نور مقدم قتل کیس: سپریم کورٹ نے مجرم ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کردی، سزائے موت برقرار

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جسٹس ہاشم کاکڑ نے مختصر فیصلہ سنادیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے مختصر فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ظاہر جعفر کے خلاف قتل کی دفعات میں سزائے موت برقرار رکھی ہے، ریپ کیس میں سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی گئی ہے جبکہ اغوا کے مقدمہ میں 10 سال قید کو کم کرکے ایک سال کر دیا گیا ہے، عدالت نے نور مقدم کے اہل خانہ کو معاوضہ ادائیگی کا حکم بھی برقرار رکھا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ظاہر جعفر کے مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار نے جتنی سزا کاٹ لی ہے وہ کافی ہے، شریک ملزم کو عدالت کا تحریری فیصلہ آنے کے بعد رہا کردیا جائے گا۔

ڈان نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے نور مقدم قتل کیس میں ملزمان کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔

ظاہِر جعفر کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نور مقدم کے والد سابق سفارتکار شوکت مقدم کی جانب سے ایڈووکیٹ شاہ خاور عدالت میں موجود تھے۔

ملزم ظاہر جعفر کے وکیل سلمان صفدر نے سماعت کے آغاز میں دلائل کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہاکہ پراسیکیوشن کا سارا کیس سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈی وی آر پر ہے، اپیل کنندہ کیخلاف شواہد کا شک و شبہ سے بالاتر ہونا ضروری ہے۔

وکیل سلمان صفدر نے مزید کہاکہ عدالت بطور شواہد پیش فوٹیجز سے باہر نہیں جا سکتی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں پراسیکیوشن کی فوٹیج چلائی گئی لیکن وہ چل نہ سکی،اسلام آباد ہائیکورٹ میں وکیل کی فراہم کردہ یو ایس بی سے ویڈیو چلائی گئی۔

ملزم ظاہر جعفر کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد شریک ملزم چوکیدار اور مالی کے وکیل نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ دونوں ملزموں کو 10، 10 قید کی سزا سنائی گئی، ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مقتولہ کو جانے سے روکا۔

جسٹس باقر نجفی نے کہا کہ اگر مجرمان مقتولہ کو نہ روکتے تو معاملہ کچھ اور ہوتا، ملزمان کے وکیل نے کہا کہ مالی اور چوکیدار کا گھر میں موجودگی کے علاوہ اور کوئی جرم نہیں، جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس میں کہا کہ تنخواہ سے زیادہ کام کرنے کی کیا ضرورت تھی، چوکیدار اور مالی کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کیس میں ایک بجے تک کا وقفہ کردیا۔

وقفے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو نور مقدم کے وکیل شاہ خاور نے عدالت کے سامنے اپنے دلائل رکھے، شاہ خاور نے کہا کہ مجرم کے خلاف تمام شواہد ریکارڈ کا حصہ ہیں، نور مقدم کو 40 گھنٹے اغوا رکھا گیا، جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا اغوا آپ کیسے ثابت کرتے ہیں؟ حبس بے جا کہا جاسکتا ہے۔

ریاست اس طرح کے مجرموں کیلئے قرار واقعی سزا چاہتی ہے، سرکاری وکیل

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ ڈی این اے کے بارے میں بتائیں، شاہ خاور نے کہا کہ ڈی این اے رپورٹ میں مجرم کے خلاف سب ثابت ہے، خون کے نمونے لیے گئے، چاقو کی رپورٹ بھی مثبت آئی، شاہ خاور نے اپیلیں خارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے اپنے دلائل مکمل کیے۔

بعدازاں سرکاری وکیل روسٹرم پر آئے اور کہا کہ میں حکومت کی جانب سے کچھ چیزیں سامنے رکھنا چاہتا ہوں، اس سنگین جرم کی کوئی معافی نہیں ہونی چاہیے، اس کیس کو مثالی بنانا چاہیے، ریاست اس جرم کو بڑی سنجیدگی سے دیکھتی ہے، یہ ایک انتہائی اندوہناک سانحہ ہے اور ریاست چاہتی ہے کہ اس طرح کے مجرموں کو قرار واقعی سزا سنائی جائے۔

یہ واقعہ لیونگ ریلیشن کے تاریک پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالتا ہے، جسٹس نجفی

جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے یہ واقعہ لیونگ ریلیشن کے تاریک پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالتا ہے، حکومت لیونگ ریلیشن اور منشیات کے بارے میں نوجوان نسل کو آگاہی دے، جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے ساتھ ہی یہ منشیات کے استعمال کے منفی پہلوؤں کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے سرکاری وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ نوجوانوں کو منشیات کون فراہم کرتا ہے؟ کسی یونیورسٹی چھاپہ مار کر دیکھ لیں کتنی آئس پکڑی جاتی ہے، ایس پی اور ایس ایچ او کی مرضی کے بغیر منشیات فروخت نہیں ہوسکتیں۔

بعدازاں جسٹس ہاشم کاکڑ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ظاہر جعفر سزائے موت برقرار رکھی جبکہ زیادتی کی دفعات میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا، عدالت نے اغوا کے مقدمے میں 10 سال قید کی سزا کم کرکے ایک سال کردی ہے جبکہ نور مقدم کے اہل خانہ کو معاوضے ادائیگی کا حکم بھی برقرار رکھا ہے۔

مختصر فیصلے میں ظاہر جعفر کے مالی اور چوکیدار کی سزاؤں میں بھی کمی کردی گئی ہے، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار جتنی سزا کاٹ چکے کافی ہے۔

مشہور خبریں۔

شمالی محاذ پر کیا ہو رہا ہے؟ صہیونی حکام کا بیان

?️ 21 ستمبر 2024سچ خبریں: عبرانی میڈیا نے مقبوضہ شمالی علاقوں میں اسرائیل کو ایک

افسوس کشمیر اور فلسطین کے بچے کھیل سمیت تمام بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ وزیراعلی پنجاب

?️ 12 جون 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے انٹرنیشنل ڈے آف پلے

وکلا تیاری کر کے عدالت آئیں اور التوا مانگنے سے گریز کریں: عمرعطا بندیال

?️ 2 فروری 2022  اسلام آباد (سچ خبریں) نو منتخب چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر

وزیراعظم کا بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ، بحالی کیلئے 10 ارب روپے گرانٹ کا اعلان

?️ 28 اگست 2022بلوچستان: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے سیلاب متاثرہ

سندھ: حکومت کا کورونا وائرس سے متعلق  پابندیاں جاری رکھنے کا فیصلہ

?️ 27 مئی 2021کراچی (سچ خبریں)سندھ میں کورونا وائرس  کے کیسز میں اگرچہ کمی ہو

سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں چار اسلامی میوزیم کی تعمیر

?️ 1 دسمبر 2021سچ خبریں:سعودی عربین میوزیم کمیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ کمیشن

کیا 2022 کورونا وبا کے خاتمے کا سال ہے؟

?️ 28 دسمبر 2021سچ خبریں:اگرچہ کورونا کی نئی قسم اومیکرون نے اس بیماری کی منتقلی

واشنگٹن کا سعودی عرب کو 500 ملین ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے پر اتفاق

?️ 17 ستمبر 2021سچ خبریں:پینٹاگون کے ذیلی ادارے امریکی دفاعی سکیورٹی تعاون ایجنسی نے اعلان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے