وزیر اعظم سے آرمی چیف کا تقرر روکنے کیلئے پی ٹی آئی سپریم کورٹ جائے گی

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں)نئے آرمی چیف کا تقرر وزیراعظم شہباز  شریف کے ہاتھوں ہونے کو روکنے کیلئے پی ٹی آئی قانونی آپشنز بشمول سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر غور کر  رہی ہے۔

یہ بات پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے دی نیوز کو بتائی ہے تاہم، رابطہ کرنے پر فواد چوہدری نے اس بات کی تردید کی اور کہا کہ انہیں علم نہیں کہ ایسے کسی اقدام پر غور کیا جا رہا ہے۔

سینئر پی ٹی آئی لیڈر کے مطابق پارٹی نہیں چاہتی کہ شہباز شریف کی زیرقیادت حکمران اتحاد نومبر کے آخر میں آرمی چیف کا تقرر کرے۔

انہوں نے کہا کہ جیسا کہ عمران خان پہلے ہی ایک ٹی وی انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ آرمی چیف کے تقرر کا معاملہ نئی حکومت کے آنے تک موخر کر دیا جائے۔

تاہم جب فواد چوہدری سے پوچھا گیا کہ کیا پی ٹی آئی نومبر میں شہباز شریف کے ذریعے آرمی چیف کے تقرر کو روکنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر غور کر رہی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ عمران خان نے آرمی چیف کے تقرر کو روکنے کیلئے معاملہ اپنی پارٹی کے ماہرین قانون کو بھیج دیا ہے، تو فواد نے نفی میں جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ نون لیگ کے رہنما اور وفاقی وزیر خرم دستگیر نے بیان دیا تھا کہ آرمی چیف کے تقرر کیلئے نواز شریف سے مشورہ کیا جائے گا؛ اس پر پارٹی میں بحث ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دستگیر کے بیان کے تناظر میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس معاملے پر بیانات دیے تھے۔ اپنے حالیہ جلسے میں عمران خان نے متعدد مرتبہ کہا کہ حکومت کو آرمی چیف کے تقرر کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔

نجی ٹی وی کو دیے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنا ماہرین قانون کا کام ہے کہ قانونی سطح پر اس معاملے سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے لیکن نئے آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ آئندہ الیکشن اور نئی حکومت کے آنے تک موخر کرنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئی منتخب حکومت کو آرمی چیف کا تقرر کرنا چاہئے۔

چند ہفتے قبل، عمران خان کو موجودہ حکومت سے آرمی چیف کے تقرر پر کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ اپوزیشن کا ایسے تقرر سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہ کام وزیراعظم اور حکومت وقت کا ہے۔

یہ سمجھ نہیں آتی کہ عمران خان نے اس تقرر کے معاملے پر اپنی رائے کیوں تبدیل کی اور اسے اپنے نئے سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنایا۔

دوسری جانب حکومت پرعزم ہے کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے گی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نومبر میں آرمی چیف کا تقرر کریں گے۔

اگرچہ عمران خان تقرر کے معاملے میں تاخیر چاہتے ہیں تاہم بظاہر لگتا ہے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نومبر 2022ء کے بعد کام نہیں کرنا چاہتے۔ قانوناً دیکھا جائے تو تقرری کا اختیار وزیراعظم کا ہے۔ تقرری میں غیر معینہ مدت تک تاخیر کے حوالے سے کوئی قانونی آپشن موجود نہیں۔

مشہور خبریں۔

ٹرمپ کی مقبولیت 36 فیصد کمی؛ ایران جنگ کے اثرات

?️ 28 مارچ 2026سچ خبریں:روئٹرز اور ایپسوس کے سروے کے مطابق ایران جنگ اور ایندھن

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ نہ ہوئے تو اپوزیشن ہی روئے گی: وزیراعظم

?️ 10 فروری 2021راولپنڈی(سچ خبریں) راولپنڈی کی تحصیل کلر سیداں میں میڈیا سے گفتگو کرتے

افغانستان کا پاکستان سے کراچی بندرگاہ پر کھڑے ہزاروں کنٹینرز چھوڑنے کا مطالبہ

?️ 15 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) افغانستان کے عبوری وزیر تجارت نورالدین عزیزی نے

تائیوان چین کے ساتھ ممکنہ جنگ جیت جائے گا!

?️ 13 جنوری 2023سچ خبریں:ایک امریکی تھنک ٹینک کا دعویٰ ہے کہ اس نے اس

اب اسرائیلی دنیا میں کہیں بھی جگہ محفوظ نہیں

?️ 2 نومبر 2023سچ خبریں:ایک متعلقہ رپورٹ میں Yedioth Aharonot اخبار نے لکھا ہے کہ

پاکستان کو سرحد پار دہشت گرد عناصر سے مستقل خطرات کا سامنا ہے: دفترخارجہ

?️ 16 دسمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان

بزدار حکومت کا نعرہ سارا پنجاب ہمارا کی بنیاد پر ہے: فیاض چوہان

?️ 3 ستمبر 2021لاہور (سچ خبریں) ترجمان پنجاب حکومت فیاض الحسن چوہان نے کہاہے کہ

سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس کے خلاف حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی

?️ 27 جون 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) فوجی عدالتوں میں آرمی ایکٹ کے تحت عام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے