?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ برطانیہ نے باضابطہ طور پر پاکستان کو انتہائی خطرات کے حامل ممالک کی فہرست سے نکال دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اچھی خبر ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ایکشن پلان کی جلد تکمیل پر برطانیہ نے پاکستان کو ہائی رسک تھرڈ ممالک (انتہائی خطرات کے حامل) کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق 11 اپریل 2021 کو برطانیہ نے اپنے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت (ترمیمی) کے حوالے سے خطرناک ترین ممالک کے ضابطے 2021 کے تحت پاکستان کو شیڈول 3 زیڈ اے میں شامل(انتہائی خطرات کے حامل) 21 ممالک کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
اپریل 2021 میں اس وقت کے ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا تھا کہ برطانیہ کا پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کے حوالے سے شدید خطرات کا شکار ممالک کی فہرست کا حصہ بنانے کا فیصلہ حقائق پر مبنی نہیں ہے۔
زاہد حفیظ چوہدری نے امید ظاہر کی تھی کہ برطانیہ زمینی حقائق کی روشنی میں اپنے قواعد و ضوابط کا جائزہ لے گا اور سیاسی بنیادوں پر اٹھائے گئے اس طرح کے غلط اقدامات سے باز رہے گا۔
خیال رہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے ہونے والی فنڈنگ پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے 21 اکتوبر 2022 کو پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کردیا تھا۔
ایف اے ٹی ایف کے صدر ٹی راجا کمار نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پاکستان 2018 سے گرے لسٹ میں تھا, اس وقت دو ایکشن پلان تھے، پاکستانی حکام بڑی جدوجہد کے بعد تمام ایکشن پلان پر بڑی حد تک عمل درآمد کرچکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کا اس پیش رفت پر خیرمقدم کرتا ہے۔
ٹی راجا کمار نے کہا تھا کہ پاکستان اب منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کے خلاف مؤثر کام کر رہا ہے، ٹاسک فورس نے اگست کے اختتام پر ایک دورہ کیا، ٹیم نے تصدیق کی کہ پاکستانی قیادت میں اصلاحات میں پائیداری اور مستقبل میں بہتری کے لیے اعلیٰ سطح کا عزم پایا جاتا ہے۔
ایف اے ٹی ایف کے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کے انسداد کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں اور اسٹریٹجک خامیوں کے خاتمے کے لیے دیے گئے یکشن پلان پر کام کیا، جس کی نشان دہی ایف اے ٹی ایف نے جون 2018 اور جون 2021 میں کیا تھا۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے ایک ایکشن پلان بھی پہلے ہی عمل درآمدہوا تھا اور اب تمام 34 ایکشن پلان مکمل ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ یہ اصلاحات ملک اور خطے کے استحکام اور سلامتی کے لیے اچھے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہیں مزید کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔


مشہور خبریں۔
632000 یمنی بچوں کی زندگی خطرے میں
?️ 10 ستمبر 2022سچ خبریں:یمن کی انسانی حقوق کی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ
ستمبر
صہیونی حماس کے رہنماؤں کو قتل کرنے اور قیدیوں کو بچانے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
?️ 29 مارچ 2024سچ خبریں: صہیونی فوج کے بعض ذرائع نے اعتراف کیا کہ اس
مارچ
بحران میں ڈوبی ہوئی موساد
?️ 24 مارچ 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت اور اس کی خصوصی انٹیلی جنس نیز آپریشنز تنظیم
مارچ
صیہونی آباد کاروں کو 17 ہزار ہتھیاروں کے لائسنس دئیے گئے
?️ 4 فروری 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی ویب سائٹ 0404 نے لکھا ہے کہ فلسطینیوں
فروری
حزب اللہ: دشمن کا جرم ہمارے مزاحمت کے عزم کو مزید بڑھاتا ہے
?️ 8 اپریل 2026 سچ خبریں: لبنان کی حزب اللہ تحریک نے صیہونی حکومت کے
اپریل
وزیراعظم عمران خان آج تاجک صدر سے ملاقات کریں گے
?️ 17 ستمبر 2021دوشنبے (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان آج تاجکستان کے صدر امام علی
ستمبر
پاکستان کا تخلیقی شعبہ بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔ احسن اقبال
?️ 28 جولائی 2025کراچی (سچ خبریں) وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی جانب
جولائی
یورپی میڈیا کی نظر میں اسلام آباد مذاکرات امریکی وفد کی صورتحال
?️ 12 اپریل 2026سچ خبریں:یورپی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ایران اور
اپریل