

?️ 3 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) این سی او سی کے سربراہ اسد عمر کا

صیہونی جیلوں کی کہانی،رہا ہونے والے فلسطینیوں کی زبانی

?️ 26 نومبر 2023سچ خبریں: صیہونی جیلوں سے آزاد ہونے والی فلسطینی خواتین اور بچوں

چیئرمین پی ٹی آئی ای سی پی میں پیش

?️ 25 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن کمیشن اور چیف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے