نجکاری کے کیسز نمٹانے کیلئے خصوصی ٹربیونل بنانے کی منظوری

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وفاقی کابینہ نے صدارتی آرڈیننس کی حتمی منظوری دے دی جس کے تحت سرکاری اداروں کی نجکاری کے کیسز کو خصوصی طور پر نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے موجودہ جج کی سربراہی میں خصوصی ٹربیونل قائم کیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کابینہ سے آرڈیننس کی منظوری کے بعد سرکاری اداروں کی نجکاری کے فیصلوں کو مختلف عدالتوں میں چیلنج کرنے کی ماضی کی روایت ختم ہو جائے گی۔

وفاقی کابینہ کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر آرڈیننس کی سرکولیشن کے ذریعے منظوری کی تصدیق کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بنیادی طور پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کیا گیا، سرکاری اداروں کی نجکاری کے فیصلے کو خصوصی ٹریبونل کے علاوہ کسی اور عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا، خصوصی ٹربیونل کے فیصلے کو صرف سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکے گا۔

کابینہ نے 4 خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں (ریڈیو پاکستان، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن، پاکستان پوسٹ آفس) کی نجکاری کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس کی بھی منظوری دی۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یکم دسمبر کو ان اداروں کے نظم و نسق اور انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لیے آرڈیننس کے نفاذ کی منظوری دی تھی۔

کابینہ کے فیصلے کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا لیکن کچھ نجی ٹی وی چینلز نے آرڈیننس کی منظوری کے بارے میں اطلاعات نشر کیں۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن، ریڈیو پاکستان اور پاکستان پوسٹ اب خودمختار بورڈز کے تحت کام کریں گے کیونکہ نگران حکومت نے 70 کروڑ ڈالر کی اگلی قسط کے اجرا کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے رکھی گئی ایک اور شرط پوری کرنے کے لیے ایک عمل شروع کیا ہے۔

نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی تجویز پر صدر عارف علوی نے پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن ترمیمی آرڈیننس 2023، این ایچ اے ترمیمی آرڈیننس 2023، پاکستان پوسٹل سروسز مینجمنٹ بورڈ ترمیمی آرڈیننس 2023 اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ترمیمی آرڈیننس 2023 پر دستخط کیے تھے جن کے تحت ان اداروں کو خود مختار بنایا گیا ہے لیکن یہ وزارت خزانہ کی نگرانی میں ہوں گے۔

یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اِن آرڈیننسز کے تحت اِن اداروں میں سے ہر ایک کے لیے ایک بورڈ آف ڈائریکٹرز قائم کیا جائے گا جس میں 6 سے 11 اراکین ہوں گے، جو سرکاری ملازمین کے بجائے پرائیویٹ سیکٹر کے ماہرین ہوں گے، جنہیں تنخواہ اور دیگر الاؤنسز دیے جائیں گے۔

مشہور خبریں۔

کیا پوری دنیا میں امریکی قیادت کا راج ہے؟

?️ 21 نومبر 2021سچ خبریں: سوچی میں والدین کی 28ویں بین الاقوامی میٹنگ میں صدر پوتن

 ٹرمپ کو ہماری قوم کی توہین کے بجائے امریکی شہریوں پر توجہ دینی چاہیے:سومالیہ کے وزیرِ دفاع

?️ 13 دسمبر 2025  ٹرمپ کو ہماری قوم کی توہین کے بجائے امریکی شہریوں پر

بھارت مقبوضہ جموں وکشمیرمیں نوآبادیاتی ایجنڈے پر عملدرآمد تیز کررہا ہے

?️ 29 جنوری 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل

معصوم فلسطینی بچوں کے خون میں ڈوبتی صیہونی معیشت

?️ 16 نومبر 2023سچ خبریں: صیہونی حکومت کے بڑھتے ہوئے اقتصادی بحران کے کی وجہ

واٹس ایپ کے مالک مارک زکربرگ خود سگنل ایپ استعمال کیوں کرتے ہیں؟

?️ 7 اپریل 2021نیویارک(سچ خبریں) ایک سیکیورٹی محقق ڈیو والکر نے دعویٰ کیا ہے کہ

حلیم عادل پانی چوروں کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے

?️ 17 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما، اپوزیشن لیڈر سندھ

ٹرمپ انتظامیہ کا دباؤ، ایپل نے امیگریشن اہلکاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ایپس ایپل اسٹور سے ہٹادیں

?️ 4 اکتوبر 2025سچ خبریں: مشہور ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے ایپ اسٹور سے امریکا کی

اسرائیل اب بھی حماس کی صلاحیتوں کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکا

?️ 6 ستمبر 2025اسرائیل اب بھی حماس کی صلاحیتوں کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے