?️
سچ خبریں: جنوبی یمن کی لبریشن فرنٹ کے سیکرٹری عارف العامری نے ملک کے مقبوضہ صوبوں میں ہونے والی تبدیلیوں اور جارح اتحادیوں کے دستوں کے درمیان جھڑپوں کے رد عمل میں بات کی ہے
واضح رہے کہ کہ گزشتہ نومبر سے یمن میں ہونے والے واقعات، بندرگاہ مکلہ پر سعودی فضائی حملوں سے لے کر مختلف جماعتوں کے مسلسل بیانات اور یمن سے امارات کی دستبرداری کے حکم تک، یہ سب ظاہر کرتے ہیں کہ مقبوضہ جنوبی اور مشرقی یمنی صوبوں میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ جارح اتحادیوں کے مابین اثر و رسوخ اور طاقت کی جنگ ہے، نہ کہ کوئی خود رو اور اچانک واقعہ۔
عارف العامری نے اس بات پر زور دیا کہ جارح اتحاد کے اراکین کے درمیان تصادم کوئی نئی بات نہیں ہے اور اس کی جڑیں جغرافیائی، سیاسی، عسکری اور معاشی تنازعات میں دہائیوں پرانی ہیں۔ آج ہر فریق کوشش کر رہا ہے کہ وہ خود کو خطے میں صیہونی منصوبے کو نافذ کرنے کے لیے سب سے موثر آلے کے طور پر پیش کرے، اور انہیں اس مقصد کے حصول کے لیے مقبوضہ جنوبی اور مشرقی یمنی علاقوں سے بہتر کوئی محاذ نظر نہیں آیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایجنڈا اندرونی غلاموں کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے جنہیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے منصوبوں کی خدمت کے لیے سستے اوزار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یمن سے اپنے عناصر کی واپسی کے لیے سعودی عرب کی امارات کو 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن بغیر میدان میں کوئی حقیقی انخلا ختم ہو گئی، اور باوجود اس کے کہ امارات کی وزارت دفاع نے یمن میں اس کی فوجی موجودگی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، ابھی بھی ابوظبی یمنی سرزمین پر موجود ہے۔
اس یمنی شخصیت نے بیان دیا کہ متحدہ عرب امارات نے اس سے پہلے 2019 میں یمن سے اپنی مکمل واپسی کا اعلان کیا تھا، لیکن ابوظبی کی فوجی موجودگی، خاص طور پر یمن کے جزائر اور حالیہ برسوں میں تعمیر کی گئی اسٹریٹجک سہولیات میں، بدستور جاری ہے۔
العامری نے واضح کیا کہ امارات نے یمن کے جزائر میون، عبدالکری، سقطری اور مغربی ساحلی بندرگاہوں میں اپنے فوجی اڈوں اور ہوائی اڈوں کو برقرار رکھا ہے۔ ابوظبی نے جارح اتحاد کے اعلان کردہ فریم ورک سے بھی انحراف کیا ہے اور اہم بندرگاہوں اور تجارتی آبی گزرگاہوں پر براہ راست کنٹرول حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے یہ اقدامات سعودی عرب کے لیے باعث تشویش بنے ہوئے ہیں، خاص طور پر جب کہ امارات سے وابستہ جنوبی ٹرانزیشنل کونسل کے عناصر کا معدنی علاقوں اور خاص طور پر حضرموت، شبوا اور المہرہ صوبوں میں تیل اور گیس کے میدانوں پر تسلط جمانے کا سلسلہ جاری ہے۔
اس یمنی شخصیت نے زور دے کر کہا کہ یقیناً سعودی عرب کی یہ تشویش یمن کی وحدت کو برقرار رکھنے یا اس کے عوام کی تکالیف کو کم کرنے کی فکر کی وجہ سے نہیں، بلکہ جارح اتحاد کے کیمپ میں مفادات کے تضاد کی وجہ سے ہے۔ ان جھڑپوں کے حقیقی فاتح یمنی عوام نہیں، بلکہ امریکہ اور صیہونی ریگیم ہیں۔
عارف العامری نے اختتام پر کہا کہ مارچ 2015 میں یمن کے خلاف جارح اتحاد کی جنگ کے پہلے دن سے ہی یمن نے زور دیا ہے کہ اس جارحیت کا بنیادی مقصد گمراہ کن بہانوں، خاص طور پر اس نام نہاد جائز حکومت کی بحالی کے بہانے، یمن کو تقسیم اور پارہ پارہ کرنا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
بحرین اور صیہونی حکومت کے درمیان نیا مالی تعاون
?️ 2 جنوری 2023سچ خبریں:صیہونی وزارت انصاف نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی
جنوری
پٹرول کی قیمتوں نے عوام سے عید کی خوشیاں چھین لیں۔ شرمیلا فاروقی
?️ 7 مارچ 2026کراچی (سچ خبریں) رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے کہا ہے کہ
مارچ
سعودی اتحاد کی صنعا کے دو رہائشی مکانات پر بمباری؛ 8 شہید، 4 زخمی
?️ 27 مارچ 2022سچ خبریں:سعودی اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے یمنی دارالحکومت میں دو رہائشی
مارچ
امید ہے اب افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی
?️ 17 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا
اگست
اسرائیلی فوج بدترین حالت میں
?️ 5 مئی 2025سچ خبریں: محفوظ جنرل اسحاق بریک نے عبرانی میڈیا میں شائع ہونے والے
مئی
اسرائیل حزب اللہ کی آگ کی زد میں
?️ 25 نومبر 2024سچ خبریں: گذشتہ روز حزب اللہ کی طرف سے مقبوضہ فلسطین کے
نومبر
حکومت کو قومی اسمبلی میں سبکی، اپوزیشن نے انکم ٹیکس ترمیمی بل کی منظوری روک دی
?️ 16 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی اسمبلی میں جمعرات کو حکومت کو اس
مئی
غزہ میں اسرائیل دانستہ طو رپر جنگ بندی کو سبوتاژ کرہا ہے: حماس
?️ 24 فروری 2026غزہ میں اسرائیل دانستہ طو رپر جنگ بندی کو سبوتاژ کرہا ہے:
فروری