غزہ معاہدے کے حامی مسلم ممالک کو ’اپنی پوزیشن پر دوبارہ غور‘ کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے، خواجہ آصف

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے اتوار کو غزہ میں امن کے لیے اسرائیل کی وابستگی پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ امن معاہدے کی حمایت کرنے والے مسلم ممالک کو ’اپنی پوزیشن پر دوبارہ غور کرنے‘ کی ضرورت پڑ سکتی ہے، کیوں کہ علاقے میں نازک جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔

اگرچہ اسرائیل اور حماس کے درمیان 9 اکتوبر کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اسرائیل نے علاقے پر بمباری جاری رکھی ہے، اور امن کے لیے طویل مدتی منصوبے پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

وزیر دفاع نے آج سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ میں کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے پر ایک طرفہ ہونے کا الزام لگایا گیا ہے، اور اسرائیلی افواج ’معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں فلسطینی، بشمول بچے، مارے جا رہے ہیں‘۔

خواجہ آصف نے کہا کہ شرم الشیخ میں دستخط کیے گئے اس معاہدے کا مقصد خطے میں استحکام لانا تھا، لیکن اسرائیل کے اقدامات نے اس کی وابستگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ مسلم ممالک جو اس معاہدے کی حمایت کر چکے ہیں (جن میں ترکی، مصر اور قطر شامل ہیں) کو جاری تشدد کے پیش نظر اپنی پوزیشن پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان پہلے ہی تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور کہا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کو فلسطینی مسئلے کے حتمی حل کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔

خواجہ آصف نے نشاندہی کی کہ جب سے 10 اکتوبر کو جنگ بندی نافذ ہوئی، کم از کم 352 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ تصادم کے آغاز سے اب تک غزہ میں 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کا نسل کشی کا عمل ختم نہیں ہوا، اور بین الاقوامی برادری خصوصاً مغربی حکومتوں کو اسرائیل پر بین الاقوامی قانون کی پابندی کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔

امریکی ثالثی میں طے پانے والے غزہ امن معاہدے کی بنیاد بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کے قیام پر ہے، جو زیادہ تر مسلم اکثریتی ممالک کے فوجیوں پر مشتمل ہے، تاہم، وہ ممالک جو پہلے اس منصوبے کی حمایت کر چکے تھے، اب تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔

گزشتہ روز ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاکستان غزہ امن فورس میں فوجی تعینات کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن حماس کو غیر مسلح کرنے میں حصہ لینے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہم اس کے لیے تیار نہیں ہیں، یہ ہمارا کام نہیں، بلکہ فلسطینی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام ہے، ہمارا کام امن قائم رکھنا ہے، امن نافذ کرنا نہیں۔

مشہور خبریں۔

عمران خان پر ایک اور قاتلانہ حملے کی تیاری ہو رہی ہے، بابر اعوان کا دعویٰ

?️ 3 مارچ 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما بابر اعوان

بحرین کے بادشاہ کا ریاض کے ایئرپورٹ پر بن سلمان نے کیا استقبال

?️ 2 مارچ 2022سچ خبریں:   بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ آج غیر اعلانیہ

امریکہ کے 5 سابق وزرائے دفاع ٹرمپ کے خلاف 

?️ 1 مارچ 2025 سچ خبریں: کانگریس کو لکھے گئے خط میں، پانچ سابق امریکی

لوگ افغانستان میں امریکی جمہوریت سے غیر مطمئن تھے: طالبان

?️ 22 اکتوبر 2021سچ خبریں: طالبان کی وزارت اطلاعات و ثقافت کے قائم مقام سربراہ

?️ 13 فروری 2026 سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز کہا کہ اسرائیلی صدر

امریکہ نکولس مادورو کی جیت سے بہت پریشان! وجہ؟

?️ 29 جولائی 2024سچ خبریں: وینزویلا کے صدارتی انتخابات میں نکولس مادورو کی جیت اور ریاست

یوکرین کی جنگ میں ہلاک یا زخمی ہونے والے فوجی

?️ 19 اگست 2023سچ خبریں:یوکرین کی جنگ میں ہلاک یا زخمی ہونے والے یوکرینی اور

السنوار اور اسماعیل ہنیہ کے بعد حماس کا انتظام کیسے چل رہا ہے؟

?️ 18 مارچ 2025سچ خبریں: Ynet نیوز سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ، محمد السنوار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے