سانحہ مری کی انکوائری کمیٹی سے متعلق انکشاف ہوا ہے

?️

اسلام آباد (سچ خبریں) سانحہ مری کی انکوائری کمیٹی سے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ اس کمیٹی کو قانون پشت پناہی حاصل نہیں ہے اس حوالے سے قومی اخبار روزنامہ جنگ میں شائع رپورٹ میں سینئیر صحافی انصار عباسی نے بتایا کہ سانحۂ مری کی تحقیقات کیلئے پنجاب ٹریبونل آف انکوائریز کے تحت کوئی کمیشن قائم کرنے کی بجائے صوبائی حکومت نے انتظامی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جسے کوئی قانونی سہارا حاصل نہیں ہے اور یہ صرف فیکٹ فائنڈنگ (حقائق تلاش کرنے والی) کمیٹی ہے۔

سرکاری ذرائع کو صوبائی حکومت کی جانب سے انکوائری کمیٹی یا کمیشن بنانے کی بجائے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کے اس فیصلے میں سنگین خامی نظر آئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ انکوائری کمیٹی پنجاب ٹریبونل آف انکوائری کے قانون کی بجائے انتظامی آرڈر کے تحت تشکیل دی گئی ہے لہٰذا اس کی قانونی حیثیت نہیں ہوگی اور قانوناً اس کے پاس شواہد اکٹھا کرنے، گواہوں کو طلب کرنے، ریکارڈ کا جائزہ لینے وغیرہ کا اختیار نہیں ہوگا۔

کمیٹی کے شرائطِ کار میں اسے وفاقی حکام کے ساتھ رابطوں کی اجازت تو دی گئی لیکن یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ قانونی جواز کے بغیر صوبائی حکام کس طرح وفاقی حکام کو طلب کر پائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایسی انکوائری کمیٹی کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، پنجاب حکومت کے ایک سینئر ذریعے نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ یہ بنیادی طور پر ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی ہے جو مری کے سانحے کے حوالے سے اپنی ابتدائی رپورٹ پیش کرے گی جس کی بنیاد پر حکومت ڈسپلن اور ایفیشنی رولز کے تحت کارروائی کا آغاز کرے گی۔

انصار عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت میں اہم ترین عہدوں پر کام کا تجربہ رکھنے والے ایک سینئر ذریعے نے بتایا کہ چونکہ 22 اموات ہوئی ہیں اس لئے حکومت کو پنجاب ٹریبونل آف انکوائریز کے تحت ایک کمیشن تشکیل دینا چاہئیے تھا۔ قانوناً تشکیل دیا جانے والا یہ کمیشن عموماً اس وقت قائم کیا جاتا ہے جب انسانی جانوں یا جائیداد املاک کا کوئی بڑا نقصان ہوا ہو جس کی تحقیقات مقصود ہوں۔

سانحہ مری پر تشکیل دی جانے والی اس انتظامی کمیٹی کو قانونی حمایت حاصل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو طلب کرکے گواہوں کو بیان ریکارڈ کر سکے، نہ ہی کمیٹی کے پاس یہ مینڈیٹ نہیں کہ وہ گورننس کے معاملات پر بحث کر سکے جو لاہور سے جڑے ہیں یا پھر موجودہ وزیراعلیٰ آفس کے کام کاج کا سابقہ وزیراعلیٰ آفس کے کام کاج سے تقابل کرکے دیکھ سکے۔

مشہور خبریں۔

صیہونیوں کو اسرائیل کے مستقبل کے لیے 3 بڑے خطرات کی فکر

?️ 14 مارچ 2024سچ خبریں: یش عتید پارٹی کے موجودہ رکن یعقوب پاری نے عبرانی

ریاست نے بلوچ مظاہرین کے ساتھ اچھا نہیں کیا، سیکریٹری این سی ایچ آر

?️ 29 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے سیکریٹری ملک

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 7 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی کمی

?️ 19 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) غیرملکی قرض کی ادائیگی کی وجہ سے اسٹیٹ بینک

آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح پر سپریم کورٹ کا ماضی کے فیصلوں سے انحراف

?️ 1 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 (ون)(ایف) کی تشریح سے

طاقت کا غلط استعمال،لاکھوں افراد کا قتل عام

?️ 2 مارچ 2022سچ خبریں:امریکہ اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے متعدد ممالک پر

کولمبیا کے صدر: تمام اسرائیلی سفارت کاروں کو فوری طور پر ملک چھوڑ دینا چاہیے

?️ 2 اکتوبر 2025سچ خبریں: کولمبیا کے صدر نے کابینہ کے اجلاس میں اسرائیل کے

غزہ دنیا کی بدترین جیل میں تبدیل ہوچکا ، 58اسلامی ممالک کے حکمران خاموش تماشا دیکھ رہے ہیں‘سراج الحق

?️ 17 مارچ 2024لاہور: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ

افغانستان میں زلزلے سے 1000 سے زائد افراد ہلاک اور 1500 زخمی

?️ 22 جون 2022سچ خبریں:     طالبان کے نائب وزیر برائے قدرتی آفات شرف الدین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے