?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے اپنے تمام اختیارات چیئرپرسن کو سونپنے کے اہم فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے میڈیا واچ ڈاگ کو اس سلسلے میں باقاعدہ قواعد وضع کرنے کی ہدایت کردی۔
یہ فیصلہ نجی نیوز چینل نیو ٹی وی کی جانب سے دائر کی گئی اپیل سے متعلق ہے جس میں پیمرا کی جانب سے اس پر عائد کردہ 5 لاکھ روپے کے جرمانے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
اپنے تاریخی فیصلے میں جسٹس سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پیمرا کے 2007 کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس میں اس کے تمام اختیارات چیئرپرسن کو سونپے گئے تھے۔
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹس (سی او سی) میں درج کی گئی شکایت میں نیو ٹی وی پر مارچ 2021 میں نشر ہونے والے پروگرام کے دوران الیکٹرانک میڈیا (پروگرامز اور اشتہارات) کوڈ آف کنڈکٹ، 2015 کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا۔
اگلے ماہ ہونے والی میٹنگ میں سی او سی نے پروگرام کے مواد کو خلاف قانون پایا اور جرمانے کی تجویز دی جسے چیئرپرسن پیمرا نے 29 اپریل کو منظور کیا، بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے پیمرا کے حکم کے خلاف اپیل خارج کر دی۔
قانونی چیلنج کو آگے بڑھاتے ہوئے بیرسٹر افضل حسین نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کرتے ہوئے کہا کہ چیئرپرسن پیمرا سی او سی کی سفارشات پر تن تنہا حتمی فیصلہ نہیں کر سکتے جب کہ اس حوالے سے رولز موجود نہیں ہیں۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ جون 2023 میں محفوظ کیا گیا تھا، تفصیلی فیصلہ جمعہ کو عدالت کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا گیا۔
پیمرا ممبران میں چھ سابق ممبران جن میں چیئرپرسن پیمرا، اس کے ایگزیکٹو ممبر، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سربراہان، سیکریٹری داخلہ، انفارمیشن سیکرٹریز اور چاروں صوبوں سے پانچ آزاد ممبران اور ایک وفاقی حکومت سے نمائندہ شامل ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ پیمرا نے اپنی مورخہ 31.07.2007 کی میٹنگ میں اپنے اختیارات چیئرمین پیمرا کو دے دیے اور سب کچھ چیئرمین پیمرا کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا تھا۔
اس میں کہا گیا ہے کہ عوامی ادارے جن میں صوابدیدی اختیار ہوتا ہے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قواعد و ضوابط اور صوابدید کے درمیان بہترین توازن قائم کرنے کے لیے اہم معیارات کے نفاذ کے ذریعے اس اختیار کو محدود اور تشکیل دیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ قانون کے تحت سی او سی کو بھی الیکٹرانک میڈیا پروگراموں کے کسی بھی پہلو کے خلاف عوامی شکایات کو دور کرنے کے لیے فیصلہ کن اور سفارشی کردار حاصل ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی او سی کو اختیار ہے کہ وہ لائسنس یافتہ کو طلب کرے ، ایسی شکایات پر رائے دے اور کسی خلاف ورزی کی صورت میں وہ سرزنش یا جرمانے کی مناسب کارروائی کی پیمرا کو سفارش کر سکتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی او سی کی سفارشات کی بنیاد پر جرمانے عائد کرنے کا اختیار پیمرا کا ہے۔


مشہور خبریں۔
ملک بھر میں نومبر کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں 34 فیصد اضافہ ریکارڈ
?️ 3 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں 2
دسمبر
عراق سے امریکی فوجی انخلا کے بارے میں امریکی صدر اور عراقی وزیر اعظم کا مشترکہ بیان
?️ 28 جولائی 2021سچ خبریں:امریکی صدر اور عراقی وزیر اعظم نے اپنی ملاقات کے اختتام
جولائی
ایرانی تنصیبات پر تصدیق سے متعلق IAEA کی جانبدارانہ رپورٹ
?️ 3 ستمبر 2026سچ خبریں: بین الاقوامی توانائی اٹامک ایجنسی (آئی اے ای اے) نے
ستمبر
بلاول کل ناسمجھی میں گفتگو کررہے تھے: وزیر خارجہ
?️ 1 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بلاول
جولائی
یورپ کی کالی اندھیری راتیں پولیٹکیو اور اشپگل کی نظر میں،جرمنی اور فرانس تباہی کے دہانے پر
?️ 18 جنوری 2023سچ خبریں:خبروں اور تجزیاتی ذرائع نے کہا ہے کہ یوکرین میں جنگ
جنوری
فلسطینی پناہ گزینوں کے خیمے صیہونی درندگی کا شکار
?️ 1 دسمبر 2024سچ خبریں:صہیونی حکومت کے جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی میں اپنی
دسمبر
بھارتی پولیس تازہ کارروائیوں میں سوشل میڈیا صارفین کو نشانہ بنارہی ہے
?️ 21 ستمبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں
ستمبر
پی ٹی آئی کے ساتھ ایجنسیز کے سلوک اور ملکی حالات کے بارے میں عمر ایوب کا بیان
?️ 23 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب نے کہا
جولائی