پشاور: کورکمانڈر ہاؤس کے باہر احتجاج کا معاملہ،فضل الہیٰ کی گرفتاری کا خدشہ

?️

پشاور:(سچ خبریں) پشاور میں 3 نومبر کو کورکمانڈر کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کے معاملے پر پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی فضل الہٰی کی گرفتاری سے متعلق ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو خط لکھ دیا ہے۔

 پنجاب کے شہر وزیرآباد میں سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کے خلاف پشاور کے کور کمانڈر کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرنے پر حاجی فضل الہیٰ سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

شمالی کنٹونمنٹ پولیس اسٹیشن نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 341، 353 اور 437 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، مقدمہ میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، سرکاری ملازم کو نوکری سے روکنے اور حملے کی کوشش کی دفعات شامل ہیں۔

تاہم ایف آئی آر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ رکن صوبائی اسمبلی کے خلاف کس نے مقدمہ درج کیا تھا لیکن پی ٹی آئی کے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ محمود خان اپنی جماعت کے قانون ساز کو پولیس کی جانب سے گرفتار کرنے سے ناخوش تھے۔

پشاور پولیس افسر محمود اعجاز خان نے ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی محمود جان کو خط لکھ کر آگاہ کیا کہ درج کی گئی ایف آئی آر میں رکن صوبائی اسمبلی فضل الہیٰ پولیس کو مطلوب ہیں، متعلقہ حکام کو ملزم کے کیس اور گرفتاری سے متعلق مطلع کیا جاتا ہے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ متعلقہ حکام کو ملزم کے کیس میں ملوث ہونے اور گرفتار سے متعلق آگاہ کیا جاتا ہے۔

پشاور میں پی ٹی آئی کے صدر عرفان سلیم نے ڈان سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پولیس نے رکن صوبائی اسمبلی فضل الہیٰ کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے 3 نومبر کو احتجاج میں موجود پشاور ضلع میں پی ٹی آئی کے صدر محمد عاصم خان اور دیگر کارکنوں کو مطلوب کیا ہے۔

عرفان سلیم نے بتایا کہ ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔

دوسری جانب تحقیقاتی پولیس نے بتایا کہ اس کیس کی کارروائی ابھی جاری ہے۔

خیبرپختونخوا کے عمل اور بزنس قوانین 1988 کے تحت صوبائی اسمبلی کے دفعہ 63 میں مجسٹریٹ کے ذریعے اسپیکر کو کسی بھی رکن کی گرفتاری یا حراست کی اطلاع فراہم کرتا ہے۔

دفعہ کے تحت جب کوئی صوبائی رکن اسمبلی مجرمانہ الزام ، جرم، عدالت کی جانب سے قید کی سزا یا انتظامیہ کے احکامات کے تحت حراست میں لیا جاتا ہے تو اس معاملے پر اسپیکر کو گرفتاری، حراست یا قید کی وجوہات کے بارے میں فوری طور پر معاملے سے آگاہ کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ 3 نومبر کو خیبرپختونخوا کے شہر پشاور میں ہشت نگری چوک سے خیبر روڈ تک گرینڈ ٹرک روڈ پر کور کمانڈر کی رہائش گاہ کے باہر پی ٹی آئی کے تقریباً 300 کارکنوں نے سابق وزیراعظم عمران خان پر حملے کے خلاف احتجاج کیا تھا، مظاہرین نے وفاقی حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی تھی۔

مظاہرین نے خیبر روڈ کو ایک گھنٹے کے لیے بند کردیا تھا جس کے بعد وہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب پہنچے جہاں انہوں نے وفاقی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

سوشل میڈیا پر احتجاج کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی کا ایک کارکن پولیس کی بکتر بند گاڑی پر چڑھ رہا ہے۔

ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کارکنان نے بکتر بند گاڑی پر لاٹھیوں سے حملہ کیا اور نقصان پہنچایا تھا۔

سوشل میڈیا میں گردش ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رکن صوبائی اسمبلی فضل الہیٰ وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کو دھمکیاں دے رہے تھے۔

مشہور خبریں۔

یوکرین میں کشیدگی میں کمی کی کوئی امید نہیں

?️ 30 مارچ 2022سچ خبریں:  شمالی یوکرین میں روسی فوجی کارروائیوں میں کمی کی کچھ

معیشت کا جنازہ نکالنے والی امپورٹڈ حکومت دہشتگردی سے نمٹنے میں بھی ناکام رہی، عمران خان

?️ 19 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی

اسرائیلی حملے میں قطر کے عالی رہنما کے نشانہ بننے کے قریبی واقعے کا انکشاف

?️ 13 ستمبر 2025سچ خبریں: عبرانی اخبار یدیعوت آحارونوت نے ایک قطرى ذرائع کے حوالے سے

سعودی خاتون کو قید کی سزا

?️ 19 اکتوبر 2022سچ خبریں:    سعودی عرب انصاف اور آزادی کا مطالبہ کرنے والی

یورینیم کی افزودگی کے لیے تل ابیب سے ریاض تک گرین لائٹ

?️ 1 اگست 2023سچ خبریں:اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر زچی ہانگبی نے پیر کے

9 مئی جلاؤ گھیراؤ کیس؛ یاسمین راشد سمیت 9ملزموں کو10 سال قید، شاہ محمود بری

?️ 22 جولائی 2025لاہور (سچ خبریں) انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی شیرپاؤ پل

کراچی:  بینک ڈکیتی کے ملزمان کی جانب سے لوٹی گئی  رقم سے متعلق اہم انکشاف

?️ 3 اپریل 2021کراچی(سچ خبریں) گذشتہ ماہ شہر قائد میں ہونے والی بینک ڈکیتی کے

الاقصیٰ طوفان آپریشن کو پاکستان نے سراہا

?️ 7 اکتوبر 2023سچ خبریں:پاکستان کے بہت سے آن لائن میڈیا اور نیوز چینلز نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے