اسلام آباد ہائیکورٹ کے نوٹس پر سینیٹ میں شدید ہنگامہ، اٹارنی جنرل کو طلب کرنے کا مطالبہ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے سینیٹ کمیٹیوں کی کارروائی پر نوٹسز کا معاملہ ایوان میں شدید ہنگامے کا باعث بنا، ارکان نے عدالتی مداخلت کو پارلیمانی خودمختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو فوری طور پر طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔

سینیٹ اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے سینیٹ کمیٹیوں کی کارروائی پر نوٹسز کا معاملہ شدید تنقید کا نشانہ بنا۔

ارکان نے اسے پارلیمنٹ کے اختیارات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو فوری طلب کرنے کا مطالبہ کیا، اجلاس میں نو منتخب ارکان نے حلف اٹھایا، جب کہ ہاؤسنگ، بی آئی ایس پی، اسرائیل کی جارحیت اور ادبی اداروں کی بندش جیسے اہم معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔

اجلاس کا آغاز پریزائیڈنگ افسر عرفان صدیقی کی زیر صدارت ہوا، سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے سینیٹ کمیٹیوں کی کارروائی پر نوٹس لینے کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارلیمانی اختیارات میں مداخلت ہے اور اٹارنی جنرل کو فوری طور پر ایوان میں طلب کیا جائے تاکہ وہ وضاحت دے سکیں۔

اس پر پریزائیڈنگ افسر شہادت اعوان نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کو نوٹس بھجوایا جائے گا، اجلاس میں نو منتخب سینیٹر روبینہ ناز نے حلف اٹھایا۔

وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر ہاؤسنگ ریاض پیرزادہ نے انکشاف کیا کہ اربوں روپے کے فلیٹس تو تعمیر ہو چکے ہیں لیکن پانی کی سہولت موجود نہیں، منصوبہ بندی کی کمی اور بااثر افراد کی مداخلت کے باعث کئی اسکیمیں تاخیر کا شکار ہیں۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایف جی ایچ اے کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر بینک اسٹیٹمنٹس نکالی جائیں تو کئی وزرا کے نام سامنے آئیں گے۔

بی آئی ایس پی کے آڈٹ میکانزم پر بھی سوالات اٹھائے گئے، جن پر وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے وضاحت دی کہ پرانا طریقہ کار ہی جاری ہے۔

سینیٹر ذیشان خانزادہ نے ٹیرف ریفارم پالیسی پر عدم عملدرآمد کو برآمدات میں رکاوٹ قرار دیا، سینیٹر ہمایوں مہمند نے ناقص منصوبہ بندی کو سیدپور اور نجی سوسائٹیز میں حادثات کا سبب قرار دیا۔

سینیٹر پلوشہ خان نے اسرائیل کی مغربی کنارے پر قبضے کی حالیہ قرارداد کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور کہا کہ پاکستان کی خاموشی اس معاملے میں قابل قبول نہیں۔ سینیٹ نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف متفقہ مذمتی قرارداد منظور کی۔

اجلاس میں اکادمی ادبیات اور دیگر علمی اداروں کی ممکنہ بندش پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور حکومت سے ان اداروں کے تحفظ کی فوری اپیل کی گئی۔ اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

مشہور خبریں۔

امریکہ کے پناہ کے متلاشیوں کے خلاف نئے ضوابط نافذ

?️ 22 فروری 2023سچ خبریں:ایجنسی فرانس پریس نے امریکی سرکاری حکام کے حوالے سے بتایا

افغانستان کے لوگ اب واشنگٹن پر اعتماد نہیں کرتے: افغان سفیر

?️ 13 اکتوبر 2021سچ خبریں: امریکہ میں اشرف غنی کے سفیر نے کہا کہ بائیڈن

بائیڈن کا اپنی کم مقبولیت اور زیادہ عمر کے ساتھ مذاق

?️ 1 مئی 2022سچ خبریں:  حالیہ مہینوں میں امریکی صدر جو بائیڈن کی گرتی ہوئی

امریکی وزیر خارجہ کے ایران کے خلاف الزامات پر روس کا ردعمل

?️ 22 جولائی 2026سچ خبریں: روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے امریکی

ایوان صدر کی توانائی کی مد میں 10 کروڑ روپے سے زائد کی بچت

?️ 8 جولائی 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) ایوانِ صدر نے توانائی کی مد میں 2 سال

وینزویلا پر ٹرمپ کی حکمت عملی میں ابہام

?️ 20 نومبر 2025سچ خبریں: امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے کیریبین سمندر میں پیش آنے

پی ٹی آئی پر پابندی سیاسی اور تاریخی غلطی ہوگی، شاہ محمود قریشی

?️ 1 دسمبر 2024لاہور: (سچ خبریں) جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین

عالمی میڈیا کی مشہد میں شہید امام خامنہ ای کی تشییع و تدفین کی براہ راست کوریج

?️ 10 جولائی 2026سچ خبریں: دنیا کے مختلف میڈیا نے ایران کے شہید رہبر امام خامنہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے