?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کی منظوری دے دی۔ بشیر محمود ورک کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس میں ازخود نوٹس اختیار سے متعلق سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت شہادت اعوان، مسلم لیگ(ن) کے محسن رانجھا اور رکن قومی اسمبلی رمیش کمار وانکوانی بھی شریک ہوئے۔
وزیر قانون نے کہا کہ گزشتہ روز ایوان میں پیش کردہ بل میں کچھ ترامیم کی جا رہی ہیں، رکن اسمبلی رمیش کمار نے بل پر سپریم کورٹ سے ان پٹ لینے کا مشورہ دیا۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی محمود بشیر ورک نے رمیش کمار سے مکالمہ کیا کہ میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب، ان سے اجازت لی جائے؟
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی محسن رانجھا نے کہا واضح ہے کہ قانون سازی و آئین سازی پارلیمان کرے گی۔
وزیر قانون نے کہا کہ سال سوا سال سے سپریم کورٹ کے 2 سینیر ججز کسی اہم بینچ میں نظر نہیں آئے، اس پر بہت اضطراب پایا جاتاہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔
وزیر قانون نے کہا کہ از خود نوٹس کے اختیار کو ون مین شو کی طرح استعمال کیا گیا، ہم نے ہر طرح سے دیکھا ہے کہ اس میں آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے تین سال سے سپریم کورٹ میں فل کورٹ اجلاس نہیں ہوا، وفاقی حکومت کا فرض ہے کہ قانون سازی کر کے خلا کو پر کرے۔
وزیر قانون نے کہا کہ آٹھ آٹھ ماہ سے جلد سماعت کی درخواستیں پڑی ہیں کوئی سنتا ہی نہیں، ہم نہیں چاہتے کہ ایسا قانون بنائیں جسے بعد میں چیلنج کیا جا سکے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ اسٹیک ہولڈرز کا بڑا پرانا مطالبہ تھا جس پر اب قانون سازی کی جا رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ از خود نوٹس کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق نہ ہونا بنیادی حقوق کے خلاف ہے، مرضی کے وکیل کی خدمات حاصل کرنا بھی ہر ایک کا حق ہے، جب سپریم کورٹ کے اندر سے بھی آوازیں آئیں تو قانون سازی کا فیصلہ کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے دریافت کیا کہ کیا اس بل میں آئین کے منافی کوئی چیز شامل ہے؟
پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ کا وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کہنا تھا کہ ارکان پارلیمنٹ تو متفق ہیں لیکن پارلیمنٹ کے باہر سے کچھ آوازیں اٹھ رہی ہیں، قانون سازی کی ٹائمنگ پر اعتراض کیا جا رہا ہے، کچھ لوگ کہ رہے ہیں کہ آرٹیکل 184 (3) میں ترمیم کرنی پڑے گی۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کمیٹی کو بتایا کہ آرٹیکل 184 (3) کا بے دریغ استعمال کیا گیا، سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے از خود نوٹس کا بے دریغ استعمال کیا، ان کے بعد تین چیف جسٹسز نے اس اختیار کو استعمال نہیں کیا۔
وزیر قانون نے مزید کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے تو حدیں ہی پار کر لیں، وکلا برادری کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا، اب تو سپریم کورٹ کے ججز نے بھی کہہ دیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کمیٹی کو بتایا کہ سپریم کورٹ میں تمام کیسز کی سماعت کے لیے بینچ بنانے کا اختیار چیف جسٹس اور 2 سینئر ترین ججز کی کمیٹی کو دینے کی تجویز ہے۔
بل میں تجویز دی گئی ہے کہ آئین کی تشریح کے کیسز کی سماعت کے لیے ججز کمیٹی 5 ارکان سے کم ججز پر مشتمل بینچ تشکیل نہیں دے گی۔
محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ اس ایکٹ کا اطلاق پچھلے تاریخوں سے کیا جائے، جس پر وفاقی وزیر نوید قمر نے کہا کہ ایسا نہ کریں، الزام آئے گا کہ نواز شریف کو ریلیف دینے کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے۔
وزیر قانون نے کہا کہ اس بات کو ججز پر ہی چھوڑ دیا جائے تو بہتر ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے وکلا کی بہبود اور تحفظ کا بل بھی اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قانون کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ میں زیر سماعت از خود نوٹسز میں اپیل کا حق مل جائے گا۔
قانون منظور ہونے سے 30 روز قبل جن از خود نوٹسز کے فیصلے ہوئے ان میں بھی اپیل کا حق دینے کی ترمیم بھی بل میں شامل کر لی گئی.
ترمیم بل میں شامل کی گئی ہے کہ آئین کی تشریح کے مقدمات کی سماعت کے لیے پانچ سے کم ججز پر مشتمل بینچ تشکیل نہیں دیا جائے گا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون نے عدالتی اصلاحات سے متعلق سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 اضافی ترامیم کے ساتھ متفقہ طور پر منظور کرلیا۔


مشہور خبریں۔
حکومت کا 5 ارب ڈالر قرض لینے کا فیصلہ
?️ 31 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی حکومت نے5 ارب ڈالر قرض لینے کا فیصلہ
جنوری
مغربی کنارے میں صیہونی فوجیوں پر فلسطینیوں کا حملہ
?️ 27 دسمبر 2022سچ خبریں: آرین الاسود استقامتی گروپ نے اعلان کیا ہے
دسمبر
آئینی ترمیم کیلئے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت فارم 47 کا پارٹ 2 ہے، لیاقت بلوچ
?️ 21 اکتوبر 2024لاہور: (سچ خبریں) نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے
اکتوبر
فورسز کا ژوب میں کلیئرنس آپریشن، مزید 14 بھارتی حمایت یافتہ خوارج جہنم واصل
?️ 9 اگست 2025راولپنڈی (سچ خبریں) پاک افغان سرحد کے قریب کلیئرنس آپریشن کے دوران
اگست
صیہونیوں نے غزہ پٹی کی کتنی فیصد فیصد عمارتوں کو تباہ کر دیا ہے؟ امریکی اخبار کی زبانی
?️ 9 اکتوبر 2024سچ خبریں: ایک امریکی اخبار نے اسرائیلی فوج کے غزہ پٹی پر
اکتوبر
10 ہزار سے زائد فلسطینی بچوں کی تشویشناک صورتحال،وجہ؟
?️ 28 فروری 2024سچ خبریں: فلسطینی ہلال احمر نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے
فروری
یمن؛امپریالیزم کی آنکھ کا کانٹا
?️ 7 اپریل 2025 سچ خبریں:یمنی افواج نے حالیہ دنوں میں امریکی طیارہ بردار جہاز
اپریل
غزہ میں اسرائیلی فوج کی حالت زار / نیتن یاہو نے بائیڈن کے مشورے پر کیوں توجہ نہیں دی؟
?️ 12 جولائی 2025سچ خبریں: اسرائیلی حکومت کے عسکری امور کے ماہرین نے غزہ میں
جولائی