?️
اسلام آباد: (سچ خبریں)الیکشن کمیشن آف پاکستان کا دعویٰ تھا کہ انٹرنیٹ پر انحصار کیے بغیر نتائج کا بروقت اعلان یقینی بنایا جائے گا لیکن گزشتہ روز انٹرنیٹ کی بندش کے سبب خاص طور پر پریزائیڈنگ افسران کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔
گزشتہ شب پریزائیڈنگ افسران مقامی طور پر تیار کردہ الیکشن مینجمنٹ سسٹم (ای ایم ایس) کا استعمال کرتے ہوئے اپنے متعلقہ اسٹیشنز کے حتمی نتائج کی ترسیل سے قاصر نظر آئے، نتیجتاً رات گئے تک الیکشن کمیشن کی جانب سے صرف چند ہی نتائج کا اعلان کیا جاسکا۔
شام تک الیکشن کمیشن اپنے اس دعوے سے کسی حد تک پیچھے ہٹ چکا تھا جب الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار نے کہا کہ پریزائیڈنگ افسران اب اپنے پولنگ اسٹیشنز کے نتائج بذات خود دینے کے لیے اپنے متعلقہ ریٹرننگ افسران کے دفاتر جائیں گے جہاں’انٹرنیٹ سروس بحال ہونے کے بعد’ نتائج سسٹم کے ذریعے منتقل کیے جائیں گے۔
سینیئر صحافی ایم بی سومرو نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن میں قائم میڈیا سیل میں مقامی اور غیر ملکی صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جو نتائج کے منتظر تھے، چیف الیکشن کمشنر، سیکرٹری اور تمام اراکین الیکشن کمیشن اپنے دفاتر میں موجود تھے۔
چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے ایک پریس کانفرنس کیے جانے کی توقع تھی لیکن اس کے برعکس اسپیشل سیکرٹری ظفر اقبال نے رات 3 بجے کے قریب پاکستان ٹیلیویژن (پی ٹی وی) پر خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے پہلے سرکاری نتائج کا اعلان کیا۔
مختصر اعلان کے دوران انہوں نے نتائج مرتب اور اعلان میں تاخیر کے لیے انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز کی معطلی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
ایم بی سومرو کے مطابق الیکشن کمیشن نے واضح کیا تھا کہ ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے کوئی بھی نتائج کی ان کی طرف سے تصدیق نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وہ 2 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے الیکشن کور کر رہے ہیں اور کبھی ایسی صورتحال نہیں دیکھی، انہوں نے کہا کہ ایسا 2018 میں بھی نہیں ہوا جب انتخابات ’آر ٹی ایس تنازع‘ کے سبب متاثر ہوئے تھے۔
دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد میں این اے 47 اور این اے 48 کے لیے آر اوز کے دفاتر کے باہر اس وقت بےنظمی دیکھنے میں آئی جب رات گئے متعدد پولنگ اسٹیشنز کے پریزائیڈنگ افسران انتخابی نتائج اور مواد جمع کرانے وہاں پہنچے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اہلکاروں اور پریزائیڈنگ افسران کے درمیان جھگڑا ہوا اور پریزائیڈنگ افسران کو اپنی گاڑیوں کے اندر انتظار کرنے کو کہا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ گاڑیوں کی لمبی قطار کی وجہ سے پریزائیڈنگ افسران انتخابی نتائج جمع نہیں کروا سکے جو پہلے ہی فون اور انٹرنیٹ سروس کی معطلی کے باعث ای ایم ایس کے ذریعے بھی نتائج بھیجنے سے قاصر تھے۔
قبل ازیں الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوشن) ہارون خان شنواری نے دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن انتخابی نتائج کے بروقت اعلان کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں سے آنے والے نتائج میں مزید وقت لگ سکتا ہے لیکن شہروں سے آنے والے نتائج جمعرات (8 فروری) کی رات تک فائنل کر لیے جائیں گے۔
اانہوں نے ’پی ٹی وی نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ انتخابی نتائج کے لیے تیار کیا گیا الیکشن مینجمنٹ سسٹم انٹرنیٹ پر انحصار نہیں کرتا، انٹرنیٹ کی بندش انتخابی نتائج کے عمل کو متاثر نہیں کرے گی۔
انہوں نے وضاحت کی تھی کہ ووٹوں کی گنتی، فارم پر ڈیٹا انٹری اور رزلٹ جمع کرانے کے عمل کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ آڑے نہ آئے، ریٹرننگ افسران ’ای ایم ایس‘ کے ذریعے آف لائن بھی نتائج جمع کرواسکیں گے۔
پولنگ شروع ہوتے ہی صبح سویرے موبائل سروس کی معطلی ان لوگوں کے لیے درد سر بن گئی جو اپنے پولنگ اسٹیشنز کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے 8300 ایس ایم ایس سروس استعمال کرنا چاہتے تھے۔
تازہ پابندیوں نے یہ سوالات بھی پیدا کیے کہ پریزائیڈنگ افسران اپنے متعلقہ پولنگ اسٹیشنز کے انتخابی نتائج متنازع ’الیکشن مینجمنٹ سسٹم‘ کا استعمال کرتے ہوئے کیسے منتقل کریں گے؟
وہ ماہرین جو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دعوے پر پہلے ہی شکوک و شبہات کا شکار تھے، ان کا کہنا تھا کہ وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔
ٹیلی کام ایکسپرٹ انصار الحق نے کہا کہ جدید ڈیجیٹل دور میں یہ دعویٰ پہلے ہی کوئی قابل عمل حل نہیں لگ رہا تھا کہ پریذائیڈنگ افسران انتخابی نتائج آف لائن منتقل کریں گے، دوسرا یہ کہ براہ راست رابطے کے بغیر ایسا کرنا اس عمل کی تصدیق اور شفافیت میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے جوکہ عالمی سطح پر انتخابی عمل پر اعتماد کے لیے بہت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش انتخابات کی شفافیت پر پردہ ڈال سکتی ہے، جس سے انتخابی عمل پر عوامی اور بین الاقوامی سطح پر خدشات پیدا ہوتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
محسن نقوی کی علی امین گنڈا پور سے ملاقات، صوبے میں قیام امن کیلئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی
?️ 20 دسمبر 2024پشاور: (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی
دسمبر
سانحہ مری: عثمان بزدار کسی ایک اجلاس میں بھی شریک نہیں ہوئے
?️ 12 جنوری 2022لاہور (سچ خبریں) مری میں برفباری کے سیزن اور موسم کی پیشگوئی
جنوری
نواز شریف، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی توشہ خانہ کیس ایف آئی اے کو بھجوانے کی استدعا مسترد
?️ 12 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام اباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم
دسمبر
الجولانی حکومت کا مشہور صیہونی جاسوس کی باقیات واپس کرنے کا اعلان
?️ 21 مئی 2025 سچ خبریں:الجولانی حکومت نے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر
مئی
پاک ترک دفاعی تعاون
?️ 26 جنوری 2021برادر مسلم ملکوں پاکستان اور ترکی کے درمیان بیشتر علاقائی اور بین
جنوری
جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کا قیام کیسے ہو سکتا ہے؟
?️ 19 اگست 2023سچ خبریں: تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری
اگست
وزیر خارجہ نے افغان مشیر قومی سلامتی کے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ اور تکلیف دہ قرار دیا
?️ 4 جون 2021اسلام آباد( سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان مشیر
جون
نیتن یاہو کا بائیڈن کے بارے میں صیہونی کابینہ کو مشورہ
?️ 30 مارچ 2023سچ خبریں:نیتن یاہو نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ تل ابیب-واشنگٹن اتحاد
مارچ