اس ملک میں آئین کی کوئی حیثیت نہیں، حاکمیت ہمارے ملازمین کی ہے، مولانا فضل الرحمٰن

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس الیکشن میں ہماری اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کی 75سالہ تاریخ کے کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیے، اس ملک آئین کی کوئی حیثیت نہیں، آئین کاغذ کے چند ورقوں کے مجموعے کا نام ہے, یہاں تو حاکمیت اعلیٰ ہماری پارلیمنٹ کی بھی نہیں ہے، ہمارے ملازمین کی حاکمیت ہے، ہم اس نظام کے ساتھ کس طرح چلیں گے۔

جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2018 کے الیکشن کے بعد ہمارا یہ خیال تھا کہ 2024 کا الیکشن منصفانہ اور شفاف ہو گا لیکن ایک بار پھر ہماری خواہش، آرزو، آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے فروغ کو جس طرح کچل دیا گیا ہے تو مجھے اب فکر اس بات کی ہے کہ اگر ایک الیکشن کے بعد مسلسل دوسرا الیکشن بھی متنازع ہو تو پھر پارلیمان کی اہمیت کیا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ پارلیمان جس کو ہم سپریم ادارہ کہتے ہیں، جس میں عوام کے براہ راست نمائندے بیٹھتے ہیں، اگر اسٹیبلشمنٹ براہ راست مداخلت کر کے ایک ایک حلقے سے اپنی مرضی سے نمائندوں کو چنے گی تو پھر ظاہر ہے کہ وہ عوام کا نمائندہ نہیں ہو گا، ایسی پارلیمنٹ کی کیا اہمیت ہو گی جسے عوام اپنا نمائندہ تصور نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بھی پارلیمنٹ میں بیٹھا ہو گا کہیں نہ کہیں سے کوئی انگلی اس کی طرف انگلی اٹھے گی کہ اس کو بھی تو ایجنسیوں اور اداروں نے پاس کیا ہے، یہ بھی تو اداروں کا بندہ ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انہوں نے جس کو مخالف دیکھا اس کے خلاف کرپشن کے کیس کر دیے، میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اس الیکشن میں ہماری اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کی 75سالہ تاریخ کے کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیے، شرم آنی چاہیے ان لوگوں کو، وردیاں عزت نہیں دیا کرتیں بلکہ وردی کے اندر کردار کی عزت ہوتی ہے، کم از کم جمعیت علمائے اسلام اس کردار سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت کے علمبردار ہیں، ہمارے بزرگوں نے اس آئین پر دستخط کیے ہیں، اس آئین کے بانی ہیں اس لیے اس آئین کے تحفظ ہم اپنی ذمے داری تصور کرتے ہیں لیکن آئین کی کوئی حیثیت نہیں، آئین کاغذ کے چند ورقوں کے مجموعے کا نام ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں، جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ جمہوریت جو ہمارے آئین کے تحت قرآن و سنت کے تابع ہے اور اکثریت کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قرآن و سنت کے منافی فیصلہ دے سکے، ہم دنیا کو کیا جواب دیں گے، حاکمیت اعلیٰ تو اللہ رب العالمین کی ہے لیکن یہاں تو حاکمیت اعلیٰ ہماری پارلیمنٹ کی بھی نہیں ہے، ہمارے ملازمین کی حاکمیت ہے، کس طرح ہم اس نظام کے ساتھ چلیں گے۔

جمعیت علمائے اسلام(ف) کے قائد نے کہا کہ ہم مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے دوستوں کا احترام کرتے ہیں، ہم نے ساتھ مل کر تحریک چلائی ہے حالانکہ ہمارے کارکن سڑکوں پر ہوتے تھے اور ان پارٹیوں کے قائدین صرف کنٹینر پر ہوتے تھے اور تب بھی ہمیں قبول تھے اور میں آج ان سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ 2018 میں بھی آپ کا یہی مینڈیٹ تھا اور 2024 میں بھی آپ کا وہی مینڈیٹ ہے، کچھ سیٹیں اوپر نیچے ہو سکتی ہیں، اسی مینڈیٹ کے ساتھ آپ نے اس وقت کہا تھا کہ دھاندلی ہوئی ہے اور آج کہتے ہیں کہ الیکشن ٹھیک ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں پاکستان تحریک انصاف سے بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کا بھی تقریباً وہی مینڈیٹ ہے جو 2018 میں تھا، اس وقت آپ حکومت بنا رہے تھے تو الیکشن شفاف تھے، آج آپ حکومت نہیں بنا سکتے تو الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے، اس وقت موقف کچھ اور اس دفعہ کا موقف کچھ اور تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے ہے جس نے اس وقت دھاندلی ہوئی تو کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے اور آج بھی ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے اور ہم الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں ہے، جب پارلیمنٹ اہمیت کھو بیٹھے گی اور بظاہر ایک بنی بنائی پارلیمنٹ ہو جو عوام کی منتخب نظر نہ آئے اور اس پر تحفظات ہوں تو سوچنا تو جائز ہے ناں کہ ہم آئندہ کے لیے سیاست کا حصہ بنیں یا نہ بنیں، پھر ہم پارلیمانی سیاست کریں یا نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اور مسلم لیگ(ن) شامل ہو یا مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہو تو پیپلز پارٹی شامل ہو، یہ روز ایک دوسرے کو بلیک میل کرتے رہیں گے، حکمران ہر وقت اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھے گا کہ کہیں سرک تو نہیں گئے، آئے روز اس کے اپنے ہی حلیف اور شریک حکومت کے مطالبات آتے رہیں گے اور وہ پورے کرسکیں یا نہیں کر سکیں گے کچھ معلوم نہیں، ظاہر ہے دیوار کے پیچھے کچھ خفیہ قوتیں ہوں گی اور وہیں ان کو چلائیں گی۔

فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری فوج ملکی دفاع کی صلاحیت رکھے، بیرونی دشمن تو دور کی بات ہم تو 20سال سے ملک کے اندر دہشت گردی کے خلاف ان کی جنگ کو دیکھ رہے ہیں، دہشت گردی بڑھ رہی ہے اور ان کی جنگ ختم نہیں ہو رہی، عسکریت پسندی بڑھ رہی ہے اور یہ پتا نہیں کیا کھیل، کھیل رہے ہیں۔

جے یو آئی(ف) کے سربراہ نے کہا کہ میں واضح اعلان کرتا ہوں کہ میں دفاعی قوت پر تنقید نہیں کررہا ہوں لیکن میری دفاعی قوت سیاسی قوت بن گئی ہے تو سیاسی قوت پر تنقید کرنا میرا حق بنتا ہے، وہ دفاعی قوت رہیں گے تو سر کا تاج ہیں۔

مشہور خبریں۔

الاقصیٰ طوفان آپریشن کے اسرائیلی فوج پر اثرات

?️ 15 جنوری 2024سچ خبریں:ایک متعلقہ رپورٹ میں، اقتصادی اخبار Calcalist نے اعلان کیا کہ

ججز کو ڈرانے کے لیے کیا کہا جا رہا ہے؟فواد چوہدری کی زبانی

?️ 21 جولائی 2024سچ خبریں: فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ججز کو ڈرانے کے

افغانستان میں اربوں ڈالر خرچ ہوئے مگر دہشت گرد گروہ کنٹرول نہیں کیے جاسکے، نگران وزیراعظم

?️ 14 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نےکہا ہے کہ افغانستان

امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا او آئی سی سے بڑا مطالبہ

?️ 21 مارچ 2022اسلام آباد (سچ خبریں)سراج الحق نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ

بھارت نے حملوں کے دوران شہریوں اور مساجد کو نشانہ بنایا۔ خواجہ آصف

?️ 9 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ

سیلاب متاثرین کی امداد اجتماعی کام، نمبر بنانے کی ضرورت نہیں۔ چیئرمین سینیٹ

?️ 3 ستمبر 2025ملتان (سچ خبریں) چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ

تہران اور ریاض کے درمیان آئندہ ملاقات سفارتی سطح پر ہو گی: روس الیوم

?️ 1 جولائی 2022سچ خبریں:   عراقی حکومت کے ایک ذریعہ نے جمعرات کی شام اعلان

پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ کے بیانات مسترد کردیئے

?️ 11 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ کے بیانات مسترد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے