سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کی نورمقدم کیس میں جسٹس باقر نجفی کے ریمارکس کی شدید مذمت

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے جمعرات کو جسٹس علی باقر نجفی کے اُس بیان کی شدید مذمت کی جو ایک روز قبل نور مقدم کیس سے متعلق سامنے آیا تھا، اور اسے مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی، جو اب وفاقی آئینی عدالت کا حصہ ہیں، نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ نور مقدم کیس معاشرے میں پھیلنے والی ایک ’برائی‘ کا نتیجہ ہے، جسے ’لِوِنگ ریلیشن شپ‘ (یعنی دو غیر شادی شدہ افراد کا ایک ساتھ رہنا)کہا جاتا ہے۔

کمیٹی نے آج کے اجلاس میں سوال اٹھایا کہ ’جب خواتین کے خلاف مقدمات میں سزا کی شرح پہلے ہی شرمناک حد تک کم ہے، تو اگر ایک جج خود اس طرح کی بات کرے تو سزا کی شرح کا کیا بنے گا؟‘۔

کم سزا کی شرح کے باعث کمیٹی نے ایڈووکیٹ جنرلز، پراسیکیوٹر جنرلز، پولیس حکام اور متعلقہ تمام اداروں کو طلب کر لیا۔

جنس کی بنیاد پر تشدد( جی بی وی)کے مقدمات میں سزا کی شرح مبینہ طور پر صرف 1.2 فیصد ہے، جس کی وجہ کمزور پراسیکیوشن اور عدالتی تاخیر ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جنس کی بنیاد پر تشدد کا کوئی مرکزی ڈیٹا بیس موجود نہیں، جس سے مؤثر تجزیہ ممکن نہیں، مزید یہ کہ وسائل کی کمی کے باعث پناہ گاہیں، کرائسس سینٹرز، جی بی وی عدالتیں، پولیس کے حفاظتی یونٹ وغیرہ مناسب فنڈنگ سے محروم ہیں۔

27 سالہ نور مقدم، جولائی 2021 میں اسلام آباد میں ظاہر ذاکر جعفر کی رہائش گاہ پر مردہ پائی گئی تھیں، مئی 2025 میں جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس اسحٰق ابراہیم اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ظاہر جعفر کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا، جو انہیں 2022 میں ٹرائل کورٹ نے سنائی تھی۔

اکتوبر 2025 سپریم کورٹ نے ظاہر ذاکر جعفر کی نظرِ ثانی درخواست پر سماعت کی تھی، سماعت کے دوران جسٹس نجفی نے ملزم کے وکیل خواجہ حارث سے کہا کہ وہ ایک اضافی نوٹ دیکھنے کے بعد دلائل شروع کریں، جو اس وقت تک جاری نہیں ہوا تھا۔

بعد ازاں جسٹس علی باقر نجفی نے نئی قائم شدہ وفاقی آئینی عدالت کے جج کے طور پر حلف اٹھایا، جو 27ویں آئینی ترمیم کے بعد قائم ہوئی ہے۔

بدھ کو سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری نور مقدم کیس پر اپنے اضافی نوٹ میں جسٹس علی باقر نجفی نے مجرم ظاہر جعفر کی سزا برقرار رکھتے ہوئے یہ ریمارکس دیے کہ یہ کیس طبقہ اشرافیہ میں پھیلتی ہوئی اُس برائی کا نتیجہ ہے جسے ہم ‘لِوِنگ ریلیشن شپ’ کے نام سے جانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تعلقات ’سماجی تقاضوں‘ کو نظر انداز کرتے ہیں اور نہ صرف ملکی قانون بلکہ شریعت کے عائلی قوانین کی بھی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے فوراً بعد سامنے آنے والے یہ یہ ریمارکس سوشل میڈیا پر وکلا اور صحافیوں سمیت کئی افراد کی جانب سے شدید تنقید کا باعث بنے ہیں۔

مشہور خبریں۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ کا انتباہ: فلسطینی زمینوں پر قبضہ جارحانہ اقدام ہے

?️ 19 فروری 2026اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ کا انتباہ: فلسطینی زمینوں پر قبضہ جارحانہ

یمن کی مزاحمتی کارروائیاں اور صیہونیوں کی بے بسی

?️ 24 دسمبر 2024سچ خبریں:یمن کی مزاحمتی قوتوں کی جانب سے اسرائیلی حکومت کے خلاف

تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہے: چینی میڈیا

?️ 5 اپریل 2025سچ خبریں: چینی ذرائع ابلاغ جیسے چائنہ نیوز، پیپلز ڈیلی، سی جی

دشمنوں کو یمن کی واضح تنبیہ: سازشی خیالات سے چھٹکارا حاصل کرو!

?️ 24 ستمبر 2025سچ خبریں: یمن کی وزارت داخلہ نے ایک بیان جاری کیا جس

یمنی عوام کے خلاف امریکی اقدامات کے اثرات؛ یمنی سیاسی کارکن کی زبانی

?️ 3 مارچ 2024سچ خبریں: یمن کے ایک سیاسی کارکن نے اقتصادی میدانوں میں اس

یحیی سنوار کے پوسٹ مارٹم سے کیا معلوم ہوا؟:صیہونی میڈیا کی رپورٹ

?️ 4 نومبر 2024سچ خبریں:تل ابیب نے حماس پر انسانی امداد ضبط کرنے کا الزام

عبرانی میڈیا: اسرائیل کی ہزاروں زخمی اور ذہنی طور پر تباہ شدہ فوجیوں کے ساتھ جنگ ​​ابھی شروع ہوئی ہے

?️ 16 دسمبر 2025سچ خبریں: ایک عبرانی زبان کے ذرائع ابلاغ نے جنگ کے بعد

کرم تنازعہ کے حل کیلئے مشران نے معاہدے پر دستخط کردیئے

?️ 28 دسمبر 2024پشاور: (سچ خبریں) صوبہ خیبرپختونخواہ کے علاقہ پاراچنار میں کرم تنازعہ کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے