اسٹیٹ بینک نے قرضوں کی ادائیگی اور زرمبادلہ میں اضافے کیلئے 3.8 ارب ڈالر خرید لیے

?️

کراچی: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے اور کچھ غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں بینکوں سے تقریباً 3.8 ارب ڈالر خریدے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بینکروں کا کہنا ہے کہ غیر متوقع طور پر زیادہ ترسیلات زر نے انٹر بینک مارکیٹ میں کافی لیکویڈیٹی فراہم کی ہے، جس کے باعث مرکزی بینک کو ڈالر خریدنے کی ترغیب ملی۔

عارف حبیب لمیٹڈ کے سربراہ برائے ریسرچ اینڈ انویسٹمنٹ اسٹریٹجی طاہر عباس نے کہا کہ جون اور اکتوبر 2024 کے درمیان اسٹیٹ بینک کا خالص زرمبادلہ 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

تاریخی طور پر اسٹیٹ بینک بینکنگ مارکیٹ سے ڈالر خریدتا ہے تاکہ خاطر خواہ ذخائر برقرار رہیں اور شرح تبادلہ کو مستحکم کیا جا سکے، تاہم منی مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عرصے کے دوران ملکی قرضوں کے مقابلے میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالر کی خریداری بہت زیادہ تھی۔

ستمبر 2024 کے اختتام پر پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 37 ماہ کی 7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت کے تحت 1.03 ارب ڈالر کی پہلی قسط موصول ہوئی، جبکہ اسٹیٹ بینک نے جون تا اکتوبر 2024 میں مقامی کرنسی مارکیٹ سے 3.8 ارب ڈالر خریدے۔

انہوں نے کہا کہ اس تزویراتی اقدام کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 2.1 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا جبکہ باقی 1.7 ارب ڈالر ملکی قرضوں کی ادائیگیوں کے انتظام کے لیے مختص کیے گئے۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر نے حال ہی میں کہا تھا کہ زیادہ تر قرضے پہلے ہی ادا کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی رولڈ اوور کر دیے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025 کی دوسری ششماہی میں تقریباً 5 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی۔

بینکرز کا خیال ہے کہ اگر ترسیلات زر میں اضافہ جاری رہا تو اسٹیٹ بینک آسانی سے انٹر بینک مارکیٹ سے مزید 5 ارب ڈالر خرید سکتا ہے، مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ترسیلات زر 33 فیصد اضافے کے ساتھ 17 ارب 80 کروڑ ڈالر رہیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حال ہی میں کہا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ مالی سال 2025 میں ترسیلات زر 35 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی، اس بڑے اضافے سے اسٹیٹ بینک کو بینکنگ مارکیٹ سے مزید ڈالر خریدنے اور ایکسچینج ریٹ کو مضبوط کرنے کا موقع ملے گا جو ایک سال سے زیادہ عرصے سے مستحکم ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک بڑی کشش ہے، تاہم سیاسی غیر یقینی کی صورتحال اب بھی ایک رکاوٹ ہے۔

بینکروں کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالر کی خریداری سے شرح تبادلہ پر کوئی اثر نہیں پڑا اور نہ ہی اس سے کوئی قلت پیدا ہوگی۔

دسمبر 2024 میں درآمدات میں اضافہ ہوا تاہم بینکر کا کہنا تھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر اور کرنٹ اکاؤنٹ کے تحفظ کے لیے تجارتی خسارہ ہدف کے اندر ہی رہے گا، کرنٹ اکاؤنٹ 1.2 ارب ڈالر پر مثبت ہے جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025 کے اختتام تک کرنٹ اکاؤنٹ نصف فیصد مثبت یا منفی ہوسکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار

?️ 12 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی

اسرائیلی اداکارہ کے بیان پرمعروف اداکار گوہر رشید کا شدید رد عمل

?️ 17 مئی 2021کراچی (سچ خبریں) معروف پاکستانی اداکار گوہر رشید نےاسرائیلی نژاد ہالی ووڈ

امریکہ کا 90 دنوں میں غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کا مقصد

?️ 14 جنوری 2024سچ خبریں:معاریو اخبار نے اعلان کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ایک

بائیڈن ایک بار پھر سعودی عرب کے لیے اپنی لائن پیچھے ہٹے

?️ 6 جنوری 2023سچ خبریں:        جرنل وال سٹریٹ نے خبر دی ہے

ایران نے میدانِ جنگ میں امریکہ کو حیران کر دیا؛مغربی میڈیا کا اعتراف

?️ 14 مارچ 2026سچ خبریں:مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران نے میدانِ جنگ میں امریکہ

اداروں کےخلاف پروپیگنڈے کا کیس: عمران خان کی 26 اپریل تک عبوری ضمانت منظور

?️ 14 اپریل 2023لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے سے

سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد، حکمران اتحاد کا ہر فورم پر مزاحمت کا عزم

?️ 6 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) حکمران اتحاد نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے