حکومت کا سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننے سے انکار، قانونی آپشنز پر غور

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومتی اتحاد نے واضح طور پر سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا جس میں پنجاب میں انتخابات کے لیے 14 مئی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس کے دوران سپریم کورٹ کے فیصلے کو واضح طور پر مسترد کر دیا گیا۔

ساتھ ہی سپریم ایگزیکٹو باڈی نے اپنی قانونی ٹیم کو عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کو واپس لینے کے طریقے تلاش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

کابینہ اجلاس کے بعد اس ضمن میں قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ وزیر اعظم نے مجھے اور اٹارنی جنرل کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر قانونی رائے دینے کی ہدایت کی ہے جس نے ملک کے عدالتی نظام کی نفی کردی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے فیصلہ ملک میں آئینی اور سیاسی بحران کو مزید گہرا کرے گا۔

وزیر قانون نے مزید کہا کہ ہمیں فیصلے پر تحفظات ہیں اور ہماری قانونی ٹیم مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت ملک بھر میں بیک وقت آزادانہ اور منصفانہ انتخابات چاہتی ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 224 کے مطابق ملک بھر میں عام انتخابات ایک ہی وقت میں ہونے چاہئیں جب کہ آرٹیکل 254 کے مطابق کسی غیر معمولی صورتحال کی وجہ سے انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں۔

سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ اس ایوان نے استدعا کی تھی کہ عدل کے ایوان میں تقسیم ہے اس لیے اس معاملے کو فل کورٹ میں لے جایا جائے، انا اورضد کا معاملہ نہ بنایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ مگر افسوس کے ایسا نہ کیا گیا، سیاسی جماعتوں کے وکلا کو فریق نہیں بنایا گیا، اٹارنی جنرل نے بھی ساری باتیں یبنچ کے سامنے رکھیں اوراپیل کی کہ معاملہ فل کورٹ میں بھیجا جائے یا ان ججز کوبھیجا جائے جواب تک کسی بینچ کاحصہ نہیں بنے ہیں۔

وزیر قانون نے کہا کہ تین رکنی بینچ نے ان اپیلوں کونظرانداز کرتے ہوئے خود ہی شیڈول جاری کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ازخود نوٹس سے متعلق درخواست پر فیصلہ سنایا کہ ازخودنوٹس کے تحت سماعتیں فل کورٹ میٹنگ کے بعد ہی ہوں گی، اس عدالتی فیصلے کوانتظامی سرکلر کے ذریعہ ختم کردیا گیا اور 6 رکنی بینچ بنایا گیا جس نے ایک گھنٹہ کے بعد تین رکنی بینچ کے ایک اور فیصلے کو ختم کردیا۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھاکہ ایک جانب کہا گیا کہ اس فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور دوسری جانب اس کے لیے 6 رکنی بینچ بنا دیا گیا، کیا اس طرح کی عجلت سے ملک، آئین اور قانون کو استحکام ملے گا؟

انہوں نے کہا کہ ایسے آئین اور قانونی مقدمات جو قوم کی تقدیر سے جڑے ہوتے ہیں انہیں تحمل سے سب کواکھٹا بٹھا کر سنا جاتا ہے، انا، ادارہ جاتی تسلط کو نہیں دیکھا جاتا۔

وزیر قانون نے کہا کہ ہم آئینی اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، ادارے کے اندر سے آواز آئی ہے کہ ون مین شو چل رہاہے، اکثریتی فیصلے کو اقلیتی فیصلے سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا، آرٹیکل 184 کے حوالے سے فیصلے پر جو طرز عمل اپنایا گیا وہ درست نہیں۔

مشہور خبریں۔

نصراللہ کی شہادت کے بعد حزب اللہ کی جیت کا کارڈ

?️ 25 فروری 2025 سچ خبریں: سید حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد حزب اللہ

امریکہ غزہ میں اسرائیل کے جرائم میں شریک ہے۔ ہمیں غزہ میں داخل ہونا چاہیے

?️ 7 ستمبر 2025سچ خبریں: "صمود” بین الاقوامی یکجہتی بیڑے کے ایک امریکی رکن نے

سال 2023 میں پاکستان سیاحت کیلئے بہترین ملک قرار

?️ 30 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اقوام متحدہ کے عالمی سیاحتی ادارے نے پاکستان

انٹیلیجنس ادارے کچھ کرتے ہیں تو اس کے ذمہ دار وزیر اعظم، کابینہ ہے، جسٹس اطہر من اللہ

?️ 30 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے عدلیہ

عالمی برادری فلسطینی شہریوں کو اسرائیلی مظالم سے بچانے کیلیے فیصلہ کن اقدام کرے، ترجمان وزارت خارجہ

?️ 18 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور

جو اپنی غلطی تسلیم نہ کرے وہ لیڈر ہی نہیں،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

?️ 25 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا

مزاحمت دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گی : لبنان کے سابق وزیر خارجہ

?️ 9 ستمبر 2025سچ خبریں: لبنان امریکی اور صیہونی کوششوں کے باوجود کہ مقاومت کو خلع

وزیر داخلہ کی سعودی سفیر سے ملاقات، پاک-بھارت کشیدگی میں موثر کردار پر اظہار تشکر

?️ 30 اگست 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے