?️
لاہور: (سچ خبریں) لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں مریم اورنگزیب اور جاوید لطیف کو اشتعال انگیز گفتگو کرنے کے مقدمے سے بری کردیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے لیگی رہنماؤں کی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے مریم اورنگزیب اور جاوید لطیف کی درخواستیں منظور کر لیں۔
لاہور کے تھانہ گرین ٹاون میں مریم اورنگزیب اور دیگر کے خلاف اشتعال انگیز گفتگو کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
پولیس نے اپنی رپورٹ میں مریم اورنگزیب اور جاوید لطیف کو بے گناہ قرار دیا تھا۔
یاد رہے کہ ستمبر 2022 میں لاہور کے گرین ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں مقامی مسجد کے امام کی مدعیت میں مریم اورنگزیب اور جاوید لطیف کے خلاف سیکشن 9 (فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے کا جرم) اور 11 ایکس-3 (شہری انتشار پیدا کرنے کی ذمہ داری) کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر میں شکایت کنندہ نے کہا تھا کہ انہوں نے 14 ستمبر کو مسلم لیگ(ن) کے رہنما جاوید لطیف کی پریس کانفرنس دیکھی جس میں انہوں نے عمران خان کے خلاف مذہب کے نام پر تشویش ناک الزامات لگائے۔
مقدمے میں پاکستان ٹیلی ویژن کے منیجنگ ڈائریکٹر سہیل خان اور کنٹرولر پروگرام راشد بیگ کو بھی نامزد کیا گیا تھا اور ان کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ پریس کانفرنس قومی ٹیلی ویژن پر دکھائی گئی۔
پنجاب میں اس وقت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت تھی اور اس وقت کے صوبائی وزیر داخلہ کرنل (ر) محمد ہاشم ڈوگر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایف آئی آر کی کاپی شیئر کی اور کہا تھا کہ کسی بھی شہری بشمول عمران خان کے خلاف مذہبی منافرت اور تشدد پر اکسانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ پروگرام میں جاوید لطیف نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں احمدی کمیونٹی کی سپورٹ کر کے اسلام کے بنیادی اصولوں پر حملہ کیا۔
انہوں نے کہا تھا کہ جب عمران خان نے نیا پاکستان بنایا تو کراچی میں قادیانی سرگرم ہوگئے، کیا عمران خان نے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو میں نہیں کہا تھا کہ قادیانیوں کو مذہبی آزادی دی جائے گی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ جاوید لطیف نے عمران خان کے خلاف مذہبی منافرت پھیلانے کے لیے پارٹی قیادت کے ساتھ مریم اورنگزیب کے کہنے پر متنازع بیان دیا۔
شکایت کنندہ نے کہا تھا کہ اس پریس کانفرنس کے ایک روز بعد جاوید لطیف کی ایک اور پریس کانفرنس دیکھی جس میں انہوں نے اصرار کیا کہ وہ اپنے پہلے بیان پر قائم ہیں۔
بعد ازاں جاوید لطیف نے اپنے خلاف پنجاب کے مختلف تھانوں میں دائر مقدمات کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی تھی اور مؤقف اپنایا تھا کہ اسلام آباد سے نشر ہونے والے ایک پروگرام کے دوران میرے بیانات کے خلاف پنجاب میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ اس طرح کے مقدمات اسلام آباد کے علاوہ کہیں اور درج نہیں ہوسکتے کیونکہ پروگرام اسلام آباد سے نشر ہوا تھا۔
جاوید لطیف نے کہا تھا کہ یہ پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا دائرہ اختیار ہے کہ اگر پروگرام میں میری باتیں نامناسب اور جارحانہ ہیں تو وہ میرے خلاف کارروائی کرے اور عدالت سے استدعا کی تھی کہ ان کے خلاف دائر تمام مقدمات کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔


مشہور خبریں۔
پاکستان نے سلامتی کونسل کے صدر کی حیثیت سے غزہ کیلئے بھرپور آواز اٹھائی، وزیرخارجہ
?️ 29 اگست 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحٰق ڈار نے کہا
اگست
ڈھائی سال کی شہیدہ، صہیونی بربریت کا ایک اور ثبوت
?️ 26 جنوری 2025سچ خبریں: لیلیٰ محمد الخطیب، جن کی عمر صرف ڈھائی سال تھی،
جنوری
حکومت کا بینکوں کی مدد سے کم آمدنی والے طبقے کیلئے سستی ہاؤسنگ اسکیم لانے پر غور
?️ 13 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت کم آمدنی والے طبقے کے لیے سبسڈائزڈ
مئی
کیش لیس معیشت سے گورننس میں بہتری اور کرپشن میں کمی آئے گی، وزیراعظم
?️ 10 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کیش
نومبر
پنجاب اسمبلی میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف قرارداد منظور
?️ 31 جولائی 2022لاہور: (سچ خبریں)پنجاب اسمبلی نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا اور
جولائی
غزہ کی پٹی پر قابضین کے حملوں میں 66 صحافیوں کی شہادت
?️ 25 نومبر 2023سچ خبریں:فلسطین میں میڈیا ایسوسی ایٹس کی یونین نے اعلان کیا ہے
نومبر
امریکی عہدیدار کا ضمیر بیدار ہوگیا پر عرب حکمرانوں کا نہیں
?️ 21 اکتوبر 2023سچ خبریں: امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے اسرائیل کے لیے
اکتوبر
اوپو کی ’کے‘ سیریز کو دو فونز متعارف
?️ 22 جولائی 2025سچ خبریں: اسمارٹ فون ساز بنانے والی چینی کمپنی ’اوپو‘ نے کے
جولائی