?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے خلاف ماتحت عدالت میں زیر سماعت توشہ خانہ کیس میں فوجداری کارروائی پر حکم امتناع جاری کردیا۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ کیس، دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی۔
خیال رہے کہ دورانِ گرفتاری 10 مئی کو پولیس لائنز میں قائم عدالت میں سابق وزیراعظم پر توشہ خانہ کیس میں فردِ جرم عائد کردی گئی تھی۔ آج سماعت کے لیے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا یہ ایک عدالت سے دوسری میں منتقلی کا کیس ہے، وکیل خواجہ حارث نے بتایا کہ جی عدالتی منتقلی کا کیس ہے اور ایک درخواست کیس کے قابل سماعت ہونے کے خلاف ہے۔
وکیل نے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے قانون کے مطابق شکایت عدالت کو نہیں بھیجی، الیکشن کمیشن نے کسی کو اتھارٹی نہیں دی کمپلینٹ بھیجنے کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ درخواست دائر کرنے کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جس کے گزر جانے کے بعد شکایت نہیں بھیجی جاسکتی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اب ہم ہائی کورٹ کی نئی عمارت میں منتقل ہوں گے، ہمارے آدھی چیزیں یہاں پر موجود نہیں ہیں، آج ہمارے ہاتھ ہمارے پاس نہیں ہیں۔
خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کا نام بھی لکھا ہے، ابھی کنفرم نہیں کہ یہ کون ہے اس پر ہم ابھی نہیں جانا چاہتے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی ہم صرف ضمانت کیسز میں رہے ہیں، ساتھ ہی استفسار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے اعتراض پر کیا کہا ہے؟
خواجہ حارث نے بتایا کہ جج صاحب نے کہہ دیا کہ ہم شواہد کے دوران دیکھیں گے۔ خواجہ حارث نے مزید کہا کہ درخواست 120 دن کے اندر دائر کرنی ہوتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی چیز غلط ہے تو 120 دن کے اندر درخواست دے سکتے ہیں؟ ساتھ ہی دریافت کیا کہ ٹرائل کورٹ نے یعنی کوئی فائنڈنگز نہیں دیں؟
خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ جی ٹرائل کورٹ نے کوئی فائنڈنگز نہیں دیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ کوئی ڈسپیوٹڈ فیکٹ نہیں ہے۔
وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ حقائق بہت واضح ہیں الیکشن کمیشن نے باضابطہ کمپلینٹ کی منظوری نہیں دی، اس معاملے کو شواہد کی ریکارڈنگ تک مؤخر کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔
خواجہ حارث کا مزید دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے کہا کہ شہادتیں ریکارڈ کرتے وقت اعتراضات کو دیکھیں گے، یہ کیس قابل سماعت ہی نہیں تو شہادتیں ریکارڈ کرتے وقت کیسے دیکھ سکتے ہیں۔
بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے توشہ خانہ کیس ناقابل سماعت قرار دینے کی اپیل پر نوٹس جاری کردیے۔
ساتھ ہی عدالت نے سیشن کورٹ میں زیر سماعت توشہ خانہ کیس میں فوجداری کارروائی پر حکم امتناع دے دیا۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ سنانے کے بعد کے ان کے خلاف فوجداری کارروائی کا ریفرنس عدالت کو بھیج دیا تھا، جس میں عدم پیشی کے باعث ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے۔
گزشتہ برس اگست میں حکمراں اتحاد کے 5 ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے توشہ خانہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔
ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔
آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا تھا کہ 62 (ون) (ایف) کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے اور سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں۔
عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جواب کے مطابق یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔
بتایا گیا کہ یہ تحائف زیادہ تر پھولوں کے گلدان، میز پوش، آرائشی سامان، دیوار کی آرائش کا سامان، چھوٹے قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم، پیپر ویٹ اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔
جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادا کر کے خریدا۔
اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 4 تحائف فروخت کیے تھے۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سرکاری خزانے سے تحائف کی فروخت سے تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے، ان تحائف میں ایک گھڑی، کفلنگز، ایک مہنگا قلم اور ایک انگوٹھی شامل تھی جبکہ دیگر 3 تحائف میں 4 رولیکس گھڑیاں شامل تھیں۔
چنانچہ 21 اکتوبر 2022 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف دائر کردہ توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے عمران خان کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 کی شق ’ایک‘ کی ذیلی شق ’پی‘ کے تحت نااہل کیا جبکہ آئین کے مذکورہ آرٹیکل کے تحت ان کی نااہلی کی مدت موجودہ اسمبلی کے اختتام تک برقرار رہے گی۔
فیصلے کے تحت عمران خان کو قومی اسمبلی سے ڈی سیٹ بھی کردیا گیا تھا۔


مشہور خبریں۔
امریکی کانگریس کی عمارت فضائی خطرے کے باعث خالی
?️ 21 اپریل 2022سچ خبریں: امریکی میڈیا نے جمعرات کی صبح اطلاع دی ہے کہ
اپریل
مغرب ہمیں بغیر کسی شرط کے ایف 35 دے: ترکی
?️ 24 مارچ 2022سچ خبریں: آنکارا حکومت کا کہنا ہے کہ مغرب کو ترکی کو
مارچ
وزیر اعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اہم پیغام دیا
?️ 7 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق حکومت نے سمندر پار پاکستانیوں
ستمبر
نتن یاہو کا غزہ امن کونسل میں شمولیت کا اعلان
?️ 13 فروری 2026 سچ خبریں: نیتن یاہو کی غزہ امن کونسل میں شمولیت پر
فروری
شہباز گل کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
?️ 22 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے
اگست
پنجاب میں ایچ پی وی ویکسین کی مہم میں 3 روز کا اضافہ کردیا گیا، وزیر صحت
?️ 29 ستمبر 2025لاہور: (سچ خبریں) پنجاب کے وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے کہا
ستمبر
2025 تبدیلی کا سال، ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان مرکزی ستون قرار
?️ 22 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) معروف امریکی جریدے واشنگٹن ٹائمز کے آرٹیکل میں
دسمبر
انتخابات التوا کیس: عدالت ہی الیکشن کی تاریخ آگے بڑھا سکتی ہے، چیف جسٹس
?️ 3 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پنجاب، خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی ہونے کے خلاف پاکستان
اپریل