?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد میں ڈی چوک پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہوچکی ہے جب کہ پولیس نے پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف مقدمات درج کرکے گرفتاریاں شروع کردیں۔
ڈان نیوز کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاج کرنے پر فیض آباد کے قریب پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں 200 سے زائد افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
صادق آباد پولیس نے انسپکٹر افتخار کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا، کارکنان کے خلاف مقدمہ انسداد دہشتگردی ایکٹ اور سولہ ایم پی او اقدام قتل و دیگردفعات کے تحت درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے پولیس پر پتھراؤ کیا، ملزمان کے پتھراؤ کے باعث موبائل وین کی اسکرین ٹوٹ گئی، قریبی دکانوں کو نقصان پہنچا۔
اسلام آباد پولیس نے سوہان،کری روڈ، اقبال ٹاؤن سے گھروں کو واپس جانے والے شہریوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا جب کہ مری روڈ پر مظاہرہ کرنے والے کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کر لیے۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کا قافلہ رات پتھر گڑھ کے مقام پر گزارنے کے بعد اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے جو ٹیکسلا پہنچ چکا ہے، ڈنڈا بردار اور غلیلوں سے لیس بڑی تعداد میں کارکن بھی قافلے کا حصہ ہیں جب کہ کرینیں، شاول، فائرانجن اور ایمبولینسیں بھی قافلے میں شامل ہیں۔
اسلام آباد کے ڈی چوک پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر جڑواں شہر پابندیوں کی زد میں ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ اور میٹرو بس سروس بھی معطل ہے جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
ڈی چوک پر احتجاج کی کال پر وفاقی دارالحکومت آج دوسرے روز بھی مکمل بند ہے جب کہ جگہ جگہ کنٹینرز اور خاردار تاروں کی باڑ اور دیگر رکاوٹیں قائم ہیں اور موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی شدید متاثر ہے۔
مظاہرین کو شہراقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے اٹک خورد میں شاہراہ بھی مسلسل بند ہے، مسافر اور مال بردارگاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں جب کہ سڑک کی بندش سے ٹرکوں میں موجود سبزی اور پھل خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
اس کے علاوہ اسلام آباد کی جانب آنے والے مسافروں کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، خواتین اور بچوں سمیت مسافروں نے رات سڑک پرگزاری، لاہور سے باجوڑ میت لے جانے والی ایمبولینس بھی پھنس گئی۔
دوسری جانب اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ ہے اور فوج کے دستوں کے علاوہ پولیس، رینجرز اور ایف سی اہلکار بھی تعینات ہیں، دارالحکومت میں پاک فوج کے دستے گشت کر رہے ہیں۔
اسلام آباد میں امن وامان قائم رکھنے کے لیے فوج نے ذمہ داریاں سنبھال لیں، فوجی جوان ڈی چوک پرپہنچ گئے ہیں، فوج 17 اکتوبر تک وفاقی دارالحکومت میں ذمہ داریاں نبھاتی رہے گی۔
فوج کو صورتحال کے مطابق آتشیں اسلحے کے استعمال سمیت انتہائی اقدامات کی اجازت دی گئی ہے اور قانون شکن عناصر کو گرفتار کرنے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔
دوسرے دن بھی چونگی نمبر 26 پر تحریک انصاف کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، پولیس کی جانب سے مظاہرین پر شیلنگ کی جارہی ہے۔


مشہور خبریں۔
ایران کے میزائل حملے پر نیتن یاہو کا پہلا ردعمل
?️ 2 اکتوبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران کے
اکتوبر
کیا طالبان دوحہ اجلاس میں شرکت کرے گا؟
?️ 4 فروری 2024سچ خبریں:طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کابل میں اقوام
فروری
اپوزیشن کے عدم اعتبار کا غبارہ پھٹ چکا ہے:شاہ محمود قریشی
?️ 2 مارچ 2022سکرنڈ (سچ خبریں ) وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نےصحافیوں کے
مارچ
امریکہ ، جنوبی کوریا اور جاپان کا شمالی کوریا کو غیر مسلح کرنے پر اتفاق
?️ 23 ستمبر 2021سچ خبریں:جاپانی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اور ان کے امریکہ
ستمبر
صیہونیوں کے ہاتھوں 2 سالہ فلسطینی بچہ گرفتار
?️ 16 جون 2022سچ خبریں:قابض صیہونی فوج نے جنین کے قریب ایک چوکی پر 2
جون
ملک کب آزاد ہوگا؟ محمود خان اچکزئی کی زبانی
?️ 11 اگست 2024سچ خبریں: پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور اپوزیشن رہنما محمود
اگست
غزہ میں صحافیوں کو بھوک و قتل سے نشانہ بنانا بند کیا جائے: چیک صحافیوں کا کھلا خط
?️ 24 اگست 2025غزہ میں صحافیوں کو بھوک و قتل سے نشانہ بنانا بند کیا
اگست
ایشیائی ترقیاتی بینک کی پاکستان کو مالی معاونت جاری رکھنے کی یقین دہانی
?️ 21 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کےساتھ اسٹاف
مارچ