ٹیکس شرط ختم ہونے کے بعد بینکنگ سیکٹر دوبارہ پرانی پالیسی پر گامزن، اے ڈی آر 38 فیصد پر آگیا.

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) ٹیکس کی شرط ختم ہوتے ہی بینکوں نے نجی شعبے کو قرض دینے میں دلچسپی کم کر دی، جس کے نتیجے میں جون 2025 میں ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو (اے ڈی آر) کم ہو کر 38 فیصد پر آ گیا جو دسمبر 2024 میں 50 فیصد تھا، یہ رجحان بینکنگ سیکٹر کی روایتی پالیسی کی طرف واپسی کو ظاہر کرتا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع خبر کے مطابق، پاکستان کے بینکنگ سیکٹر نے ایک بار پھر اپنی روایتی حکمتِ عملی اختیار کر لی ہے، کیونکہ جون 2025 میں ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو (اے ڈی آر) کم ہو کر 38.1 فیصد رہ گیا ہے، جو دسمبر 2024 میں 50 فیصد تھا، اس کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرضوں کی فراہمی میں نمایاں سست روی آ گئی ہے۔

گزشتہ سال قرضوں میں اضافہ حکومت کی اس پالیسی کے نتیجے میں ہوا تھا جو مالی سال 25-2024 کے بجٹ میں متعارف کرائی گئی، جس کے تحت ان بینکوں پر 15 فیصد تک اضافی ٹیکس عائد کیا گیا تھا جو کم از کم 50 فیصد اے ڈی آر برقرار رکھنے میں ناکام رہتے۔

اس پالیسی کا مقصد نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں اضافہ کرنا اور سست روی کا شکار معاشی نمو کو فروغ دینا تھا۔

اس فیصلے کے بعد بینکوں نے جارحانہ حکمتِ عملی اپنائی اور کئی بڑے بینکوں نے مبینہ طور پر اپنے بڑے ڈیپازٹرز کو رقم نکالنے یا اضافی چارجز کا سامنا کرنے کا مشورہ دیا تاکہ مقررہ حد پوری کی جا سکے۔

اس کوشش میں بینکوں نے نان-بینکنگ فنانشل انسٹی ٹیوشنز (این بی ایف آئیز) کو بڑے پیمانے پر قرضے دینا شروع کیے، جن کی مالیت دسمبر 2024 تک 1 کھرب روپے تک جا پہنچی، جو اس وقت کے کل این بی ایف آئیز کریڈٹ اسٹاک سے 130 فیصد زیادہ تھی۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق یہ اضافہ بینکوں کی جانب سے اضافی لیکویڈیٹی کو استعمال میں لاتے ہوئے سال کے آخر تک لازمی اے ڈی آر کو پورا کرنے کی ایک اسٹریٹجک کوشش تھی۔

اگرچہ بینکوں نے مقررہ حد حاصل کر لی، لیکن حکومت نے بعد میں 50 فیصد اے ڈی آر کی شرط واپس لے لی اور اس کے باوجود بینکوں پر اضافی ٹیکس عائد کر دیا۔

شرط ہٹائے جانے کے بعد بینکوں نے دوبارہ بغیر خطرے کے راستوں کی طرف رجوع کیا اور زیادہ تر سرمایہ کاری حکومتی سیکیورٹیز میں شروع کر دی۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں جون 2025 تک انویسٹمنٹ ٹو ڈپازٹ ریشو (آئی ڈی آر) بڑھ کر 103 فیصد تک پہنچ گیا۔

مشہور خبریں۔

واٹس ایپ نے نیا فیچر متعارف کروا دیا

?️ 18 فروری 2022سان فرانسسکو(سچ خبریں) امریکی میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے ونڈوز پلیٹ

اسرائیل کا کوئی مستقبل نہیں، مستقبل فلسطین کاہے: سربراہ مجلس وحدت المسلمین

?️ 29 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے سربراہ

مسئلہ کشمیر حل ہونے تک برصغیر میں دیر پا امن  ممکن نہیں: وزیر خارجہ

?️ 1 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ

میرے مخالفین مجھے 2024 کا الیکشن جیتنے سے روکنا چاہتے ہیں:ٹرمپ

?️ 6 اپریل 2023سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے کیس کی سماعت اور نیویارک

بھارت نے مسلسل فوجی کارروائیوں سے کشمیریوں کی زندگی جہنم بنا ررکھی ہے

?️ 30 اپریل 2023سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں

معمول سے 40 فیصد کم بارشیں، آبی ذخائر خالی ہونے کے قریب، 3 صوبوں میں خشک سالی کا الرٹ جاری

?️ 25 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) محکمہ موسمیات نے سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں

وزیر خارجہ نے اسرائیل کے ظالمانہ حملوں کی مذمت کی

?️ 17 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے فلسطین کے

صہیونی میڈیا: ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ نے اسرائیل کی معیشت کو دوبارہ کورونا کے دور میں پہنچا دیا

?️ 15 جولائی 2025سچ خبریں: ایک صہیونی اخبار نے ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے