?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) فیض آباد دھرنا کمیشن کواس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنے دئیے گئے بیان میں کہا تھا کہ ٹی ایل پی پر پابندی سے متعلق انٹیلی جنس کی کوئی رپورٹ صوبائی حکومت سے شیئر نہیں کی گئی تھی، فیض آباد دھرنے کا اندازہ نہیں تھا،طاقت کے استعمال سے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
فیض آباد دھرنا کمیشن میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کمیشن کو دیا گیا بیان سامنے آگیا۔جیونیوز کے مطابق شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ڈی سی راولپنڈی، کمشنر، سی پی او اور آر پی او کو ذیلی کمیٹی برائے امن و امان سے واضح ہدایات موصول ہوئی تھیں، افسران کو ہدایات تھیں کہ اسلام آباد انتظامیہ کو ہر ممکن تعاون فراہم کریں۔
ٹی ایل پی کے رہنماؤں کے ساتھ سیاسی مذاکرات ہو رہے تھے، ٹی ایل پی اور وفاقی حکومت کے درمیان معاہدے میں اتفاق کیا گیا تھا، طے ہوا تھا ٹی ایل پی رہنماوٴں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات قانونی طریقہ کار کے بعد واپس لئے جائیں گے۔
پنجاب میں امن و امان کے معاملات پر کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے امن تشکیل دی گئی تھی جو صوبائی وزیر قانون اور بعض دیگر اہم صوبائی وزراءپر مشتمل تھی۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کا اپنے بیان میں کہنا تھا کسی تنظیم پر پابندی انسداد دہشت گردی ایکٹ میں دئیے گئے سخت معیار کے تحت ہوتی ہے، پابندی وزارت داخلہ اپنے مینڈیٹ کے مطابق عائد کر سکتی تھی، طاقت کے استعمال سے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا بھی کہنا ہے کہ فیض حمید نے دھرنے کے دوران ملاقات میں استعفے کا کہا تھا ،فیض حمید نے تجویز دی کہ مختصر وقت کیلئے استعفے پر غور کرسکتے ہیں؟ فیض حمید سمجھتے تھے کچھ عرصہ چھٹی پربھی چلا جاوٴں تو ٹی ایل پی مطمئن ہوجائےگی۔یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماءخواجہ آصف او ر سابق وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے کی جانب سے فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ پر تنقید کی گئی تھی ۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماءرانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ فیض آباد دھرنا کمیشن نے صحیح نتائج پر پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کی۔سابق وزیر قانون زاہد حامد خود استعفیٰ دینے پر تیار تھے لیکن اس وقت تک ذہن بن چکا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق آپریشن ہوگا جبکہ خواجہ آصف نے بھی نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ فیض آباد انکوائری کمیشن کی رپورٹ کی کوئی وقعت نہیںہے۔
یہ رپورٹ نا تو مستند اور نا قابلِ بھروسہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کے سامنے جا کرمجھے احساس ہوا تھاکہ یہاں کوئی سنجیدگی نہیں۔ مجھے یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ فیض آباد دھرنا کمیشن گریبان میں جھانکے کہ انہوں نے فرض نبھایا کہ نہیں نبھایا۔کمیشن کے سامنے صرف مجھ جیسے سیاسی ورکر پیش ہوئے تھے۔


مشہور خبریں۔
آبی معاہدہ محفوظ نہیں تو کوئی بھی معاہدہ محفوظ نہیں۔ پاکستانی مندوب
?️ 31 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم
جنوری
غزہ جنگ کے 400 دن بعد ریاض اجلاس میں غزہ اور لبنان میں جنگ بندی پر غور
?️ 11 نومبر 2024سچ خبریں:ریاض میں آج متعدد عرب اور اسلامی ممالک کے سربراہان کا
نومبر
مسئلہ فلسطین کو تباہ کرنا امریکہ اور مغرب کی سازش ہے: فیصل مقداد
?️ 22 اپریل 2022سچ خبریں: شام کے وزیر خارجہ فیصل مقداد نے آج سہ پہر
اپریل
شام اور فلسطین کو صیہونی قبضے اور جارحیت کا سامنا ہے:شامی وزیر خارجہ
?️ 10 جنوری 2022سچ خبریں:شام کے وزیر خارجہ نے فلسطینی تحریک فتح کے وفد سے
جنوری
مصر، اردن اور فلسطینی اتھارٹی کے سربراہان کا سہ فریقی اجلاس،بات کیا ہونا ہے؟
?️ 14 اگست 2023سچ خبریں: آج پیر کو مصر کے صدر، اردن کے بادشاہ اور
اگست
مقتول صہیونی فوجیوں کے اہل خانہ: اسرائیلی سیاسی شخصیات کو جنازوں میں شرکت نہیں کرنی چاہیے
?️ 9 جون 2025سچ خبریں: خان یونس میں ہلاک ہونے والے چار صیہونی فوجیوں کے
جون
نئی نوآبادیاتی پالیسی سے مشرقِ وسطیٰ کو خطرہ، اسرائیل خطے کا نقشہ بدلنے کے درپے؛ عرب تجزیہ کار کا انتباہ
?️ 14 مارچ 2026سچ خبریں:عرب تجزیہ کار نے خبردار کیا ہے کہ نئی نوآبادیاتی پالیسی
مارچ
پاکستانی اخبار: ٹرمپ کو ایران کے ساتھ سمجھوتے کے لیے اپنی نیت ثابت کرنی ہوگی
?️ 22 اپریل 2026سچ خبریں: پاکستانی اخبار "ڈان” نے آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی جڑ
اپریل