پشاور: ورسک روڈ پر آئی ای ڈی دھماکا، بچوں سمیت 6 افراد زخمی، پولیس

?️

پشاور: (سچ خبریں) پشاور کے ورسک روڈ پر آئی ای ڈی کے دھماکے میں چار بچوں سمیت کم از کم چھ افراد زخمی ہو گئے۔ایس پی ورسک ڈویژن ارشد خان نے بتایا کہ دھماکے میں چار کلو گرام بارودی مواد استعمال ہوا تھا، بارودی مواد سڑک کنارے میں نصب کیا گیا تھا، مزید تحقیقات جاری ہے، دھماکے میں تین بچے زخمی ہوئے ہیں۔

ایس پی ورسک محمد ارشد خان بلاسٹ کی نوعیت سے متعلق بی ڈی یو کی رپورٹ پر مزید تفصیلات شیر کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکا صبح 9 بج کر 10 منٹ پر ہوا، اس حملے کا ہدف کون تھا، یہ بتانا قبل ازوقت ہوگا، کرائم سین کی تحقیقات چل رہی ہیں۔

دوسری جانب ترجمان پشاور لیڈی ریڈنگ ہسپتال محمد عاصم نے کہا کہ وارسک روڈ دھماکے کے چار زخمیوں کوایل آر ایچ منتقل کیا گیا ہے جن میں تین زخمی بچے ہیں جن کی عمریں سات سے دس سال کے درمیان ہیں، کوئی زخمی اسکول یونیفارم میں نہیں ہیں، سب راہگیر ہیں، دو زخمی بچوں کی حالت تشویشناک ہے، تمام زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جارہی ہے۔

قبل ازیں ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی نے کہا تھا کہ لوگوں کے مطابق 2 یا 3 بچے معمولی زخمی ہوئے ہیں، جنہیں نجی ہسپتال منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں، دھماکے کے باعث لوکل 2 سوزکیوں اور قریبی عمارت کے شیشے ٹوٹ گئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس افسر ان فوری موقع پر پہنچ گئے، پولیس اور سیکورٹی فورسز نے پورے علاقہ کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

واضح رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے گزشتہ سال نومبر میں حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کے بعد پاکستان، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالیہ مہینوں میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

گزشتہ ماہ بھی خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک دھماکے میں پانچ افراد جاں بحق اور بیس سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ نومبر کے دوران عسکریت پسندوں نے کُل 63 حملے کیے جس کے نتیجے میں 83 اموات ہوئیں، جن میں سیکیورٹی فورسز کے 37 اہلکار اور 33 شہری بھی شامل تھے، مزید برآں 89 افراد زخمی ہوئے جن میں 53 عام شہری اور 36 سیکورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔

اکتوبر کے اعداد و شمار کے ساتھ ایک تقابلی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ نومبر کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں 34 فیصد اضافہ، اموات میں 63 فیصد اضافہ اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد میں 89 فیصد اضافہ ہوا۔

پی آئی سی ایس ایس کے ڈیٹابیس کے مطابق 2023 کے 11 ماہ میں مجموعی طور پر 599 عسکریت پسند حملے ہوئے، جس کے نتیجے میں 897 اموات ہوئیں اور ایک ہزار 241 افراد زخمی ہوئے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس عسکریت پسندوں کے حملوں میں 81 فیصد اضافہ ہوا، ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں 86 فیصد اضافہ اور زخمیوں کی تعداد میں 64 فیصد اضافہ ہوا۔

مشہور خبریں۔

یمن کی دلدل میں پھنسا سعودی عرب؛نکلنے کا راستہ

?️ 1 مارچ 2023سچ خبریں:عرب دنیا کے اسٹریٹجک مسائل کے تجزیہ کار نے یمن میں

یاسمین راشد اگلے ہفتے تک ڈینگی کیسز پر قابو پانے پر پرامید

?️ 8 نومبر 2021لاہور(سچ خبریں) صوبہ پنجاب کی وزیر ڈاکٹر صحت یاسمین راشدنے ڈینگی کیسز

چین کا خلائی مشن پہلی بار چاند کے دور دراز حصے پر اترنے میں کیسے کامیاب ہوا؟

?️ 7 جون 2024 سچ خبریں: چین کا کہنا ہے کہ اس کا بغیر عملے

کابل میں امریکہ کے خلاف مظاہرہ

?️ 21 دسمبر 2021سچ خبریں:امریکہ کی طرف سے افغانستان کے مرکزی بنک کی مسلسل ناکہ

کیا بیروت ایئرپورٹ پر اسرائیل کا قبضہ ہے؟عطوان

?️ 16 فروری 2025 سچ خبریں:علاقائی امور کے ایک ماہر اور تجزیہ کار نے بیروت

7کروڑ افراد کو کورونا ویکسین کی پہلی ڈوز لگائی جا چکی ہے

?️ 15 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) ملک بھر میں ویکسینیشن کا سلسلہ جاری ہے

اسد عمر نے فی الوقت لاک ڈاؤن کا امکان مسترد کر دیا

?️ 6 جنوری 2022اسلام آباد( سچ  خبریں) وفاقی وزیر  برائے منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ

وزیر خارجہ نے یورپی پارلیمان میں منظور کردہ قرارداد کو مایوس کن قرار دیا

?️ 26 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) یورپی یونین کی خارجہ امور کمیٹی کے ساتھ ورچوئل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے