یورپی ممالک اور امریکہ نے صہیونی کو ویزا دینے کے قوانین سخت کردیے

صہیونی

?️

یورپی ممالک اور امریکہ نے صہیونی کو ویزا دینے کے قوانین سخت کردیے
رپورٹوں کے مطابق یورپی ممالک اور امریکہ نے اسرائیلی شہریوں  کو اقامت اور شہریت دینے کے قوانین سخت کر دیے ہیں، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں غزہ جنگ کے بعد کی سکیورٹی خدشات اور بڑھتے سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہیں۔
بدھ کو شفق نیوز کے مطابق، حالیہ مہینوں میں امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے اسرائیلی درخواست گزاروں کے لیے جو نئی پیچیدگیاں پیدا کی گئی ہیں، وہ ماضی کے مقابلے میں غیر معمولی ہیں، خاص طور پر 2023 سے پہلے اس عمل میں نرمی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی انٹیلیجنس ادارے اس امکان سے پریشان ہیں کہ غزہ میں ملوث اسرائیلی فوجی، جن پر جنگی جرائم یا نسل کشی کے الزامات ہیں، شہریت حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔اسی لیے ویٹینگ (جانچ پڑتال) کے مراحل میں سختی بڑھا دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یورپ اور امریکہ میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی حکومتوں پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ اسرائیل کی پالیسیاں اور غزہ جنگ کے اقدامات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
اسی پس منظر میں اسرائیلی شہریوں کو اقامت، ورک پرمٹ اور شہریت دینے میں نمایاں رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔مزید یہ کہ یورپی ممالک میں اسرائیل کی مقبولیت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔
اسرائیلی اخبار ہاآرتص کے مطابق، اسرائیلی شہریوں کو یورپ میں شہریت حاصل کرنے کے عمل میں نئی قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔حالیہ برسوں میں دسیوں ہزار صہیونی بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں اور جنگ ۷ اکتوبر (طوفان الاقصیٰ) کے بعد یہ رجحان مزید بڑھ گیا ہے۔یورپ اور شمالی امریکہ میں شہریت دینے والے اداروں نے اسرائیلی درخواست گزاروں کے لیے اضافی سیکورٹی چھان بین نافذ کر دی ہے۔
اس حوالے سے تجزیہ کار نزار نزال کا کہنا ہے کہ پہلے اسرائیلی لابی کے مضبوط اثر و رسوخ کی وجہ سے صہیونی شہری آسانی سے مغربی ممالک کی شہریت اور اقامت حاصل کر لیتے تھے۔
لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے، حتیٰ کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ صہیونی لابی کا اثر کم ہوا ہے۔
اسرائیلی پارلیمان کے تحقیقاتی مرکز کے مطابق، 2020 سے 2024 کے درمیان اسرائیلی ہجرت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور 1,45,000 سے زائد اسرائیلی مستقل طور پر سرزمینِ اشغالی چھوڑ چکے ہیں۔

مشہور خبریں۔

عکاظ: اسرائیل کا ہدف عرب ممالک پر مکمل تسلط ہے، ان کے ساتھ معمول پر لانا نہیں

?️ 30 جولائی 2025سچ خبریں: سعودی اخبار عکاظ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ "غزہ

کیا نواز شریف آرمی چیف کو برطرف کر سکتے تھے؟

?️ 26 جون 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا

چین نے امریکہ اور انگلینڈ کے جنگی جرائم کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا

?️ 19 جولائی 2022سچ خبریں:    برطانوی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق

آئی ایم ایف مشن کی پاکستان آمد، نگران وزیرخزانہ کی حکومتی اقدامات پر بریفنگ

?️ 3 نومبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ نگران وفاقی

غزہ کی پٹی پر اے ایف پی کا بے مثال بیان

?️ 23 جولائی 2025سچ خبریں: فرانسیس خبررساں ادارے (اے ایف پی) نے ایک سرکاری بیان جاری

امریکہ اور اسرائیل کے دوسرے حامی غزہ میں نسل کشی کے ذمہ دار

?️ 20 اکتوبر 2024سچ خبریں: حماس نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ ہم امریکی حکومت

یمن، شام، لیبیا اور افغانستان کے بحران قابل حل ہیں:اقوام متحدہ

?️ 12 مارچ 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ یمن،

مقبوضہ فلسطین کے علاقے کرمیٹ کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے میں ہفتوں سے خلل

?️ 2 نومبر 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کے میڈیا نے مقبوضہ فلسطین کے کرمٹ علاقے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے